’حکومت کم از کم ہمارے جینے کے حق کو تسلیم کرے‘

اسلام آباد احتجاجی کیمپ
Image caption احتجاجی کیمپ کی دیواروں پر مختلف تنظیموں کے بینرز لگائے گئے ہیں جو ان کے مطالبات کی عکاسی کرتے ہیں

اونچے اونچے چناروں کے سائے میں بیٹھ کر اپنے باہمی مسائل حل کرنے والے پاڑہ چنار کے لوگ ایک مرتبہ پھر پاکستان کی گلی کوچوں میں احتجاجی دھرنے دینے بیٹھے ہیں۔ انھیں امید ہے کہ اگر اور کچھ نہیں تو حکومت ان کے کم از کم جینے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں تحفظ فراہم کر دے۔ روزی روٹی اور علاج کا بندوبست وہ خود کر لیں گے۔

اسلام آباد کے پریس کلب کے باہر کھلا میدان کرم ایجنسی کے باسیوں کے احتجاجی کیمپ کی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کر رہا ہے۔

پاڑہ چنار: وزیراعظم کی پیشکش مسترد، آرمی چیف سے ملاقات تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

پاڑہ چنار میں عید کی خریداری کے دوران دو دھماکوں میں 50 افراد ہلاک

پاڑہ چنار میں امام بارگاہ کے نزدیک دھماکے میں 24 ہلاک، پولیٹیکل انتظامیہ کے خلاف مظاہرے

یہاں احتجاج کرنے والوں کو مناسب سکیورٹی بھی فراہم کی گئی ہے لیکن احتجاجی کیمپ کے اندورنی راستے پر کھڑے تین پولیس اہلکار محض چینل کا محض نام سن کر لوگوں کو اندر جانے دیتے ہیں۔

میری ملاقات وہیں احتجاج کرنے والوں میں سے ایک نوجوان شفاعت حسین سے ہوئی جن کا تعلق ہے تو پاڑہ چنار سے ہے لیکن وہ اسلام آباد میں نوکری کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

الیکٹرکل انجینرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی ان کا کہتا ہے کہ انھیں نوکری نہیں مل رہی لیکن نوکری سے زیادہ اس کیمپ میں آنے کی وجہ ان کے بقول تحفظ کا مطالبہ ہے۔

وہ کہتے ہیں 'پاڑہ چنار میں بھی نوجوانوں نے احتجاج کا آغاز کیا اور ہم یہاں ہم پیش پیش ہیں تاکہ ہماری آوازحکمرانوں تک پہنچے۔ آپ میڈیا والے آج آئے ہیں تو ہمیں یقین ہے کہ اب ہماری بات سنی جائے گی۔'

پاڑہ چنار کی طوری مارکیٹ پرگذشتہ جمعے ہونے والا یہ اس سال کا یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔ ان تین حملوں میں اب تک 100 سے زائد افراد اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔

اگرچہ اس مرتبہ کے حملے کی ذمہ داری تو کسی نے قبول نہیں کی لیکن اس کی منصوبہ بندی انتہائی مہلک تھی۔ پہلے ایک دھماکہ اور اس کے بعد دوسرا دھماکہ زیادہ نقصان دہ تھا۔ دھماکے کے بعد احتجاج کرنے والوں پر سکیورٹی اداروں کی فائرنگ سے بھی جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

پاڑہ چنار کے احتجاجی دھرنے میں ہزاروں افراد کے مقابلے میں اسلام آباد کے احتجاج چند درجن افراد موجود تھے۔

احتجاجی کیمپ کی دیواروں پر مختلف تنظیموں کے بینرز لگائے گئے ہیں جو ان کے مطالبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک کیمپ پر حزب معمول حکومت اور میڈیا کے علاوہ سول سوسائٹی سے بھی شکایت کی گئی ہے اور اسے 'مجرمانہ خاموشی' قرار دیا گیا ہے۔

کیمپ میں اسلام آباد کی سول سوسائٹی کی سرگرم رکن فرزانہ باری بھی احتجاجی اظہار یکجہتی کے لیے موجود تھیں۔ ان سے اس مبینہ خاموشی کے بارے میں دریافت کیا تو وہ متفق تھیں کہ اس میں کچھ سچائی ہے۔ ان کا کہنا تھا 'جس طرح سے بھرپور آواز اٹھنی چاہیے تھی ایسا نہیں ہوا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاڑہ چنار کی طوری مارکیٹ پر گذشتہ جمعے ہونے والا یہ اس سال کا یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔

فرزانہ باری کو خدشہ ہے کہ بڑھتے ہوئے فرقہ ورانہ حملے مستقبل کے لیے اچھا شگون نہیں ہیں۔ 'یہ عالمی سطح پر سیاست کے اثرات بھی ہو سکتے ہیں جسے حکومت کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔'

فرزانہ باری کے خیال میں پاکستان میں حالات بہتری کی جانب نہیں جا رہے ہیں کیونکہ بقول ان کے 'اصل مسائل' پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔

اسے حکومتِ وقت کی ایک تلخ غلطی کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے کہ بہاولپور سانحے میں مرنے والوں کے لیے 20 لاکھ روپے کا معاوضہ لیکن پاڑہ چنار کے متاثرین کے لیے محض تین لاکھ روپے امداد کا اعلان جسے اس کیمپ میں کافی شدید انداز میں محسوس کیا جا رہا ہے۔

کرم ویلفیر سوسائٹی کے رکن محمد عیسی سے پوچھا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے اب پاڑہ چنار کے ہلاک شدگان کے لیے دس، دس لاکھ روپے کا معاوضہ کیا ان کے لیے قابل قبول ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ اچھا اعلان ہے لیکن بہت دیر کی مہربان آتے آتے۔ 'کسی کی زندگی کی قیمت نہیں لگائی جاسکتی۔ لیکن اچھا ہے کہ حکومت کا شعور سات دن بعد جاگا ہے۔'

محمد عیسیٰ کرم ایجنسی کے حالات کی خرابی کی ایک وجہ اس خطے کے تبدیل ہوتے جغرافیے کو بھی قرار دے رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کرم ایجنسی کی سرحد افغانستان کے تورہ بورا جہاں حالیہ دنوں میں داعش کے قبضے کی اطلاعات تھیں ملتی ہے۔ اس کے علاوہ مشرقی صوبہ ننگرہار اور پکتیا اور پکتیکا کہ عدم استحکام سے دوچار علاقے بھی ہیں۔

اسی بارے میں