چوہدری نثار نے الرٹ خود بھی پڑھے تھے کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاڑہ چنار میں عید سے قبل ہونے والے دھماکوں کے بعد جاری احتجاج کے سلسلے میں اسلام آباد میں بھی دھرنا دیا گیا۔

سوشلستان میں جائز اور ناجائز الفاظ کے استعمال کی بحث تو عرصہ دراز ہوا تمام ہو چکی مگر اب اس میں ہر آنے والے دن کے ساتھ گراوٹ آخری حدوں کی چھو رہی ہے۔

جہاں ایک جانب ایک سیاست دان اور حکمران مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت کے رکنِ صوبائی اسمبلی نے پولیس کانسٹیبل پر گاڑی چڑھا کر انھیں ہلاک کر دیا اور بعد میں میڈیا کو 'بے غیرت اور بے شرم' کے القابات سے نوازا، وہیں سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے ٹرینڈز کے نام پر غیر اخلاقی زبان کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔ چند سیاسی رہنما تو اس قسم کی زبان کے استعمال کی 'توثیق' بھی کر دیتے ہیں۔

مگر آج کے سوشلستان میں ہم بات کریں گے پاڑہ چنار کی۔

پاڑہ چنار میں جاری دھرنا اور اس پر ردِ عمل

پاڑہ چنار پاکستان میں وفاق، جی ہاں آپ نے درست پڑھا، وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں واقع ہے جو وفاق کے زیر انتظام علاقہ ہے اور اس کی سیکورٹی وفاقی وزارتِ داخلہ کے تحت ہے۔

سوشل میڈیا پر لوگ ورطۂ حیرت میں پڑے ہیں اور وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کے بیان کا باریک بینی سے جائزہ لے رہےہیں جس میں انھوں نے کہا کہ 'پاڑہ چنار سے متعلق دو الرٹ صوبائی حکومت کو بھجوائے تھے۔'

سوشل میڈیا پر سوالات کیے جا رہے ہیں کہ کیا 'چوہدری نثار علی خان نے یہ دونوں الرٹ خود بھی پڑھے تھے کیا؟'

ہارون اعجاز نے سوال کیا ’چوہدری نثار کو ہو کیا گیا ہے؟‘

اور اس سوال کی وجہ پاڑہ چنار کا بیان نہیں بلکہ اس کے بعد وزارتِ داخلہ کی جانب سے سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ اور اس پر پوسٹ کی جانے والے تبصروں اور تجزیوں میں فرقہ واریت میں اضافے کے رجحان سے سختی سے نمٹنے کا بیان ہے۔

’بھائی لوگ‘ کے نام سے ٹویٹ کرنے والے ایک صارف نے لکھا: 'اس ملک کے شہری اپنے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خامیوں پر سوال اٹھائیں تو مجرم کہلائیں۔'

موسیٰ رضا نے لکھا: 'ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانا سب سے بڑا جرم ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption راولپنڈی کے قریب واقع کے ایک بستی ے قریب سے گزرنے والی ندی میں کچرے کے ڈھیر

ہم کوڑا کیسے تلف کرتے ہیں؟

بی بی سی اردو نے گذشتہ روز اپنے قارئین سے فیس بُک پر سوال پوچھا کہ ان کے علاقے میں کوڑا کیسے تلف کیا جاتا ہے تو اس کے جواب میں بہت سے دلچسپ جوابات موصول ہوئے۔

صغیر احمد نے چک نمبر 235 گ ب جڑانوالا سے لکھا کہ 'ہمارے ہاں تو گھر کے باہر ڈھیر لگا کر آگ لگا دیتے ہیں یا سال دو سال میں ٹھیکیدار آ جائے تو وہ لے جاتا ہے۔'

انور احمد اعوان کوہاٹ سے لکھا: 'ہم اپنے گھر کے صحن میں گڑھا کھود کر خوراک والا کچرا اس میں ڈال کر کھاد بنا لیتے ہیں اور پلاسٹک کے تھیلوں کو آگ لگا دیتے ہیں۔'

پشاور سے زینب نے لکھا کہ 'ہم کچرا سارا سال ایک ندی میں پھینکتے ہیں جو کچرے سے بھر جاتی ہے اور ہر سال مون سون کے بارشوں کے موسم میں اس سے سیلاب آ جاتا ہے کیونکہ پانی کو راستہ نہیں ملتا۔'

کوئٹہ سے مسرت لکھتی ہیں کہ 'ایک کوڑے والا کچرا اٹھاتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر اسے حبیب نالے میں پھینک دیتا ہے۔‘

فرخندہ نے کنری سے لکھا 'ہمارے شہر میں ہر طرف کچرا ہے ہر کونا یا خالی پلاٹ صفائی کے لیے چیخ رہا ہے۔'

نازیہ محمود نے لکھا: 'ہمیں اپنے کچرے کے ساتھ رہنا بہت اچھا لگتا ہے ہم اتنے گندے انسان ہیں۔'

زورین فضا نے لکھا 'ہمارا گاؤں سڑک سے بہت نشیب پر واقع ہے اس لیے ہم کچرے سے اپنے گھر اونچے کرتے ہیں۔'

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی خواجہ سرا فرزانہ ریاض اپنا پاسپورٹ دکھا رہی ہیں جس پر انھیں جنس کے خانے میں ایکس درج کیا گیا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایسا پاسپورٹ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption گوگل نے معروف پاکستانی مصور اور خطاط صادقین کی سالگرہ کی یاد میں اپنے ڈوڈل کو ان کے فن سے مزین کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں