کوئٹہ: سائبر کرائم ایکٹ کے تحت صحافی پر مقدمہ درج

ظفراللہ اچکزئی تصویر کے کاپی رائٹ Zafarullah Achakzai

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر قابل اعتراض مواد شائع کرنے کے الزام میں گرفتار نوجوان صحافی ظفر اللہ اچکزئی کو ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا ہے۔

ظفراللہ اچکزئی کو عید الفطر سے ایک روز قبل کوئٹہ میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

وہ روزنامہ قدرت کوئٹہ کے چیف رپورٹر اور اخبار کے مالک کے بیٹے ہیں۔

صحافیوں کی تنظیم بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر خلیل احمد نے بتایا کہ گرفتاری کے لیے سادہ کپڑوں میں اہلکاروں کے علاوہ سیکورٹی فورسز کے اہلکار ان کے گھر گئے تھے۔

خلیل احمد کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز کے خلاف فیس بک پر بعض متنازع مواد شائع کرنے کے الزام میں ظفراللہ اچکزئی کوگرفتار کیا گیا ہے۔

ان کی گرفتاری کے خلاف جمعرات کوکوئٹہ پریس کلب میں بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور دیگر صحافتی تنظیموں کا ایک مشترکہ اجلاس آج ہوا۔

خلیل احمد نے بتایا کہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ صحافی کی گرفتاری کے لیے جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ قانون کے مطابق نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ان کی گرفتاری کے لیے وہ طریقہ اختیار کیا گیا جو کسی دہشت گرد کی گرفتاری کے لیے اختیار کیا جاتا ہے'۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ نہ صرف چادر و چار دیواری کو پامال کیا گیا بلکہ صحافی کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی ہراساں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جس انداز سے صحافی کو گرفتار کیا گیا اس کی صحافتی تنظیموں نے مذمت کی۔

خلیل احمد کا کہنا تھا کہ اگرقانون میں دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق صحافی کو گرفتار کیا جاتا تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں