ایف سی کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کی تحقیقات کا آغاز، کمانڈنٹ تبدیل کر دیا گیا: آرمی چیف

دھرنا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 23 جون کو ہونے والے ان دھماکوں میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور یہ احتجاجی دھرنا گذشتہ آٹھ دن سے جاری تھا

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں بّری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مظاہرین پر فائرنگ کرنے کی انکوائری کا آغاز ہو گیا ہے اور ایف سی کمانڈنٹ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

پاڑہ چنار میں طوری اور بنگش قبائل کے عمائدین نے جمعہ کو بّری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی جس کے بعد آٹھ روز سے جاری احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ 23 جون کو ہونے والے ان دھماکوں میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور یہ احتجاجی دھرنا گذشتہ آٹھ دن سے جاری تھا جس کے شرکا نے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کیے بغیر احتجاج ختم کرنے سے انکار کیا تھا۔

آئی ایس پر آر کی جانب سے ایک جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل باجوہ نے عمائدین کو بتایا کہ وہ ملک سے باہر دورے پر تھے اور واپس آنے پر موسم کی خرابی کے باعث پاڑہ چنار پہلے نہ آ سکے۔

آرمی چیف نے کہا کہ ایف سی کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کرنے کے واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایف سی کمانڈنٹ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے چار افراد اور دیگر زخمیوں کو ایف سی کی جانب سے علیحدہ معاوضہ دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 23 جون کو ہونے والے ان دھماکوں میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور یہ احتجاجی دھرنا گذشتہ آٹھ دن سے جاری تھا

آرمی چیف نے ایف سی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کرم ایجنسی میں اب تک 126 اہلکار ہلاک اور 387 زخمی ہو چکے ہیں۔

'ایف سی کے پی ایک پیشہ ورانہ فورس ہے جس میں تمام قبیلوں اور فرقوں کے افراد شامل ہیں۔'

آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے مندرجہ ذیل اعلان کیے ہیں:

  • حالیہ واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے واضح شواہد ہیں لیکن مقامی سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس پر فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائے جائیں گے۔
  • جنرل قمر جاوید باجوہ نے یقین دہانی کرائی کہ پاڑہ چنار دھماکوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو وہی پیکج دیا جائے گا جو ملک کے دوسرے شہروں میں دیا جاتا ہے۔
  • انھوں نے کہا کہ پاڑہ چنار شہر میں فوج کے ریگولر دستوں کو تعینات کیا جائے گا تاکہ سکیورٹی مزید بہتر بنائی جا سکے جبکہ ایف سی کے دستوں کو پاک افغان سرحد پر تعینات کیا جائے گا تاکہ عملی طور ہر سرحد کو بند کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ طوری رضاکاروں کو بھی چیک پوسٹوں پر تعینات کیا جائے گا۔
  • آرمی چیف نے لاہور اور اسلام آباد کی طرز پر پاڑہ چنار میں سیف سٹی منصوبے پر کام شروع کرنے کا اعلان کیا۔
  • سرحد پر باڑ لگانے کا کام پہلے ہی سے جاری ہے۔ فاٹا کے زیادہ حساس علاقوں پر باڑ لگانے کا کام پہلے فیز میں ہو رہا ہے جبکہ باقی سرحد بشمول بلوچستان پر باڑ دوسرے فیز میں لگائی جائے گی۔
  • آرمی چیف نے کہا کہ ایف سی کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کرنے کے واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایف سی کمانڈنٹ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے چار افراد اور دیگر زخمیوں کو ایف سی کی جانب سے علیحدہ معاوضہ دیا جائے گا۔
  • پاڑہ چنار کے آرمی پبلک سکول کا نام تبدیل کر کے میجر گلفام شہید رکھا جائے گا اور اس کو بعد میں کیڈٹ کالج کا درجہ دیا جائے گا۔
  • فوج ٹروما سینٹر قائم کرے گی جبکہ مقامی سول ہسپتال میں سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا۔
  • فوج فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے عمل کی مکمل حمایت کرتی ہے اور اس جلد تکمیل امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

دھرنے میں شامل قبائل کے نمائندہ کمیٹی کے ایک رکن شبیر حسین ساجدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ فوج کے سربراہ سے ملاقات کے بعد تمام قبائل کی جانب سے احتجاجی دھرنا ختم کردیا گیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعے کو رمضان المبارک کے آخری عشرے میں پاڑہ چنار شہر میں ہونے والے دو دھماکوں میں ستر سے زائد افراد ہلاک اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ دھماکوں کے بعد شہر میں قبائل کی جانب سے احتجاجی دھرنا شروع کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ قبائل اس وقت تک دھرنا ختم نہیں کرینگے جب تک ان کی بالمشافہ فوج کے سربراہ سے ملاقات نہیں کی جاتی۔

قبائل کی آٹھ رکنی وفد نے آرمی چیف سے ملاقات کی جس میں وہ خود بھی شامل تھے۔

ایک سوال کے جواب میں قبائل کے نمائندے نے اس بات کی سخت الفاظ میں تردید کی کہ دھماکے کے بعد پاڑہ چنار شہر میں شروع ہونے والے احتجاج میں مظاہرین کی طرف سے ملک اور سکیورٹی فورسز کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ بعض عناصر کی طرف سے سوشل میڈیا پر اس طرح کا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پاڑا چنار کو اس طرح کی خون کی ہولی دیکھنی پڑی ہے۔

اسی بارے میں