کڑیو، بالو! موت ونڈیندی، لے لو!

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

احمد پور شرقیہ کے قریب پیش آنے والے حادثے پہ جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ یہ ایک حادثہ تھا اور اس کا ذمہ دار کوئی نہیں۔ چونکہ الزام تراشی کی عادت ہماری نو اختیار جمہوری تہذیب کا خاصا ہے، اس لیے پہلا ردِعمل حکومت کو کوسنا تھا۔ جب یہ سب کر چکے تو اگلا قدم مرنے والوں کو چور قرار دینا تھا۔ تیسری بحث غربت اور چوتھی جہالت سے ہوتی ہوئی اس بات پہ جا کے ٹکی کہ یہ عذابِ الہیٰ تھا اور اس بستی پہ اس لیے آیا کہ پانچ سال قبل یہاں ایک ذہنی معذور کو جلا کر مارا گیا تھا۔

بیچ بیچ میں کچھ فسادی لوگ، صوبائی عصبیت کا پتلا بھی جلاتے رہے، غرض کئی ہفتوں کے لیے بے مقصد چٹر چٹر کرنے کا مواد مل گیا۔ایک پوری بستی اجڑ گئی۔

کسی بھی حادثے کی کوئی توجیہہ نہیں ہوتی۔ پومپی آئی کا آتش فشاں پھٹتا ہے تو کیا اس تباہی کے ذمہ دار وہ شہر بسانے والے تھے ؟ زلزلے سے بستیاں الٹتی ہیں تو کیا اس میں انسان قصور وار ہے ؟ سیلاب کو تو چلیے ہم پڑوسیوں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن اگر پھر بھی اس حادثے کے پیچھے کوئی ممکنہ وجوہات تھیں تو وہ کم سے کم لالچ نہ تھی۔ اس کے لیے ہمیں اپنے دیہی کلچر کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے ہاں دیہات میں مڈل کلاس نہیں ہے، زمیندار اور مزدور، بنیادی طور پہ یہ ہی دو طبقات پائے جاتے ہیں۔ دونوں طبقات ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ نسل بعد از نسل ساتھ رہنے سے دونوں طبقے ایک دوسرے کو بخوبی سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کی کمزوریوں، چالاکیوں اور خواہشات کو جانتے ہیں۔ جہاں زمیندار کو 'بیگار' لینے کا شوق وراثت میں ملتا ہے، وہیں مزدور کے دل میں بھی 'پڑّ' کی خواہش، پیدائش کے ساتھ ہی پیدا ہوتی ہے۔

شہروں میں یہ عام نظارہ ہے کہ کسی کے گھر میں اگر پھل دار درخت لگا ہے تو سارے محلے کے بچے بوڑھے، وہاں سے پھل چرانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ پتنگ کٹ کے گرتی ہے تو اس کے پیچھے بچے تو بچے، خاصے سیانے بھی چھتوں سے کود جاتے ہیں جبکہ دیہات میں میلوں میل لگی فصل اور ایکڑوں میں پھیلے باغوں میں اتنی چوری کا رجحان نہیں ہے۔ کیونکہ کسی کی لگی فصل کو بنا اجازت توڑنا، 'اجاڑا' کہلاتا ہے۔ 'اجاڑا' کرنے والے کے لیے دیہی سماج میں 'ڈنڈ' بھی ہے اور جگ ہنسائی بھی۔ دیہات میں چند گھر ہوتے ہیں اور سماجی دباؤ کے باعث اس قسم کی چوری کے وارداتیں نسبتاََ کم ہیں۔

'پڑّ' اناج یا فصل کا وہ حصہ ہوتا ہے جو، کاشتکار کے فصل اٹھا لینے کے بعد کھیت میں پڑا رہ جاتا ہے۔ فصل کٹنے کے بعد بڑھیاں، بچے، 'پڑّ' کرکے خوب دانے بٹور لیتے ہیں جو کسی بھی 'پھڑئیے' کے پاس بیچے جا سکتے ہیں۔ دیہات کے دکاندار بھی جس کے بدلے سودا دے دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

جب پاکستان میں شوگر ملز اور کاٹن فیکٹریز لگائی گئیں تو دور دراز کے علاقوں سے گنے اور روئی کے لدے ہوئے ٹرک ان دیہاتوں کے درمیان سے گزاری گئی سڑکوں سے گزرنے لگے۔ چونکہ وہ مال کسی دور کے علاقے سے آرہا ہوتا تھا تو، چلتے ٹرکوں سے گنا بکوٹنا عادت بن گئی۔ گنا کھینچنے والے سوچتے ہوں گے ایک گنے سے کیا فرق پڑا؟ مگر ایک ایک کرکے کھینچے گئے کئی گنوں سے آخر کار ٹرک کا توازن بگڑ جاتا ہے اور وہ کہیں گر کے سڑک بلاک کر دیتا ہے اور حادثات کا باعث بنتا ہے۔ زمیندار کا نقصان نہ مل مالکان بھرتے ہیں نہ کوئی انشورنس ہے۔

تیس پینتیس سال میں یہ رویہ پختہ ہوگیا، دور دراز دیہات تک سڑکیں پہنچائی گئیں، مگر دیہاتیوں کی تربیت کی طرف کسی نے توجہ نہ دی۔ آئل، کین اور کاٹن ٹریفک جس علاقے سے گزرتی ہے خاص کر اس علاقے کے لوگوں کی کوئی تربیت نہ کی گئی۔ثقیل عربی لحن میں بتائی گئی اخلاقیات اور 'ٹو دی ککو' ان کے کسی کام کی نہیں۔ ان کو کسی مدرسے، کسی سکول میں یہ نہ بتایا گیا کہ یہ 'پِڑّ' نہیں'اجاڑا' ہے اور بعض صورتوں میں اپنے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سڑکوں کے کنارے آباد دیہاتوں کے بچے، مال مویشی اکثر ٹریفک کی زد میں آتے رہتے ہیں۔ جراثیم کش ادویات کے مضر اثر سے مرنے والوں کا شمار کریں تو وہ بھی کم نہ ہوگا۔ لیکن یہ تربیت کون دے گا؟ زمیندار؟ یا زرعی ٹیکس بٹور کے عیش اڑانے والے براؤن صاحب؟

اس حادثے میں مارے جانے والے چور نہیں تھے وہ اپنی فوک وزڈم کے تحت 'َپڑّ' کر رہے تھے۔ ایک ایسی چیز جو مالک کے کام بھی نہیں آنی اسے اٹھا رہے تھے۔ مگر ان بے چاروں کو کیا خبر تھی کہ موت کھڑی پکار رہی تھی 'کڑیو، بالو! موت ونڈیندی، لے لو' اناللہ وانا الہ راجعون!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں