خزانے ڈاٹ کام: پاکستان کا آن لائن ’لنڈا‘ بازار

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستان میں اب لنڈا بازار بھی آن لائن

'جب ہم نے اپنی ویب سائٹ شروع کی تو پہلے دن ہمیں چھ یا سات آڈر ملے لیکن اب روزانہ تقریبا 50 سے زیادہ آڈر مل رہے ہیں۔ ہماری طرز کی ویب سائٹ دنیا خصوصاً پاکستان میں کہیں اور نہیں ہے۔'

یہ باتیں ہیں کراچی کے دو نوجوان لڑکوں کی جنھوں نے چارٹرڈ اکاؤنٹنگ کی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد ملازمتوں کا کچھ عرصہ تجربہ کیا لیکن پھر انھیں مزا نہیں آیا تو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ٹھانی۔

یہ ہیں پاکستان میں استعمال شدہ جوتوں اور شرٹس کی خریداری کے لیے بنائی گئی پہلی ویب سائٹ 'خزانے ڈاٹ کام' کے نوجوان بانی اور سی ای او محمد عثمان سلیم اور فریدون۔ دونوں نوجوانوں نے اچھی ملازمتیں چھوڑ کر ای کامرس پر اپنا کاروبار شروع کر کے اپنا مستقبل بنانے کی کوشش کی اور اب ڈیڑھ سال سے اسے چلا رہے ہیں۔

'لنڈا بازار اب سستے نہیں رہے'

جدید لنڈا بازار میں جوتے، کپڑے ہی نہیں اور بھی بہت کچھ

لنڈا بازار یا کروڑوں کا کاروبار؟

محمد عثمان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ دونوں ملازمتوں سے اکتا گئے تھے۔

'ہم نے سوچا چونکہ ای کامرس کا رجحان پاکستان میں بڑھ رہا ہے لہذا وہ انٹرنٹ پر ایسی مصنوعات کی خریدو فروخت شروع کرسکتے ہیں جو کوئی دوسرا نہ کر رہا ہو۔ پاکستان میں لوگ ایک عرصے سے استعمال شدہ اشیا خریدتے ہیں۔ یہاں ڈیفنس فیز ایٹ میں اتوار بازار لگتا تھا، لائٹ ہاؤس ہوگیا پھر مشرق سینٹر ہوگیا تو لوگ طویل عرصے سے خرید رہے تھے۔ یہاں سے ہمیں آئیڈیا آیا۔'

عثمان نے بتایا کہ دنیا میں ان کی طرح کی کوئی بھی دوسری ویب سائٹ نہیں ہے۔

'ہم نے یہ آئیڈیا امریکہ میں سلیکون ویلی میں جو دنیا کا سب سے بڑا انکیوبیشن سینٹر ہے، بھیجا اور وہ منتخب بھی ہوگیا، انھوں نے ہمیں وہاں بلایا بھی اور اسے پسند کیا۔ اگلے چھ ماہ میں وہ ہمیں امریکہ بلا لیں گے۔'

عثمان اور فریدون پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک اچھی مثال ہیں۔ لیکن اس سطح پر آنے میں ان کی مدد کراچی میں آئی بی اے میں قائم انکیوبیشن سینٹر نے بھی کی۔

'ہم جیسے نوجوان کاروبار کرنے والوں کی یہ لوگ کافی مدد کرتے ہیں۔ دفتر کے لیے جگہ کافی ارزاں فراہم دیتے ہیں۔ طلبہ انٹرنشپس کے لیے بھی یہاں آ جاتے ہیں تو ہماری کاروبار شروع کرنے کے اخراجات کافی کم ہوگئے۔'

لیکن کرائے اور مارکیٹنگ کے اخراجات پورے کرنے کے بعد بھی عثمان کہتے ہیں کہ ان کا کاروبار اب تک منافع بخش ثابت ہوا ہے۔ 'ہمیں اسے شروع کیے ہوئے ڈیڑھ سال ہوا ہے اور اب تک ہم دو کروڑ روپے سے اوپر کی اشیا فروخت کرچکے ہیں۔'

خریداروں کا ردعمل کیسا ہے؟ جواب میں عثمان نے بتایا 'ہم خریداروں کے خدشات کے مداوے کے لیے ہر چیز جیسے کہ جوتے کے معیار کے اعتبار سے ایک سے دس کے درمیان درجہ بندی کرتے ہیں۔ اس سے خریدنے والے کو آئیڈیا ہو جاتا ہے کہ اس چیز کی حالت کیسی ہو گی۔اس کے علاوہ ہر چیز کی صفائی دھلائی کے بعد تصاویر بھی ویب سائٹ پر دی جاتی ہیں۔ پھر پسند نہ آنے پر کمپنی کی واپسی کی بھی پالیسی موجود ہے۔'

اس ویب سائٹ کے ذریعے خریداروں کو بڑے عالمی برینڈز کے جوتے جو پاکستان میں دستیاب نہیں مل جاتے ہیں۔ اگر بالکل نئے جیسے جوتے ہوں تو ہم اسے اس کی اصل قیمت کے نصف پر فروخت کرتے ہیں۔ زیادہ استعمال شدہ 500 تک کا جوتا بھی مل جاتا ہے جسے ہم مفت میں گھر ارسال کر دیتے ہیں۔

29 سالہ عثمان نے کہا کہ انھوں نے کام کا آغاز جوتوں سے کیا جس کے بعد شرٹس بھی شامل کیں کیونکہ یہاں شرٹس کافی بکتی ہیں۔

’اس کے علاوہ ہم نے آگے چل کر کھلونوں اور دیگر گھریلو اشیا بھی اس میں شامل کرنی ہیں۔ ہم نے مستقبل میں تمام کا تمام اتوار بازار آن لائن کر دینا ہے۔ اس سے توقع ہے کہ وہ لوگ جو لنڈا بازار جانے میں عار یا شرم محسوس کرتے ہیں وہ اب گھر بیٹھے اپنی پسند کی چیز خرید سکیں گے۔ ہاں قیمت فائنل ہوگی اور اتوار بازار کی طرح بارگیننگ ممکن نہیں ہوگی۔

عثمان کو فی الحال ایک اچھے سرمایہ کار کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کار ہیں لیکن وہ پوری کمپنی خریدنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سرمایہ ان کا ہو لیکن مداخلت کم ہو تو ہم اسے کافی آگے لے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں