ٹینکر حادثہ: ’یہ کہنا مشکل ہے کہ موقع پر کتنے بچے ہلاک ہوئے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
طبی حکام کے مطابق اس بات کا تعین کرنا بھی بہت مشکل ہے کہ موقع پر ہلاک ہونے والوں میں سے کتنے بچے تھے

پاکستان کے ضلع بہاولپور کے طبی حکام کا کہنا ہے کہ احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر کے حادثے کے بعد ہونے والی آتشزدگی سے زخکی ہونے والے مزید 12 زخمیوں کی ہلاکت کے بعد ہلاک شدگان کی کل تعداد 157 تک پہنچ گئی ہے۔

اتوار کی صبح پیش آنے والے اس حادثے میں 100 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے تھے جن کا علاج پنجاب کے مختلف ہسپتالوں میں جاری ہے۔

ان زخمیوں میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

بہاولپور: لواحقین کو اپنے پیاروں کی تلاش

آئل ٹینکر میں آتشزدگی سے ہلاکتیں:تصاویر

طبی ذرائع کے مطابق 23 افراد کی لاشیں شناخت کے بعد ان کے لواحقین کے حوالے کی جا چکی ہیں۔

بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال کی میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر طاہرہ پروین نے منگل کو 157 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز کو بتایا ان میں سے 125 افراد کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
آئل ٹینکر حادثہ: ناقابل شناخت لاشوں کی عارضی تدفین

ان کا کہنا تھا کہ ان لاشوں سے ڈی این اے کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں اور انھیں منگل کو امانتاً سپردِ خاک کیا گیا ہے۔

بہاولپور کے اسسٹنٹ کمشنر راؤ تسلیم اختر کے مطابق 86 خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ڈی این اے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں جنھیں لاشوں سے حاصل کردہ نمونوں سے ملایا جائے گا۔

ڈاکٹر طاہرہ نے کہا کہ ڈی این اے کے تجزیے کے نتائج آنے میں عموماً دو ہفتے کا وقت لگتا ہے اور لاشوں کی شناخت کے بعد قبر کشائی کر کے انھیں لواحقین کے حوالے کر دیا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات کا تعین کرنا بھی بہت مشکل ہے کہ موقع پر ہلاک ہونے والوں میں سے کتنے بچے تھے تاہم دورانِ علاج ہلاک ہونے والوں اور زیرِ علاج زخمیوں میں بچے شامل ہیں۔

بہاولپور میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ 125 لاشوں کو بذریعہ ٹرک احمد پور شرقیہ منتقل کیا گیا جہاں انھیں اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption طبی ذرائع کے مطابق 23 افراد کی لاشیں شناخت کے بعد ان کے لواحقین کے حوالے کی جا چکی ہیں

ادھر پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ بھی درج کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ مقدمہ حادثے میں ہلاک ہونے والے ایک نوجوان محمد عمران کے بھائی محمد اصغر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں ٹینکر کے مالک، مینیجر اور ڈرائیور پر غفلت برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا تھا جب 25 ہزار لیٹر تیل لے جانے والا ایک آئل ٹینکر تیز رفتاری کے باعث بستی رمضان جوئیہ کے قریب الٹ گیا تھا جس کے بعد مقامی افراد اس سے رسنے والا تیل جمع کرنے کے لیے اکٹھے ہوگئے تھے۔

اسی دوران نامعلوم وجہ سے اس ٹینکر میں آگ لگ گئی تھی جس نے وہاں موجود سینکڑوں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے ہلاک شدگان کو 20 لاکھ روپے فی کس زرِ تلافی دینے کے علاوہ اس واقعے کی مکمل انکوائری کروانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں