ٹینکر حادثہ: ’ہلاکتوں کی تعداد 177، 40 کی حالت تشویشناک‘

ٹینکر حادثے کے زخمی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption زیرِ علاج زخمیوں میں سے بھی بیشتر کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے

پاکستان کے ضلع بہاولپور کے طبی حکام کا کہنا ہے کہ احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر کے حادثے کے بعد لگنے والی میں جھلس کر ہلاک ہونے والے افراد کل تعداد 177 تک پہنچ گئی ہے۔

یہ حادثہ گذشتہ اتوار کی صبح اس وقت پیش آیا تھا جب کراچی سے وہاڑی ہزاروں لیٹر تیل لے جانے والا ٹینکر بستی رمضان جوئیہ کے قریب الٹ گیا تھا جس کے بعد مقامی افراد اس سے رسنے والا تیل جمع کرنے کے لیے اکٹھے ہوگئے تھے۔

’یہ کہنا مشکل ہے کہ موقع پر کتنے بچے ہلاک ہوئے‘

بہاولپور: لواحقین کو اپنے پیاروں کی تلاش

آئل ٹینکر میں آتشزدگی سے ہلاکتیں:تصاویر

اسی اثنا میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی جس نے موقع پر موجود سینکڑوں افراد کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔

بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال کی میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر طاہرہ پروین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس حادثے میں 125 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے جبکہ 100 سے زخمیوں میں سے بھی 52 اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔

نامہ نگار عمر دراز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ زیرِ علاج زخمیوں میں سے بھی بیشتر کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال کے فوکل پرسن ڈاکٹر عامر بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت 95 زخمی مختلف ہسپتالوں میں ہیں جن میں سے 40 کی حالت تشویشناک ہے کیونکہ ان کا جسم 80 فیصد جلا ہے۔

ڈاکٹر طاہرہ نے اس حادثے کے زخمیوں کی اتنی بڑی تعداد کی ہلاکت کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر انسانی جسم 30 فیصد سے زیادہ جل جائے تو مریض کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اور آگ میں جھلسنے سے زخمی ہونے والے جن افراد کو ہسپتال لایا گیا تھا ان میں سے بیشتر کے جسم 80 فیصد تک جلے ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کراچی سے وہاڑی ہزاروں لیٹر تیل لے جانے والا ٹینکر بستی رمضان جوئیہ کے قریب الٹ گیا تھا

پنجاب کے طبی حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق جہاں احمد پور شرقیہ کے حادثے میں ہلاک ہونے والے 125 افراد کی ناقابلِ شناخت لاشیں ڈی این اے تجزیے کے نتائج کے انتظار میں امانتاً دفنا دی گئی ہیں وہیں 52 لاشیں لواحقین کے سپرد کی جا چکی ہے۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 117 افراد کے ڈی این اے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں جنھیں لاشوں سے حاصل کردہ نمونوں سے ملایا جائے گا۔

حکام کے مطابق اس وقت 100 سے زیادہ زخمی صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے سب سے زیادہ کو نشتر ہسپتال ملتان میں رکھا گیا ہے۔

ادھر پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق موٹروے پولیس کے حکام نے اس حادثے کے بعد مبینہ طور پر غفلت برتنے پر پانچ اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔

پاکستانی پولیس نے اس معاملے کا مقدمہ بھی درج کیا ہے جس میں ٹینکر کے مالک، مینیجر اور ڈرائیور پر غفلت برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں