سانحۂ احمد پور شرقیہ کے بعد لواحقین کو اپنوں کی تلاش

آگ

جوں ہی خبر پھیلی کہ تیل کا ٹینکر پھٹ گیا ہے اور وہاں آگ لگ گئی ہے، محمد حیات نے اپنے خاندان والوں کی خبر لی۔ ان کی بیوی، دو بچے، چھوٹا بھائی اور بھابھی بھی وہیں گئے تھے جو لوٹ کر نہیں آئے۔

کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔ سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ سو سے زیادہ زخمی بھی ہو گئے جنھیں ہسپتالوں میں منتقل بھی کر دیا گیا۔ مگر محمد حیات کو اپنے پیاروں کی کوئی خبر نہیں ملی۔

’یہ کہنا مشکل ہے کہ موقع پر کتنے بچے ہلاک ہوئے‘

ان کی بیوی، ایک سات سالہ بیٹا اور ایک 13 سالہ بیٹی ان کے چھوٹے بھائی اور بھابھی کے ساتھ ان کے گاوں بستی داد پوتڑا سے دو کلو میٹر دور پکی پل کے پاس سڑک کے کنارے الٹنے والے پٹرول کے ٹینکر کو دیکھنے گئے تھے۔

ان کی تلاش میں محمد حیات پہلے قریب واقع بہاولپور وکٹوریا ہسپتال گئے۔ وہ وہاں نہیں تھے۔ وہ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال بھی گئے مگر ان کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔ جس کے بعد پہلی بار محمد حیات کو خدشات نے گھیرا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوے انھوں نے بتایا کہ بہاولپور وکٹوریا ہسپتال سے انھیں معلوم ہوا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 125 افراد ایسے تھے جن کی شناخت ممکن نہیں ہو پائی تھی۔

’مجھے ڈاکٹروں نے بتایا کہ کچھ زخمیوں کی حالت زیادہ خراب تھی جن کو ملتان کے ہسپتال بھیجا گیا ہے۔ میں اسی رات وہاں چلا گیا۔‘

ملتان میں اس علاقے کا واحد برن سنٹر یعنی جھلسے ہوئے افراد کے علاج کا مرکز موجود تھا جو کہ جائے وقوع سے تقریبا 100 کلو میٹر دور تھا اس لیے زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے یہاں پہنچایا گیا۔

نشتر میڈیکل ہسپتال ملتان کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالرحمن قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ برن سنٹر میں لائے جانے والے افراد 70 سے 90 فیصد جھلسے ہوئے تھے۔

ایسی حالت میں زخمیوں کے جانبر ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

یہاں محمد حیات کو صرف ان کی بیٹی زخمی حالت میں ملی۔ ان کے بد ترین خدشات اب یقین میں بدلنے لگے تھے۔ ان کی بیٹی ہوش میں تھیں مگر کچھ بتانے کے قابل نہیں تھیں۔

ڈاکٹر طاہرہ پروین کے مطابق ملتان بھیجے جانے والے 59 زخمیوں میں سے منگل کے روز تک 14 کی موت ہو چکی تھی۔

ان کے خاندان والوں کے نہ ملنے کی خبر محمد حیات کے گھر پہنچی تو وہاں صف ماتم بچھ گئی۔ مگر یہ اس دیہات میں اور گردونواح میں واقع دیگر بستیوں میں صرف ایک گھر کی کہانی نہیں۔

ایسے بے شمار گھر ہیں جن میں ایک سے زیادہ افراد ٹینکر میں لگنے والی آگ کی نظر ہوئے۔ کچھ گھروں میں یہ تعداد پانچ سے بھی زیادہ ہے۔

تقریباً اسی دیگر خاندانوں کی طرح محمد حیات بھی اپنے ڈی این اے کے نمونے ہسپتال میں جمع کروا آئے ہیں۔

’اور ہم کہاں جاتے۔ ہسپتال والوں نے بولا ہے کہ اگر ڈی این اے میچ ہو گیا تو وہ ہمیں بلائیں گے اور اگر نہ ہو سکا تو۔۔۔‘

وہ جملہ مکمل نہیں کر پائے۔ محمد حیات شاید اپنے بدترین خدشات سے سمجھوتا کرنے اور امید کے درمیان کی کشمکش میں تھے۔ مگر وہ غصے میں بھی تھے۔

’پولیس کیوں نہیں آئی؟ انھوں نے لوگوں کو کیوں نہیں روکا کہ وہ پٹرول کے قریب نہ جائیں۔ اگر پولیس نے اپنا کام کیا ہوتا تو اتنے لوگ نہ مرتے۔‘

واقعے کے عینی شاہدین آگ لگنے کے حوالے سے مختلف آرا رکھتے ہیں۔ محمد حیات کے مطابق آگ ٹینکر الٹنے کے ایک گھنٹے نعد لگی۔ زیادہ تر دیگر افراد ان کی اس بات کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔ تاہم کچھ افراد کے مطابق ٹینکر کو آگ تقریباً پٹرول لیک ہونے کے آدھ گھنٹے بعد لگی۔

تاہم عینی شاہدین کے مطابق چند ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کے علاوہ پولیس آگ لگنے سے پہلے اس جگہ نہیں پہنچی۔ ان کے خیال میں اگر پولیس پہنچ جاتی تو وہ لوگوں کو پٹرول اکٹھا کرنے سے روک سکتی تھی اور یہ حادثہ نہ ہوتا۔

125 افراد جن کی شناخت نہیں ہو پائی انھیں ڈی این اے کے نمونے لینے کے بعد امانتاً منگل کے روز دفن کر دیا گیا تھا۔ بہاولپور وکٹوریا ہسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طاہرہ پروین کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج آنے میں دو ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے جس کے بعد شناخت ہونے والوں کو قبروں سے نکال کر ان کے لواحقین کے حوالے کر دیا جائے گا۔

محمد حیات کو اب یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر ان کا ڈی این اے میچ نہ ہو پایا تو کیا ہو گا۔ ان کے لیے یہ دو ہفتے کا وقت ایک طویل اور تکلیف دہ انتظار ہو گا۔

حکومت کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 20 لاکھ اور زخمیوں کے لیے دس لاکھ کا اعلان کیا گیا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس رقم سے ان کے پیاروں کی اموات کا مداوا ہو پائے گا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں