سب سے اہم گواہ سے سب سے کم تفتیش

اسحاق ڈار

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انھیں جھوٹا اور جواری قرار دے دیا۔

اسحاق ڈار پیرکو پاکستان کی سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما دستاویزات کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔

اسحاق ڈار کی جانب سے اس بات کی تردید کی گئی کہ انھیں اس سے پہلے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

پاناما جے آئی ٹی نے مریم نواز کو بھی طلب کر لیا

پاناما کیس: حسین نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے دوسری پیشی

حسین نواز کے پاناما لیکس کی تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان پر اعتراضات مسترد

پاناما لیکس: حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش ہو گئے

خیال رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف درج ہونے والے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بنے تھے۔

اس اعترافی بیان میں اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ وہ شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کرتے تھے تاہم پیر کو انھوں نے کہا کہ یہ اعترافی بیان انھوں نے اپنے ہاتھ سے نہیں لکھا تھا۔

اسحاق ڈار جب جے آئی ٹی میں پیش ہوئے تو باڈی لینگوئج سے کافی مطمعین دکھائی دے رہے تھے لیکن جونہی وہ جے آئی ٹی کے سوالوں کا جواب دے کر باہر نکلے تو وہ کافی غصے میں تھے۔

صحافیوں نے وزیر خزانہ سے اس بارے میں پوچھا کہ آپ اتنے غصے میں کیوں ہیں تو اسحاق ڈار کا جواب دیا کہ چونکہ وہ دھوپ میں کھڑے ہیں اس لیے میڈیا کو ایسا لگ رہا ہے کہ وہ غصے میں ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

اسحاق ڈار نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ’جھوٹا‘ اور ’جواری‘ قرار دیا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے یہ بھی جتلایا کہ وہ پہلے شوکت خانم ہسپتال کو زکواۃ دیتے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی الزام لگا دیا کہ اب عمران خان زکواِۃ کے پیسوں سے جوا کھیلتے تھے جس کے بعد انھوں نے شوکت خانم ہسپتال کو زکوۃ دینا بند کردی۔

شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے میں اسحاق ڈار کو سب سے اہم گواہ سمجھا جاتا تھا لیکن جے آئی ٹی کے ارکان نے انھیں زیادہ انتظار بھی نہیں کروایا اور ان سے صرف ایک گھنٹے سے بھی کم پوچھ گچھ کی جبکہ اس کے برعکس وزیر اعظم نواز شریف سے تین گھنٹے سے بھی زیادہ وقت تک پوچھ گچھ کی گئی۔

نواز شریف کے بیٹوں کو بھی گھنٹوں انتظار کروانے کے علاوہ ان سے گھنٹوں پوچھ گچھ بھی کی گئی۔

وزیر اعظم کے صاحبزادے حسن نواز بھی پیر کو تیسری بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

حسن نواز نے جے آئی ٹی کے سوالوں کے جوابات دینے کے بعد جے آئی ٹی سے سوال کیا کہ پہلے ان کا قصور بتایا جائے اور پھر سوال کیے جائیں۔

جے آئی ٹی دس جولائی کو اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی اور جوں جوں وقت قریب آتا جا رہا ہے ویسے ویسے وفاقی وزرا کے لہجے میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں