سندھ اسمبلی نے نیب آرڈیننس کی منسوخی کا بل منظور کر لیا

سندھ اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبے سندھ کی اسمبلی نے پیر کو قومی احتساب آرڈیننس کی منسوخی کا بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت صوبائی محکموں میں بدعنوانی کی شکایات کی تحقیقات صوبائی محکمہ اینٹی کرپشن کرے گا۔

بل کے مطابق اب سندھ میں بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت صوبائی اینٹی کرپشن کی عدالتیں کریں گی۔

سندھ اسمبلی سے بل کی منظوری کے بعد قومی احتساب آرڈیننس غیر موثر ہو جائے گا۔

سندھ اسمبلی میں ہندو میرج بل کی منظوری

سندھ اسمبلی کا اجلاس سپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں ہوا۔ صوبائی وزیر قانون ضیاالحسن نے وقفۂ سوالات کے بعد جیسے ہی بل پیش کرنے کے لیے دیگر معاملات موخر کرنے کی گذارش کی اپوزیشن نے احتجاج کیا تاہم سپیکر نے انھیں بل پیش کرنے کی اجازت دے دی۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق نیشنل اکاؤنٹ بیلٹی آرڈیننس سنہ 1999 سندھ ری پیل ایکٹ سنہ 2017 پورے سندھ میں نافذ العمل ہوگا جس کے اجرا کے بعد تمام کارروائیاں، تحقیقات اور تفتیش سندھ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو منتقل ہوجائیں گی۔

اس قانون کے نافذ العمل ہونے کے بعد وہ تمام ریفرنسز اور قانونی کارروائیاں جو احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں یا دائر ہوئی ہیں وہ صوبائی اینٹی کرپشن کی عدالتوں میں منتقل کردی جائیں گی جس کے بعد یہ عدالتیں ان مقدمات کی سماعت وہیں سے ہی کریں گی جہاں وہ موجود ہیں اور سماعت کے لیے گواہوں کو بھی دوبارہ طلب نہیں کیا جائے گا۔

اس قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ تمام اپیلیں، نظر ثانی اور ضمانت کی درخواستیں جو التویٰ کا شکار ہیں سندھ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے مروجہ قوانین کے مطابق ہی ان کی سماعت اور فیصلہ کریں گی۔

قانون میں یہ بھی کہا کہا گیا ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس (نیشنل اکاؤنٹ بیلٹی آرڈیننس) کا نفاذ 14 اکتوبر سنہ 1999 کی ایمرجنسی کے ساتھ کیا گیا تھا، آئین پاکستان کے شیڈیول چھ میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس اور پولیس آرڈر کے ساتھ ساتھ قومی احتساب آرڈیننس کو بھی شامل رکھا گیا تاکہ صوبوں کو اس کی منسوخی یا قوانین میں ترمیم سے روکا جا سکے۔

قانون کے مسودے میں بتایا گیا ہے کہ پارلیمان نے اس ایمرجنسی کے نفاذ اور عبوری آئینی حکم کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا اور 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت شیڈیول چھ کو خارج کردیا تھا۔

اس حوالے سے وفاق کی قانون سازی تین سبجیکٹ پر تھی یعنی لوکل گورنمنٹ، پبلک آرڈر اینڈ پولیس اور کرپشن کی روک تھام۔ صوبے ان میں سے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس سنہ 2001 اور پولیس آرڈر سنہ 2002 میں پہلے ہی ترمیم کرچکے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو نے ایوان کو احتساب بیورو کے قانون کی منسوخی اور 18 ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں صوبائی قانون سازی سے آگاہ کیا۔ اس دوران متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ فنکنشل سمیت اپوزیشن جماعتوں کے کارکن احتجاج کرتے رہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ قانون صوبائی اسمبلی کو مزید مضبوط کرے گا۔

ان کے بقول 'اسمبلی ہی قانون بناتی ہے اور اس وقت بھی اسمبلی قانون بنا رہی ہے اور وہ ایسا قانون ہو گا جس سے کرپشن رکے گی۔'

یاد رہے کہ سندھ میں قومی احتساب بیورو کی جانب سے حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے بعض موجودہ اور سابق ورزا اور سینئیر سرکاری افسران کو بدعنوانی کے مقدمات اور الزامات کا سامنا ہے جن میں ضیاالحسن لنجار، پیر مظہر الحق، شرجیل انعام میمن، سابق سیکریٹری انفارمیشن ذوالفقار شلوانی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیئرمین منظور کاکا، سینئیر ممبر بورڈ آف روینیو اینڈ لینڈ یوٹلائزیشن شاذر شمون، سابق آئی جی پولیس غلام حیدر جمالی، سابق کمشنرغلام مصطفیٰ پھل اور روشن شیخ شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات