تھرپارکر کی خواتین ڈمپر ڈرائیورز

تھر تصویر کے کاپی رائٹ Engro Coal Mining

صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر کے مرکزی قصبے مٹھی کی رہائشی 25 سالہ رانی پیلے رنگ کے ایک ڈمپر کے سامنے کھڑی ہیں۔ وہ ان 30 امیدواروں میں شامل ہیں جن کا انتخاب کوئلے کی کانوں میں کھدائی کرنے کے بعد مٹی سے بھرے ڈمپر لے جانے کے لیے کیا گیا ہے۔

پاکستان میں پروفیشنل خواتین ڈرائیور بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایسے میں تھرپارکر جیسے پسماندہ اور دوردراز علاقے میں خواتین کو ڈمپر جیسی بھاری بھرکم گاڑی چلانا اپنی جگہ غیرمعمولی بات ہے۔

رانی کے ساتھ 30 دیگر خواتین ڈمپر ڈرائیورز بھی شامل ہیں۔ ایک سال کی تربیت کے بعد یہ خواتین اگلے مہینے سے باقاعدہ اپنے کام کا آغاز کریں گی۔

رانی نے صحافی صبا ناز کو بتایا کہ جب کبھی کسی پسماندہ علاقے سے خواتین اپنے مالی مسائل کے حل کے لیے گھر سے باہر قدم رکھتی ہیں تو انھیں بعض اوقات اپنے ہی گھر والوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

'ہم بہت غریب لوگ ہیں، اسی لیے میں نے ڈمپر ڈرائیور کی نوکری کے لیے درخواست دی۔ جب میرے بھائیوں کو پتہ چلا تو انھوں نے سخت مخالفت کی۔ محلے والوں نے بھی مذاق اُڑایا۔ لیکن میں نے کسی کی نہیں سنی۔ مجھے حوصلہ ہے کہ میرا شوہر میرے ساتھ ہے۔'

خواتین کو بطور ڈمپر ڈرائیورز منتخب کرنے والی اینگرو کول مائننگ کمپنی کے سربراہ شمس الدین شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ تھر کی خواتین محنت کش ہیں اور علاقے سے غربت دور کرنے کے لیے معاشرتی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مائننگ کمپنی میں خواتین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Engro Coal Mining

'تھر کی سخت جان عورتیں گھنٹوں کام کرتی ہیں اسی لیے ہم نے انہیں یہاں کا سب سے مشکل کام سونپنے کا سوچا تاکہ یہی خواتین ثابت کر سکیں کہ وہ تھر کے مردوں سے کسی طور کم نہیں، بلکہ اُن سے کہیں آگے ہیں۔ یہ خواتین صرف اپنے علاقے کی باقی خواتین ہی کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان کی خواتین کے لیے جرات کی مثال قائم کر سکیں۔'

انھوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے قبل کئی حلقوں کی جانب سے اس سلسلے میں مخالفت بھی سامنے آئی۔ 'یہ سوال اٹھایا گیا کہ مردوں کی بڑی تعداد بےروزگار ہے ایسے میں خواتین کو ڈمپر ڈرائیونگ جیسے شعبے میں مردوں پر ترجیح کیوں دی جا رہی ہے؟'

ڈمپر ڈرائیور بننے کی ایک اور خواہشمند خاتون ہیتی نے بتایا: 'میں لوگوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ عورت مضبوط ہے اس لیے میں نے ڈمپر چلانے کی نوکری کے لیے درخواست دی۔ میں اور میرے گھر والے خوش ہیں کہ اب میں ڈمپر چلاؤں گی اور گھر والوں کے لیے کمائی کا وسیلہ بنوں گی۔'

ڈمپر ڈرائیونگ کی پروگرام انچارج جہاں آرا نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نوکری کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویو کے لیے آنے والی خواتین کا جوش و خروش دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ اِس مقصد کے لیے پورے تھر میں چار مختلف مقامات پر کیمپ لگائے گئے تھے جن میں رجسٹریشن کے لیے آنے والی خواتین کی تعداد ان گنت تھی۔ انھی میں سے 90 خواتین کے ٹیسٹ اور انٹرویوز لینے کے بعد 30 خواتین کا انتخاب کیا گیا ہے۔

جہاں آرا کے مطابق: 'رجسٹریشن کے لیے آنے والی خواتین میں 60 سال تک کی خواتین بھی شامل تھیں تاہم وہ معمر ہونے کی وجہ سے وہ اہل نہیں تھیں۔ ایسی خواتین اپنے ساتھ اپنی بہو بیٹیوں کو بھی لائیں، کہ چلو ہم اپنی بہوؤں کے بچے سنبھال لیں گی لیکن اِن کے کام کرنے سے ہمارے گھر کے تمام افراد خوش ہوں گے۔'

جہاں آرا نے مزید بتایا کہ اس وقت سارے تھرپارکر میں صرف ایک ایسی خاتون ہیں جنہیں کار چلانا آتی ہے اور ڈرائیونگ سیکھنے کے شوق میں تھر کی 17 سالہ کئی پرجوش لڑکیوں نے اس بات پر اعتراض بھی کیا کہ ڈمپر ڈرائیور بننے کے لیے عمر کی کم از کم حد 20 سال نہیں ہونی چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے خاندان بھی سامنے آئے جن کا کہنا تھا کہ 'تھر میں ایسا کبھی نہیں ہوا ہماری خواتین گھر سے باہر نہیں جائیں گی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Engro Coal Mining

مائننگ کمپنی کے سربراہ شمس الدین کا کہنا ہے کہ ڈمپر ڈرائیونگ کے لیے منتخب ہونے والی خواتین کو باقاعدہ اس کام پر لگانے سے پہلے انھیں ایک سال کی ٹریننگ دی جائے گی۔

'یہ وہ خواتین ہیں جو ڈرائیونگ سے نا آشنا ہیں۔ زندگی میں کبھی گاڑی کی سیٹ پر نہیں بیٹھیں، ڈمپر ٹرک عام ٹرک کے مقابلے میں سائز میں دگنے ہوتے ہیں اس لیے اِن خواتین کی ایک سال کی ٹریننگ ضروری ہے۔ ایک مرد جو ڈرائیونگ بالکل نہیں جانتا چار ماہ کی ٹرینگ کے بعد یہ کام شروع کر دیتا ہے۔'

ٹریننگ کے اختتام پر یہ خواتین روزانہ آٹھ گھنٹے ڈمپر چلائیں گی۔ تین سے چار کلو میٹر کے راؤنڈ ٹرپ میں یہ خواتین مٹی سے بھرے ڈمپر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائیں گی۔ یہ کام اُنھیں ایئر کنڈیشنڈ ڈمپر میں بیٹھ کر ہی کرنا ہو گا۔

تھر میں کوئلے کے ذخائر کا شمار دنیا کے 16 بڑے ذخائر میں ہوتا ہے جو جیولوجیکل سروے آف پاکستان اور یونائٹیڈ سٹیٹس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ کے اشتراک سے 1991 میں دریافت ہوئے تھے۔ نو ہزار کلو میٹر پر محیط یہ رقبہ کوئلے کے 175 ارب ٹن ذخائر سے مالامال ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں