مریم نواز کی سکیورٹی وزیر اعظم سے بھی زیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف بدھ کے روز پہلی بار پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی چھ رکنی ٹیم کے سامنے پیش ہوئیں تو اُن کی سکیورٹی کے لیے وزیر اعظم کی پیشی سے بھی زیادہ اہلکار تعینات تھے۔

میاں نواز شریف کی پیشی کے لیے دو ہزار پانچ سو پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے جبکہ مریم نواز کے لیے دو ہزار پانچ سو پچاس اہلکار تعینات تھے جن میں لیڈی پولیس کمانڈو شامل تھیں اور اُنھیں علی الصبح ہی وہاں پر تعینات کردیا گیا تھا۔

٭ ’ذاتی کاروبار پر نہ سوال کیا جا سکتا ہے،نہ جواب دینا ضروری‘

٭ مریم نواز اکیلی خاتون نہیں ہیں

مقامی وقت کے مطابق دن 11 بجے سے پہلے مریم نواز وفاقی جوڈیشل اکیڈمی پہنچیں تو وہاں پر اُن کے استقبال اور سکیورٹی پر مامور خاتون ایس پی سپیشل برانچ ارسلہ خان نے اُنھیں سیلوٹ کیا جس کو حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

کسی پولیس افسر نے وزیر اعظم کے بچوں کو سیلوٹ کرکے کوئی انوکھا کام نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے سابق فوجی صدر پرویز مشرف جب ملزم کی حثیت سے عدالتوں میں پیش ہوتے تھے تو اُنھیں بھی وہاں پر تعینات پولیس اہلکار سیلوٹ کرتے تھے تب تو اس پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PMLN

ایس پی سپیشل برانچ ارسلہ خان اس کمرے میں بھی موجود تھیں جہاں پر وزیر اعظم کی صاحبزادی سے جے آئی ٹی کے ارکان اُن سے پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ جے آئی ٹی کے ارکان نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو مریم نواز کی پیشی کے لیے کسی خاتون افسر کو تعینات کرنے کے لیے خط لکھا تھا۔

مریم نواز جب جلدی میں گاڑی سے باہر نکلیں تو باہر نکلتے ہوئے اُن کے ہاتھ سے کوئی چیز گر گئی جسے مزکورہ خاتون افسر نے اُٹھا کر وزیر اعظم کی صاحبزاری کو دی تو وہاں پر موجود میڈیا کے نمائندوں نے اُونچی آواز میں فقرہ کسا کہ ’قدموں میں تیرے جینا مرنا اب دور یہاں سے جانا کیا‘ اس فقرے پر ایک زور دار قہقہ بلند ہوا۔

٭ 'یار وزیر اعظم نے کدوں واپس جانا اے'

٭ اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جا سکتے: نواز شریف

مریم نواز کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکار بھی اس فقرے پر اپنی ہنسی روکنے میں ناکام رہے۔

پیشی کے بعد مریم نواز نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو تو ضرور کی لیکن اپنے والد یعنی وزیر اعظم نواز شریف کی طرح کسی بھی سوال کا جواب دیے بغیر ہی وہاں سے چلی گئیں۔

جے آئی ٹی کی ٹیم جوں جوں اپنی تفتیش مکمل کرنے کے قریب آرہی ہے توں توں وزیر اعظم کے خاندان اور حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے رویوں میں بھی تلخی آتی جارہی ہے جس کا برملا اظہار وہ عوامی جلسوں اور میڈیا ٹاکس میں بھی کرتے رہے ہیں۔

وزیر اعظم کی صاحبزادی کی پیشی کے موقع پر اُن کے خاوند محمد صفدر سے زیر کفالت ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ غصے میں آگئے اور اُنھوں نے سوال کرنے والے صحافی کو ہی سنا دیا کہ ’اُنھوں نے بھی چار ماہ قبل زیر کفالت آنے کے لیے مجھے پیغام بھیجے تھے جو ابھی تک اُن کے پاس محفوظ ہیں‘۔

اس جواب کے بعد مزکورہ صحافی غصے میں آگئے اور انھوں نے اس پر احتجاج بھی کیا لیکن دیگر صحافیوں نے اس معاملے پر ’متاثرہ صحافی‘ کے ساتھ اظہار یک جہتی نہیں دکھائی۔

اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کی ایک قابل ذکر تعداد بھی موجود تھی جنھوں نے ہاتھوں میں مریم نواز کے حق میں بینرز بھی اُٹھا رکھے تھے۔

ان کارکنوں کو روکنے کے لیے بھی پولیس کی اضافی نفری طلب کی گئی تھی۔ کارکنوں میں خواتین اور لڑکیوں کی بھی اچھی حاصی تعداد موجود تھی۔

پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی کو کارکنوں نے اپنے کاندھوں پر اُٹھا رکھا تھا۔ ایک کارکن اُنھیں اپنے کاندھے سے اتارتے تو فوری طور پر دوسرے کارکن اُنھیں اُٹھانے کے لیے آجاتے جس پر عابد شیر علی نے برجستہ جملہ کہا کہ ’اوے میں وزیر آں کوئی فٹ بال نیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں