بہاولپور: آئل ٹینکر میں آگ لگنے سے 139 افراد ہلاک، درجنوں جھلس گئے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
فائربریگیڈ کے عملے نے کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور میں تیل سے بھرا ٹینکر الٹنے کے بعد آگ لگنے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 139 ہو گئی ہے جبکہ درجنوں افراد جھلس گئے ہیں۔

یہ حادثہ اتوار کی صبح ضلع بہاولپور کے علاقے احمد پور شرقیہ کے قریب قومی شاہراہ پر پیش آیا۔

آئل ٹینکر میں آتشزدگی سے ہلاکتیں

مسافر بس اور آئل ٹینکر کے درمیان ٹکر کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں

وزیر اعلیٰ پنجاب کے خصوصی مشیر برائے صحت سلمان رفیق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 139 ہو گئی ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ 123 افراد کو مردہ حالت ہی میں ہسپتال لایا گیا تھا جبکہ 16 افراد نے ہسپتال میں دم توڑا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے سے وہاں کھڑی 75 موٹر سائیکلیں، تین کاریں اور ایک رکشہ بھی آگ کی لپیٹ میں آئے اور مکمل طور پر جل گئے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ادارے کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچے اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔

ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ زخمیوں کی تعداد 140 تک ہے جن میں سے 21 بہاولپور جبکہ 59 ملتان میں ہیں دیگر زخمیوں اردگرد کے شہروں میں منتقل کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ چھ سے ساتھ ایسے زخمی جن کی ہسپتال پہنچ کر وفات ہو گئی کے جسد خاکی اہلِ خانہ کے حوالے کیے گئے ہیں تاہم دیگر تمام ہلاک شدگان کی لاشیں سرد خانے میں ہی موجود ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ضلع بہاولپور میں آئل ٹینکر حادثہ

حادثہ کیسے ہوا

ڈی سی او بہاولپور سلیم افضل کا کہنا تھا کہ کراچی سے لاہور جانے والا یہ ٹینکر احمد پور شرقیہ سے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر تیزرفتاری کے باعث پھسل کر سڑک سے نیچے کھیتوں میں جا گرا اور اس سے تیل رسنا شروع ہو گیا۔

ڈی سی او کے مطابق حادثے کے بعد قریبی دیہات سے سینکڑوں افراد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے موقع پر جمع ہو گئے اور تیل جمع کرنے لگے۔

سلیم افضل نے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کو بتایا کہ یہ افراد ٹینکر کے گرد جمع تھے کہ اچانک اس میں آگ بھڑک اٹھی جس نے ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پولیس حکام کے مطابق آگ بھڑکنے کے نتیجے میں 50 سے زیادہ افراد تو موقع پر ہی جل کر ہلاک ہوئے جبکہ بقیہ نے ہسپتال لے جاتے ہوئے یا پھر ہسپتال میں دم توڑا۔

امدادی کارروائیاں

اے پی پی نے مقامی پولیس کے حوالے سے کہا ہے کہ ٹینکر الٹنے کے بعد جب موٹر وے پولیس کے اہلکار وہاں پہنچے تو ایک بڑا ہجوم تیل اکٹھا کرنے جمع ہو چکا تھا اور پولیس اہلکاروں کے منع کرنے کے باوجود وہ جائے حادثہ سے دور نہیں گئے۔

احمد پور شرقیہ کے تحصیل ہسپتال کے ایم ایس کے مطابق زخمیوں کو احمد پور شرقیہ میں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد بہاولپور اور ملتان کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتالوں اور بہاولپور کے وکٹوریہ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

طبی حکام کے مطابق اس حادثے میں جھلسنے والے افراد میں سے بیشتر کے جسم کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ جلا ہے۔

جائے حادثہ سے موصول ہونے والی تصاویر میں ٹینکر کے اردگرد درجنوں سوختہ لاشوں کو دیکھا جا سکتا ہے اور طبی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی لاشوں کی شناخت صرف ڈی این اے سے ہی ممکن ہو سکے گی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے خصوصی مشیر برائے صحت سلمان رفیق نے بتایا کہ فورنزک ٹیموں نے ہلاک شدگان کے ڈی این اے لے لیے ہیں اور اب رشتہ داروں کے لیے جائیں گے تاکہ شناخت ہو سکے۔

انھوں نے کہا کہ فی الحال ہلاک ہونے والوں کو امانتاً دفنایا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

آئی ایس پی آر کے مطابق شدید زخمیوں کو برن سنٹرز منتقل کرنے کے لیے پاکستانی فوج نے چار ہیلی کاپٹر روانہ کر دیے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں ماضی میں بھی ٹریفک حادثات کے دوران آئل ٹینکرز میں آگ بھڑکنے سے ہلاکتوں کے بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

گذشتہ برس فروری میں ضلع شیخوپورہ میں آئل ٹینکر اور کار میں تصادم کے بعد لگنے والی آگ سے دس افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2015 میں کراچی کے قریب شکارپور جانے والی ایک مسافر بس اور آئل ٹینکر کی ٹکر کے نتیجے میں 62 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں