ذاتی کاروبار پر نہ سوال کیا جا سکتا ہے، نہ جواب دینا ضروری ہے: مریم نواز

مریم نواز تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مریم نواز کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کا محور ان کے خاندان کا دہائیوں قبل کا کاروبار ہے

پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے پاناما معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد کہا ہے کہ اس تحقیقاتی ٹیم کے ارکان بھی نہیں جانتے کہ ان پر کیا الزامات ہیں۔

مریم نواز بدھ کی صبح فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئیں جہاں تقریباً دو گھنٹے تک ان سے سوالات کیے گئے۔

مریم نواز اکیلی خاتون نہیں ہیں

اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جا سکتے: نواز شریف

کون سے وزرائے اعظم پیش ہوئے؟

جے آئی ٹی شہزادے سے پوچھ گچھ کے لیے قطر پہنچ گئی

اس پوچھ گچھ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ جے آئی ٹی کے تمام سوالات کے جوابات دے آئی ہیں اور انھوں نے کہا کہ آج 'میں نے وہ قرض بھی اتار دیے ہیں جو مجھ پر واجب بھی نہیں تھے۔'

انھوں نے کہا کہ 'جو کچھ مجھ سے پوچھا گیا میں نے اس کا جواب دیا۔ لیکن میں نے آخر میں جے آئی ٹی سے کہا کہ ایک سوال میرا بھی ہے کہ مجھے یہ بتائیے کہ ہم پہ الزام کیا ہے، ان کے پاس اس بات کا جواب نہیں تھا۔'

انھوں نے کہا کہ 'دنیا بھر میں الزامات لگتے ہیں پھر تحقیقات ہوتی ہیں یہ پہلی جے آئی ٹی ہے جس کی تشکیل پہلے ہوئی اور وہ ابھی الزام ڈھونڈ رہی ہے۔'

مریم نواز کا کہنا تھا اگرچہ پاناما کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور حکم نامے میں ان کا نام نہیں تھا لیکن وہ پاکستان کی بیٹی اور ملک میں برسراقتدار وزیراعظم کی بیٹی ہونے کے حیثیت سے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پیشی کے موقع پر مریم کے ہمراہ ان کے دونوں بھائیوں کے علاوہ وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب بھی آئیں

مریم نواز نے یہ بھی کہنا کہ پاناما پیپرز کے بعد ڈان لیکس کے معاملے میں بھی ان کا نام اچھالا گیا اور ان تمام سرگرمیوں کا بنیادی مقصد ان کے والد اور ملک کے وزیراعظم پر دباؤ ڈالنا تھا۔

'اس کا مقصد ایک باپ کو بیٹی کے نام پر کمزور کرنا ہے۔ نواز شریف کی بیٹی کو اس کی کمزوری سمجھنے والے اسے اس کی طاقت پائیں گے۔'

مریم نواز نے مزید کہا کہ 'ہم بھی استثنیٰ کا سہارا لے کر بچ سکتے تھے۔ مگر ہم نے تین نسلوں کا حساب دیا۔ چھ ماہ سپریم کورٹ میں کیس چلا کچھ نہیں نکلا۔ جے آئی ٹی میں آ کر مجھے احساس ہوا کے ان کے پاس بھی کچھ نہیں ہے۔'

ان کا کہنا تھا جے آئی ٹی کی تحقیقات کا محور ان کے خاندان کا دہائیوں قبل کا کاروبار ہے اور 'پاکستان کے تمام ہی بڑے بڑے منصوبوں پر مسلم لیگ نواز کی مہر ہے مگر ان تمام منصوبوں میں ایک پائی کی بدعنوانی کا الزام نہیں لگا۔

'رہی بات خاندانی کاروبار کی۔ ساٹھ یا ستر ، اسی کی دہائی میں خاندان کے کاروبار سے متعلق سوال ہو رہے ہیں۔ اس میں اگر عوامی پیسہ شامل ہو تو اس کا جواب دینا بنتا ہے۔ لیکن ذاتی کاروبار پر نہ تو سوال کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کا جواب دینا ضروری ہے۔ '

Image caption مریم نواز کی پیشی کے موقع پر مسلم لیگ ن کے کارکن بھی جوڈیشل اکیڈمی کے باہر جمع تھے

مریم نواز جب جے آئی ٹی میں پیشی کے لیے آئیں تو ان کے ہمراہ ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر اور بھائیوں حسن اور حسین نواز کے علاوہ وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب بھی تھیں۔

پیشی کی مناسبت سے دارالحکومت اسلام آباد میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے اور پولیس نے ان کی آمد سے قبل مسلم لیگ ن کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو راستے میں ہی روک لیا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے میں جے آئی ٹی کو وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز سے تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا اور اس فیصلے میں مریم نواز سے تحقیقات کا ذکر نہیں تھا۔

سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو دس جولائی کو اپنی تحقیقات مکمل کر کے حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں