چین کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان اجلاس کی میزبانی کی پیشکش

چین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی اور سفارتی کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک کی قیادت کے مشترکہ اجلاس کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔

یہ پیشکش پاکستان کے دورے پر آئے چینی وزیر خارجہ وانگ زی نے اتوار کے روز صدر پاکستان ممنون حسین کے ساتھ ملاقات میں کی۔

اس موقع پر وزیر اعظم کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ، چین کے سفیر سن وی ڈونگ، افغان امور کے لیے چین کے خصوصی نمائندے ڈینگ ژی جن کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

پاک افغان کشیدگی پر چین کو تشویش

شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع پر چینی تشویش

دہشت گردی کو کسی ایک ملک سے نہیں جوڑا جا سکتا: چین

دفتر خارجہ کے مطابق صدر پاکستان نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے چینی وزیر خارجہ کی کوششوں کی تعریف کرتے کہا کہ ان کوششوں سے خطے میں کشیدگی میں یقیناً کمی ہو گی اور امن بحال ہو گا۔

ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق چین کے وزیر خارجہ نے اس موقع پر پاکستانی قیادت کو باور کروایا کہ پچھلے چند سالوں کے دوران پاکستان نے جو اقتصادی استحکام حاصل کیا ہے اس سلسلے کو جاری رہنا چاہیے اور یہ کہ خطے میں کشیدگی معاشی ترقی کے لیے زہر قاتل ہے۔

صدر پاکستان نے اپنے ملک کی ترجمانی کرتے ہوئے چین کی ان کوششوں کی تعریف کی اور کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے لیے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

ممنون حسین نے توقع ظاہر کی ہے کہ چین کی مخلصانہ کوششوں سے خطے میں مستقل طور پر امن و استحکام پیدا ہو جائے گا۔

صدر مملکت نے کہا کہ افغانستان اور خطے میں استحکام کے سلسلے میں چین کی سنجیدہ کوششیں اس کے اخلاص کی مظہر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان، افغانستان میں استحکام کے لیے چین کے مثبت کردار کی قدر کرتا ہے۔‘

چینی وزیر خارجہ کابل میں حکام سے ملاقاتوں کے بعد سنیچر کی شام پاکستان پہنچے تھے جہاں وہ اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کے دورے کا مقصد افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے چین کی ان کوششوں میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

اتوار کے روز ایوان صدر میں ہونے والی ملاقاتوں میں بھی چینی حکام کو بتا دیا گیا ہے کہ پاکستان چین کی اس پیشکش پر مکمل تعاون کرے گا جس میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ملاقات کا اہتمام کرنے کی پیشکش کی گئی۔

خیال رہے کہ اس قبل چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی سرحدی کشیدگی اور سیاسی و سفارتی چپقلش پر اپنی تشویش سے دونوں ملکوں کی حکومتوں کو آگاہ کیا تھا۔

بعض سینیئر پاکستانی حکام کے مطابق چینی وزیر خارجہ کے ان دونوں ملکوں کے اس ’ہنگامی‘ دورے کا مقصد افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور غلط فہمیاں خطے میں جو صورتحال پیدا کر رہی ہے اس سے خطے میں جاری ترقی کے ایجنڈے کو بھی خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان نے دونوں ملکوں میں حالیہ دنوں میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا ہے۔

اسی بارے میں