کیا سانحہ احمد پور سے کوئی اچھی چیز جنم لے سکتی ہے؟

احمد پور شرقیہ سانحے میں زخمی ہونے والا ایک شخص

صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور سے تقریباٌ 40 کلومیٹر کے فاصلے پر احمد پور شرقیہ کے قریب عید الفطر سے محض ایک دن قبل آئل ٹینکر کے الٹنے کی بعد آگ لگنے کے سانحے میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہیں۔

مرنے والوں میں 125 افراد تو ٹینکر کے قریب پھیلے تیل میں آگ لگتے ہی موقعے پر ہلاک ہو گئے تھے جن کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد لی جا رہی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق زیادہ تر زخمیوں کے جسم 80 سے 90 فیصد جھلس چکے تھے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شاید یہی وجہ تھی کہ آنے والے سات سے آٹھ دنوں میں ملتان، بہاولپور اور لاہور کے ہسپتالوں میں زیرِ علاج 80 سے زائد زخمی ہلاک ہو گئے۔

لاہور کے جناح ہسپتال میں 23 زخمیوں کو لایا گیا تھا۔ منگل کی روز تک ان میں سے 15 ہلاک ہو چکے تھے، صرف ایک سات سالہ بچہ صحت یاب ہو کر گھر واپس گیا جبکہ چھ افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں۔

ان چھ زخمیوں کے جسموں پر گذشتہ دو دنوں میں سکن گرافٹنگ یعنی جلد کی پیوند کاری کی گئی ہے۔ اس عمل کے تحت مریض کے جسم سے جھلسی ہوئی جلد کو ہٹا کر نئی جلد پیوند کی جاتی ہے۔ تاہم اگر یہ جلد مریض کی اپنی نہ ہو یعنی کسی اور نے عطیہ کی ہو تو وہ عارضی ہوتی ہے۔

ایسی جلد اس وقت تک جسم پر پوجود رہتی ہے جب تک زخمی شخص کی اپنی نئی جلد کی نشو نما مکمل نہیں ہو جاتی۔ سانحہ احمد پور شرقیہ کے زخمیوں پر پیوند کی جانے والی جلد بھی عطیہ کی گئی ہے مگر یہ عطیہ پاکستان سے باہر امریکہ کی کمیونٹی ٹشو سروسز نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے دیا ہے جسے خصوصی طریقہ کار کے ذریعے محفوظ کر کے پاکستان لایا گیا ہے۔

Image caption پاکستانی ہسپتالوں میں ماہر ڈاکٹر موجود ہیں، بس کمی ہے تو جلد کے عطیے کی

جناح ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سہیل ثقلین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سکن گرافٹنگ کی مدد سے نہ صرف زخمیوں کی جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ ان کی مکمل صحت یابی کے حصول میں بھی مدد ملتی ہے۔

’جب جسم جھلس جاتا ہے تو اس میں ایک سے زائد زخم ہو سکتے ہیں۔ انسانی جسم کی حرکیات تبدیل ہو جاتی ہیں اور وہ زندگی کے لیے جدوجہد کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں اگر اس کے جسم پر جلد کی ایک حفاظتی تہہ لگا دی جائے تو اس سے بہتری آتی ہے۔‘

ڈاکٹر سہیل ثقلین کے مطابق اس قسم کی سرجری کے لیے ماہر ڈاکٹروں اور سرجنوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کی خدمات انھیں پاکستان میں میسر ہیں۔ امریکہ سے ایک ہزار مربع سینٹی میٹر جلد کی گرافٹ لاہور بھیجی گئی ہے اور ڈاکٹر سہیل ثقلین کے مطابق یہ 30 سے 40 زخمیوں پر پیوند کاری کے لیے کافی ہے۔

ڈاکٹر سہیل ثقلین کے مطابق منگل کے روز تک ملتان کے پاک اٹالین برن سنٹر میں زیرِ علاج زخمیوں میں سے چار افراد پر بھی ان کی مدد سے پیوند کاری کی جا چکی ہے۔ جب کہ بہاول وکٹوریہ ہسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طاہرہ پروین نے بی بی سی کو بتایا کہ بہاولپور میں بھی اس وقت تک کم از کم دو زخمیوں پر اس قسم کی پیوند کاری کی جا چکی ہے۔

تاہم یہ پیوند کاری سانحے کے تقریباٌ ایک ہفتہ بعد عمل میں آ سکی۔ جناح ہسپتال لاہور کے برن اور ریکنسٹرکٹو سرجری سنٹر کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر معظم تارڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا کہ اگر زیادہ جھلسے ہوئے مریضوں پر جلد کی پیوند کاری فوری کی جاتی تو ان کے بچنے کے امکانات بہتر ہو سکتے تھے۔

’بد قسمتی سے ہمارے پاس جو زخمی لائے گئے ان کے جسم کی اندرونی اعضا خصوصاٌ سانس لینے کا نظام یعنی پھیپھڑے بھی متاثر ہو چکے تھے لہٰذا اس قسم کی مریضوں پر پیوند کاری کا عمل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔‘

پیوند کاری میں تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جلد کے عطیات پاکستان میں میسر نہیں تھے جنھیں امریکہ سے منگوانا پڑا۔ ڈاکٹر معظم تارڑ کا کہنا تھا کہ اگر یہ گرافٹ پاکستان میں دستیاب ہوتے تو پیوند کاری کا عمل جلد شروع کیا جا سکتا تھا۔

Image caption ڈاکٹر سہیل ثقلین نے پہلا قدم اٹھاتے ہوئے اپنی جلد عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے

’ہم شاید مزید زندگیاں بچا سکتے۔ خصوصاٌ اس قسم کے سانحے کی صورت میں آپ کے پاس پہلے سے قائم شدہ ایک نظام ہونا چاہیے تبھی آپ بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پیوند کاری کا عمل کچھ خاص مشکل کام نہیں اور ان کے زیادہ تر سرجن اس میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے ہسپتالوں میں اس کا نظام بھی تیار ہے۔

’اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ کے پاس ایسے افراد ہوں جو اپنی زندگی میں ہی اپنی جلد کا عطیہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

ڈاکٹر معظم تارڑ کا کہنا ہے کہ ایسے عطیات کی عدم دستیابی کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اس قسم کی عطیات کا رواج نہیں ہے۔ ملک میں جلد سمیت دیگر اعضا کی پیوند کاری کے حوالے سے قوانین اور ادارے بھی موجود ہیں۔

’کوئی بھی اگر جلد عطیہ کرنا چاہے تو ہمارے پاس اس کو حاصل کرنے سے لیکر اس کو بنک میں محفوظ کرنے تک تمام سہولیات موجود ہیں۔ تاہم عطیہ کرنا لوگوں کا کام ہے۔‘

ڈاکٹر معظم تارڑ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے آگاہی مہم چلانے اور اسے پھیلانے کی ضرورت ہے، جس کا آغاز وہ خود سے کر چکے ہیں۔

وہ میڈیا کے ذریعے اپنی جلد عطیہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ جس سے متاثر ہو کر ان کے خاندان کے چھ لوگوں نے بھی ڈونر یا جلد عطیہ کرنے والا بننے کا عندیہ دیا ہے۔

’اس سانحہ احمد پور شرقیہ سے ایک اچھی چیز جنم لے سکتی ہے، جس میں ہم ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں