پاناما لیکس: جے آئی ٹی قطری شہزادے سے پوچھ گچھ کے لیے قطر پہنچ گئی

حمد بن جاسم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جے آئی ٹی نے حمد بن جاسم کو قطر میں پاکستانی سفارت خانے میں آ کر بیان ریکارڈ کروانے کی بھی پیش کش کی تھی

وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان قطری شہزادے حمد بن جاسم سے پوچھ گچھ کے لیے قطر پہنچ گئے ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے امیگریشن حکام کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان جن میں قومی احتساب بیورو کے نعیم منگی اور فوج کے خفیہ ادارے ملٹری انٹیلیجنس کے کامران خورشید شامل ہیں، منگل کو نجی ایئر لائن کے ذریعے قطر پہنچے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جے آئی ٹی نے اس سے پہلے حمد بن جاسم کو پیش ہونے کے لیے دوبار خصوصی ایلچی کے ذریعے پیغام بھجوایا تھا لیکن انھوں نے پاکستان آ کر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

کیا قطر کے شہزادے گواہی کے لیے آئیں گے: چیف جسٹس

حسین نواز کے پاناما لیکس کی تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان پر اعتراضات مسترد

تحقیقاتی ٹیم کو ساٹھ دن سے زیادہ نہیں ملیں گے: سپریم کورٹ

قطری شہزادے نے اپنے خط میں جے آئی ٹی کو سوالنامہ بھیجنے کے بارے میں کہا تھا تاہم اطلاعات کے مطابق جے آئی ٹی کی جانب سے انھیں سوالنامہ نہیں بھیجا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاناما لیکس سے متعلق تحقیقات کرنے والی ٹیم دس جولائی کو اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائے گی

قطری شہزادے کا جوابی خط وزارتِ خارجہ کے ذریعے جے آئی ٹی کو بھجوا دیا گیا تھا جس میں انھوں نے پاناما لیکس سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران میاں نواز شریف کے خاندان کی جانب سے عدالت میں اُن کے (حمد بن جاسم) کی طرف سے لکھے گئے خط کے ہر ایک لفظ کی تصدیق کی تھی۔

جے آئی ٹی نے حمد بن جاسم کو قطر میں پاکستانی سفارت خانے میں آ کر بیان ریکارڈ کروانے کی بھی پیش کش کی تھی لیکن انھوں نے اس سے بھی انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ٹیم کے ارکان قطر آئیں تو وہ تمام ثبوت فراہم کردیں گے۔

پاناما لیکس سے متعلق تحقیقات کرنے والی ٹیم دس جولائی کو اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائے گی۔

قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر جے آئی ٹی قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کیے بغیر اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرواتی تو اسے نا مکمل تصور کیا جائے گا اور نا مکمل رپورٹ پر کسی کو قصوروار نہیں گردانا جاسکتا ہے۔

پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروانے کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس نیا بینچ تشکیل دینے یا پاناما کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے والے بینچ کو ہی اس حتمی رپورٹ کا جائزہ لینے کا حکم دے سکتے ہیں۔

اسی بارے میں