باجوڑ جہاں 'اربوں کی تجارت' ہوتی تھی

باجوڑ ایجنسی

باجوڑ ایجنسی کے مشہور گاؤں ڈمہ ڈولا کی سنسان سڑک مرکزی بازار 'عنایت کلے' لے جاتی ہے ۔ ڈمہ ڈولا کی وجہ شہرت یہاں ہونے والے وہ امریکی ڈرون حملے ہیں جن میں اسامہ بن لادن کے بعد القاعدہ کے اہم ترین لیڈر ایمن الظواہری کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ تب ڈمہ ڈولا سمیت باجوڑ ایجنسی کے اہم سرحدی علاقے مکمل طور پر القاعدہ اور طالبان جیسے شدت پسند گروہوں کے کنٹرول میں تھے۔ اِنہی میں ایجنسی کا مرکزی بازار عنایت کلے بھی شامل تھا۔

سینکڑوں چھوٹی بڑی دکانوں پر مشتمل یہ بازار پاک افغان سرحد سے تقریباً سات کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کبھی یہاں سالانہ'اربوں روپے کی تجارت' ہوتی تھی۔

عنایت کلے کو فوجی آپریشن کے دوران خاص اہمیت حاصل رہی۔ دہشت گردوں کا اہم مرکز ہونے کی وجہ سے دو مختلف کارروائیوں میں یہاں جیٹ طیاروں نے بمباری کی اور یہ بازار تباہ کیا گیا۔

یہیں ہماری ملاقات 60 سالہ حاجی محمد خان سے ہوئی جو اس بازار کے منتظم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بمباری کے بعد انھوں نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر دو بار یہ بازار تعمیر کیا۔'اب سکیورٹی صورتحال قابو میں ہے، اس لیے دکانوں کا کام ٹھیک چلتا ہے۔'

مگر کچھ دیر بعد سرگوشی کے انداز میں حاجی محمد خان نے بازار کے ایک کونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ہمیں 'طالبان سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ' دکھاتے ہوئے بتایا: 'پہلے یہ یہاں ہر طرف تھے، اب ان کے 'سلیپر سیلز' ہیں، پہلے یہ دھمکیاں دیتے تھے، قتل کرتے تھے، بھتہ وصول کرتے تھے اور خوف کے باعث کوئی بول نہیں سکتا تھا۔ مگر اب اِن سے کوئی نہیں ڈرتا۔'

Image caption حاجی محمد خان کہتے ہیں کہ پہلے طالبان یہاں ہر طرف تھے، اب ان کے سلیپر سیل ہیں

اس سوال پر کہ اگر ان افراد کا تعلق ایک شدت پسند تنظیم سے ہے تو یہ شہر کے مرکزی بازار میں کیسے کھڑے ہیں اور کیا یہ اب بھی تاجروں کو دھمکیاں دیتے ہیں؟ حاجی محمد خان نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بتایا کہ قبائلی علاقوں کے عوام پاکستان میں کہیں بھی کاروبار شروع کریں ، 'طالبان دھمکیاں دیتے ہیں اور بھتہ بھی وصول کرتے ہیں۔'

مگر کیا فوجی آپریشن کے خاتمے اورعلاقے کا کنٹرول سِول حکومت کے سپرد کیے جانے کے بعد یہاں معیشت میں بہتری آئی ہے؟

اس کا جواب عوام اور حکومت دونوں سے ہی نفی میں ملتا ہے۔

واضح رہے کہ باجوڑ ایجنسی فاٹا کی سات ایجنسیوں میں سے ایک ہے، یہ رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی لیکن ایک اندازے کے مطابق آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ایجنسی ہے۔ ایجنسی کے دوسری جانب افغان صوبہ کنڑ واقع ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں کاالعدم تحریک طالبان پاکستان کی قیادت موجود ہے۔ اس سرحد پر تین باقاعدہ کراسنگ پوائنٹس ہیں جن میں سے ایک تجارت کے لیے مختص ہے۔ 2008 میں فوجی آپریشن سے پہلے ایجنسی کی تجارت کا سب سے زیادہ دارومدار انھی کراسنگ پوائنٹس پر تھا، جنہیں بند ہوئے ایک دہائی ہونے کو ہے۔ ان راستوں کے ذریعے افغانستان کے ساتھ بڑے پیمانے پر دیودار کی قیمتی لکڑی اور گاڑیوں کے پرزہ جات کے علاوہ کپڑے اور ماربل کا کاروبار کیا جاتا تھا ۔

