پاڑہ چنار: آرمی چیف کا معاملات حل کرنے کا حکم

قمر جاوید تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے جمعے کی صبح پاڑہ چنار کا دورہ کیا ہے

پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ نے پاڑہ چنار میں عید سے قبل ہونے والے دھماکوں کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی دھرنے کے شرکا کی جانب سے علاقے کی سکیورٹی سے متعلق معاملات فوری طور پر حل کرنے کا حکم دیا ہے۔

23 جون کو ہونے والے ان دھماکوں میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور یہ احتجاجی دھرنا گذشتہ آٹھ دن سے جاری تھا جس کے شرکا نے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کیے بغیر احتجاج ختم کرنے سے انکار کیا تھا۔

’حالیہ واقعات کو جان بوجھ کر فرقہ وارنہ رنگ دیا جا رہا ہے‘

’پاڑہ چنار پاکستان میں ہے یا کسی دوسرے ملک میں؟‘

دھرنے کے شرکا نے جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ہلاک شدگان کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے مالی امداد کی پیشکش کو بھی مسترد کر دیا تھا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے جمعے کی صبح پاڑہ چنار کا دورہ کیا جہاں معاملے پر بریفنگ لینے کے بعد انھوں نے قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی۔

آئی ایس پی آر نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ برّی فوج کے سربراہ پاڑہ چنار جائیں گے تاہم مبینہ طور پر موسم کی خرابی کی وجہ سے ان کا یہ دورہ جمعے کو ہی حقیقت کا روپ دھار سکا۔

اس دورے کے بارے میں صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاڑہ چنار کے متاثرین نے آرمی چیف سے ملاقات میں کچھ سیاسی اور کچھ سکیورٹی سے متعلق مطالبات پیش کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے سکیورٹی سے متعلق خدشات کا فوری سدباب کرنے کو کہا ہے اور اس سلسلے میں پاڑہ چنار میں سیف سٹی منصوبے پر کام شروع کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Jibran Nasir
Image caption پاڑہ چنار میں احتجاجی دھرنا گذشتہ آٹھ دن سے جاری تھا

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ ملک میں ہر جگہ کی سکیورٹی ہمارے لیے اہم اور برابر ہے اور 'پاڑہ چنار کو محفوظ بنانے کے لیے فوج کے اضافی دستے یہاں پہنچ رہے ہیں۔'

میجر جنرل آصف غفور نے یہ بھی بتایا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور پہلے مرحلے پر حساس ترین مقامات پر باڑ لگائی جائے گی۔

خیال رہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جمعرات کو پاڑہ چنار کے دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو دس، دس لاکھ اور زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ بطور زرِ تلافی دینے کا اعلان کیا گیا تاہم مرکزی دھرنے کے شرکا نے زرِ تلافی کی یہ پیشکش مسترد کر دی تھی۔

دھرنے میں شامل طوری قبیلے کے رہنما شبیر حسین ساجدی نے جمعرات کو بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کی پیشکش رد کرنے کی تصدیق کی تھی اور کہا کہ ان کا احتجاجی دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک برّی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ بالمشافہ قبائل سے ملاقات نہیں کرتے اور ان کے مطالبات پر غور نہیں کیا جاتا۔

انھوں نے کہا کہ پاڑہ چنار شہر میں گزشتہ چار سالوں کے دوران 11 دھماکے ہوچکے ہیں جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔'ہر دھماکے کے بعد سکیورٹی انتظامات سخت کیے جاتے ہیں اور تسلی دی جاتی ہے کہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہیں آئیں گے لیکن حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے۔'

ان کے مطابق اس معاملے کو آرمی چیف کے علاوہ کوئی حل ہی نہیں کر سکتا اس لیے قبائلی ان سے ملاقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں