ریمنڈ ڈیوس کی آخری پیشی

ریمنڈ ڈیوس کی کتاب تصویر کے کاپی رائٹ BenBella Books

امریکی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے حال ہی میں شائع ہونے والی سنسنی خیز آپ بیتی 'دا کنٹریکٹر' میں اپنی گرفتاری، مختلف اداروں کی جانب سے تفتیش، مقدمے، اور بالآخر رہائی کا ذکر بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے۔

اس دوران سب سے ڈرامائی دن مقدمے کا آخری دن تھا جب لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قائم کردہ خصوصی سیشن کورٹ میں ریمنڈ ڈیوس پر قتل کی فردِ جرم عائد ہونا تھی۔ ڈیوس لکھتے ہیں کہ انھیں اس رات نیند نہیں آئی۔

٭ جب امریکہ اور پاکستان آمنے سامنے آ گئے

عدالت میں پنجرہ

عدالت میں اس دن معمول سے زیادہ بھیڑ تھی۔ ڈیوس کو سٹیل کے پنجرے میں بند کر کے جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کا مقصد مجھے لوگوں سے بچانا ہے یا پھر لوگوں کو مجھ سے محفوظ رکھنا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کتاب کے مطابق مائیکل ملن اور جنرل کیانی کے درمیان اومان میں خفیہ ملاقات ہوئی جس میں ریمنڈ ڈیوس کی رہائی پر غور کیا گیا

اس دوران وہاں موجود لوگوں کے رویے سے انھیں لگا جیسے وہ سبھی لوگ جج کی جانب سے ان کے قصوروار ہونے کا فیصلہ سنائے جانے کے منتظر ہیں تاکہ ’اس کے بعد وہ مجھے گھسیٹ کر کسی قریبی درخت سے لٹکا کر پھانسی دے دیں۔‘

عمان میں ٹاپ سیکرٹ ملاقات

ڈیوس کو عدالت میں ایک حیران کن بات یہ نظر آئی کہ اس دن وکیلِ استغاثہ اسد منظور بٹ غیر حاضر تھے جنھوں نے اس سے قبل خاصی سخت جرح کر رکھی تھی اور ان کا دعویٰ تھا کہ ڈیوس نے فیضان حیدر کو بغیر کسی وجہ کے ہلاک کیا ہے۔

کتاب کے مطابق بعد میں منظور بٹ نے کہا کہ جب وہ اس صبح عدالت پہنچے تو انھیں پکڑ کر کئی گھنٹوں تک قید رکھا گیا اور کارروائی سے دور رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے کلائنٹس سے بھی ملنے نہیں دیا گیا۔

'دا کنٹریکٹر' کے مطابق یہ معاملہ اس قدر اہمیت اختیار کر گیا کہ 23 فروری 2011 کو پاکستانی اور امریکی فوج کے سربراہان جنرل کیانی اور ایڈمرل مائیک ملن کے درمیان عمان میں ایک ٹاپ سیکرٹ ملاقات ہوئی جس کا بڑا حصہ اس بات پر غور کرتے ہوئے صرف ہوا کہ پاکستان عدالتی نظام کے اندر سے کیسے کوئی راستہ نکالا جائے کہ کسی نہ کسی طرح ڈیوس کی گلوخلاصی ہو جائے۔

موبائل فون پر مسلسل رابطہ

16 مارچ کی دوپہر کو جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو جج نے صحافیوں سمیت تمام غیرمتعلقہ لوگوں کو باہر نکال دیا۔ لیکن ایک شخص جو کارروائی کے دوران کمرۂ عدالت میں موجود رہے اور وہ تھے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل شجاع پاشا۔

Image caption جنرل احمد شجاع پاشا نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا

اس وقت ڈیوس کو معلوم نہیں تھا لیکن اسی دوران پسِ پردہ خاصی سرگرمیاں ہو رہی تھیں۔ ان سرگرمیوں کے روحِ رواں جنرل پاشا تھے، جو ایک طرف امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پنیٹا سے ملاقاتیں کر رہے تھے تو دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفیر کیمرون منٹر سے ان کی رابطے میں تھے۔

ڈیوس لکھتے ہیں کہ عدالت کی کارروائی کے دوران جنرل صاحب مسلسل کیمرون منٹر کو لمحہ بہ لمحہ کارروائی کی خبریں موبائل فون پر میسج کر کے بھیج رہے تھے۔

شرعی عدالت

عدالتی کارروائی چونکہ اردو میں ہو رہی تھی کہ ڈیوس کو پتہ نہیں چلا لیکن درمیان میں لوگوں کے ردِ عمل سے پتہ چلا کہ کوئی بڑی بات ہو گئی ہے۔ ڈیوس کے ایک امریکی ساتھی پال وکیلوں کا پرا توڑ کر پنجرے کے قریب آئی اور کہا کہ جج نے 'عدالت کو شرعی عدالت میں تبدیل کر دیا ہے۔'

'یہ کیا کہہ رہی ہو؟' ڈیوس نے حواس باختہ ہو کر کہا۔ 'میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔'

کتاب کے مطابق مقدمے کو شرعی بنیادوں پر ختم کرنے کے فیصلے کے منصوبہ سازوں میں جنرل پاشا اور کیمرون منٹر شامل تھے۔ پاکستانی فوج بھی اس سے آگاہ تھی جب کہ صدر زرداری اور نواز شریف کو بھی بتا دیا تھا کہ کیا کھچڑی پک رہی ہے۔

ڈیوس لکھتے ہیں کہ جنرل پاشا کو صرف دو دن بعد یعنی 18 مارچ کو ریٹائر ہو جانا تھا اس لیے وہ سرتوڑ کوشش کر رہے تھے کہ یہ معاملہ کسی طرح نمٹ جائے۔ اور جب یہ معاملہ نمٹا تو ان کی مدتِ ملازمت میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی اور مارچ 2011 کی بجائے مارچ 2012 میں ریٹائر ہوئے۔

'دا کنٹریکٹر' کے مطابق یہ جنرل پاشا ہی تھے جنھوں نے سخت گیر وکیلِ استغاثہ اسد منظور بٹ کو مقدمے سے الگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا جو یہ مقدمہ مفت لڑ رہے تھے۔

گن پوائنٹ پر

ریمنڈ ڈیوس لکھتے ہیں کہ جب دیت کے تحت معاملہ نمٹانے کا فیصلہ کیا گیا تو اس میں ایک اڑچن یہ آ گئی کہ مقتولین کے عزیزوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا، چنانچہ 14 مارچ کو آئی ایس آئی کے اہلکار حرکت میں آئے اور انھوں نے تمام 18 عزیزوں کو کوٹ لکھپت جیل میں بند کر دیا، ان کے گھروں کو تالے لگا دیے گئے اور ان سے موبائل فون بھی لے لیے گئے۔

کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیل میں ان لواحقین کے سامنے دو راستے رکھے گئے: یا تو وہ ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کا خون بہا قبول کریں ورنہ۔۔۔ کتاب میں لکھا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران ان لواحقین کو عدالت کے باہر گن پوائنٹ پر رکھا گیا اور انھیں کہا گیا کہ وہ میڈیا کے سامنے زبان نہ کھولیں۔

یہ لواحقین ایک ایک کر کے خاموشی سے جج کے سامنے پیش ہوتے، اپنا شناختی کارڈ دکھاتے اور رقم کی رسید لیتے رہے۔

یہ بات بھی خاصی دلچسپ ہے کہ یہ رقم کس نے دی؟ اس وقت کی امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے اس بات سے صاف انکار کیا تھا کہ یہ خون بہا امریکہ نے ادا کیا ہے۔ تاہم بعد میں خبریں آئیں کہ رقم آئی ایس آئی نے دی اور بعد میں اس کا بل امریکہ کو پیش کر دیا۔

جونھی یہ کارروائی مکمل ہوئی، ریمنڈ ڈیوس کو ایک عقبی دروازے سے نکال کر سیدھا لاہور کے ہوائی اڈے پہنچایا گیا جہاں ایک سیسنا طیارہ رن وے پر ان کا انتظار کر رہا تھا۔

اور یوں پاکستان کی عدالتی، سفارتی اور سیاسی تاریخ کا یہ عجیب و غریب باب بند ہوا۔

اسی بارے میں