باجوڑ چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی لال شاہ سرحد کی اس قدر طویل بندش کو علاقے میں غربت اور معاشی استحصال کی سب سے بڑی وجہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں کی عوام نے حکومت اور فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں، 'لیکن اب ایسا لگتا ہے جیسے حکومت کی توجہ صرف لاہور کی سڑکوں اور اسلام آباد کی بسوں پر ہے۔' ان کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد بند ہے مگر 'بجٹ بھی اتنا نہیں ملتا کہ لوگوں کے لیے مواقع پیدا کیے جائیں۔'

خیال رہے کہ ان قبائلی علاقوں میں سنگ مر مر اور دیگر معدنیات وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں مگر 'بجلی اور سڑکیں نے ہونے کے باعث ان کا کاروبار ممکن نہیں'۔ حاجی لال شاہ کہ مطابق یہاں سالانہ 50 ارب روپے تک ہونے والی تجارت سرحد بند ہونے کے بعد صفر ہو چکی ہے۔

Image caption عنایت کلے بازار

دوسری جانب ایجنسی انتظامیہ بھی وفاقی حکومت کی طرف سے مدد نہ ملنے، سرمایہ کاروں میں عدم تحفظ کا احساس اور کئی سالوں سے بند پاک افغان سرحد کو ابتر معیشت کا ذمہ دارٹھہراتی ہے۔

باجوڑ ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ محمد علی خان نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ اب سکیورٹی صورتحال قابو میں ہے مگر سرمایہ کار یہاں آنے سے کتراتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس قبائلی علاقے میں معاشی حالات بہتر ہونے میں ابھی دس سال لگیں گے، 'لیکن یہ بھی تب ہی ممکن ہے جب ہمیں ضرورت کے مطابق بجٹ دیا جائے ، اور فاٹا اصلاحات لائی جائیں تاکہ این ایف سی ایوارڈ میں ہمارا حصہ مقرر ہو سکے۔'

ایجنسی میں باڑ لگانے کا کام جاری ہے تاہم پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق 'بارڈر فینسنگ ہونے کے بعد بھی یہاں تجارت کے لیے سرحد کھلنے کا کوئی امکان نہیں۔'

واضح رہے کہ پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے باجوڑ ایجنسی کے حالیہ دورے میں کہا تھا کہ سرحد پر باڑ لگانے کے پہلے مرحلے میں باجوڑ ایجنسی میں کام مکمل کیا جائے گا۔

یہاں کے قبائل بھی وفاقی حکومت سے سخت نالاں نظر آتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق پاک افغان سرحد بند ہونے سے ہزاروں افراد تو بے روزگار ہوئے مگر یہاں سبزیوں، پھلوں اور روز مرہ استعمال کی دیگر اشیا کا اندرونِ ملک کاروبار بھی بند ہے، جبکہ جگہ جگہ سنگ مر مر کے لیے موجود کارخانوں میں مشینیں کو زنگ لگ رہا ہے۔ 'ایجنسی سے باہر جاؤ تب بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے، اندر آئیں تب بھی ایک ہزار روپے ٹیکس ہے ، دکانوں کے ٹیکس الگ ہیں، ایسے میں غریب آدمی کیسے کاروبار کر سکتا ہے۔'

باجوڑ ایجنسی کی مسائل میں گِھری تاجر برادری میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، انھیں شکوہ ہے کہ 'شاید قبائل کو پاکستان کا حصہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔'

ان کا کہنا ہے کہ وہ 'پاکستان کے لیے اپنی جان کی قربانی دیتے ہیں، ہمیں ہمارے حقوق دییے جائیں۔ حکومت بھول جاتی ہے کہ غربت اور بےروزگاری ہی دہشت گرد پیدا کرتی ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں