'غفار خان غیر آمادہ قوم پرست'

غفار خان تصویر کے کاپی رائٹ Empics

جمعہ خان پاکستان اور افغانستان کے پشتون حلقوں میں اپنے ماضی کی کمیونسٹ اور قوم پرست سیاست کی وجہ سے ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں لیکن وہ زیادہ حلقوں میں موضوع بحث اپنی پہلی پشتو کتاب 'درمسال لہ ختی' کے اردو ترجمے 'فریب ناتمام' کے سامنے آنے کے بعد بنے۔

جمعہ خان صوفی کی ایک نئی کتاب 'غفار خان غیر آمادہ قوم پرست' منظر عام پر آئی ہے۔

ان کی پہلی کتاب کی طرح شاید ان کی دوسری پیشکش بھی کئی لوگوں کو پسند آئے اور کئی اس سے خوش نہیں ہوں گے۔

کتابوں کے بجائے انسانوں کی لائبریری

ارائیں بچے کا دل وحشی ہوگیا

ان کی دوسری کتاب انگریزی زبان میں ہے لہذا اس کے پڑھنے والے بھی شاید محدود ہی ہو لیکن ایک مرتبہ پھر وہ اس کتاب میں پشتون سیاست کی عظیم شخصیت عبدالغفار خان یا باچا خان کے بارے میں برطانیہ میں تحقیق اور اپنے ذاتی علم کی روشنی میں کئی سوال اٹھاتی ہے۔

یہ کتاب باچا خان، کانگرس اور صوبہ سرحد میں قوم پرست سیاست پر مبنی ہے۔ اس ضمن میں پشتون رہنما غفار خان کے کردار پر تنقیدی نکتہ نظر سے جائزہ لیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر یہ کہ بھارت اور پاکستان کی تقسیم کے موقع پر غفار خان تنہا کیوں چھوڑ دیے گئے۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ وہ تقسیم ہند کے قائل نہیں تھے لیکن وہ بقول جمعہ خان آخر تک یہ سمجھ نہیں پائے کہ تقسیم کیوں ہوئی؟ اور کس نے اس بارے میں کیا کردار ادا کیا؟۔

مصنف نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تقسیم ہند کے ذمہ داران کانگریسی رہنما تھے نہ کہ قائد اعظم یا مسلم لیگ۔ اس کی وجہ کانگریس کی خواہش تھی کہ وہ ایک ایسا ہندوستان بنائے جس میں وہ بلا شرکت غیرے حکومت کر سکے۔

جعمہ خان کے مطابق کانگریسی رہنما مسلم لیگ کی موجودگی میں ایسا کر نہیں پا رہے تھے اس لیے انھوں نے جناح کے پیچھے چھپ کر ہندوستان کی یکجہتی پر وار کیا ورنہ قائداعظم ایک متحدہ اور کمزور وفاقی ہندوستان کے لیے آمادہ تھے۔

مصنف کا کہنا ہے کہ باچا خان عمر کے آخری حصے میں جا کر سمجھ پائے کہ ان سے بے وفائی دراصل کانگرس کی ہندو قیادت نے نہ کہ جناح نے کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کے حق میں یہ بات جاتی ہے کہ غفار خان مرکزی سطح پر کانگرس کے رہنما تھے لیکن وہ صوبائی سطح پر اپنی تنظیم کو گاندھی جی کے اصرار کے باوجور کانگریس کے تحت لانے کے خلاف تھے۔اس طرح سے وہ کانگریس میں تھے بھی اور نہیں بھی اور اس کی وجوہات مصنف نے کھل کر بیان کی ہیں۔

مصنف کے مطابق صوبہ سرحد میں ڈاکڑ خان کی حکومت جو انگریزوں کے بقول اخلاقی، سیاسی اور قانونی جواز کھو چکی تھی لیکن ایک آئینی منطق کے تحت چل رہی تھی اور انگریز نہیں چاہتے تھے کہ ان کے آخری ایکٹ کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔ 'تو اس لیے جناح کو یہ کام سونپا گیا اور جناح مجبور تھے چونکہ صوبائی حکومت پاکستان کے قیام کے مخالف تھی۔'

جمعہ خان صوفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یہ کتاب لکھنے کا خیال لندن میں ایک سال کے قیام کے دوران آیا۔ 'کتاب کی ایک دکان میں ایک انگریز کی لکھی کتاب کے ایک باب کے مطالعے کے دوران خیال آیا کہ کیوں نہ اس میں لکھی باتوں پر مزید تحقیق کی جائے۔'

مصنف نے باچا خان کے بارے میں بعض تاثرات کے بارے میں لکھا کہ وہ غلط ہیں۔ ان میں سے ایک کہ وہ پشتونوں کی تعلیم کے ابتدائی داعیوں میں سے ایک تھے۔ جمعہ خان تاہم کہتے ہیں کہ آج کے خیبر پختونخوا میں جدید تعلیم لانے والے وہ نہیں بلکہ برطانوی مشنری تھے جنھوں نے سنہ 1855 میں ایڈورڈز ہائی سکول کی بنیاد رکھی تھی۔

مصنف نے جنگ آذادی میں پختونوں کے کردار پر کافی روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے ڈاکڑ خان کی صوبائی حکومت کی کارکردگی کا بھی تفصیل سے ذکر کیا اور لکھا ہے کہ اس وقت ان کے ایجنڈے میں صوبہ سرحد کا نام اور وسیع صوبائی خود مختادی نہیں تھی کیونکہ وہ کانگریس کے زیر اثر تھے۔ کانگریس کے بقول ان کے ایک ہمہ گیر ہندوستان پارٹی تھی۔

جعمہ خان صوفی نے صوبہ سرحد میں غفار خان کے کردار، ان کے کانگریس کے ساتھ روابط، وقتا فوقتا جیل یاترا، تقسیم ہند پر ان کا موقف، پاکستان بننے کے بعد ان سے زیادتی اور دیگر بہت سے موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔

یہ کتاب خیبرپختنوا کے مکالمہ کے لیے خصوصاً اور پاکستان میں سیاست کے طالب علم کےلیے ایک کارآمد کتاب ثابت ہو سکتی ہے۔

جمعہ خان کے بارے میں اپنا تاثر قلمبند کرتے ہوئے معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہارون الرشید نے لکھا وہ (جمعہ خان) سچا اور مدلل شخص ہے، یہی وجہ ہے کہ مرحوم اجمل خان انھیں صوفی کہہ کر پکارتے تھے۔'

سینئیر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے بھی کتاب کے بارے میں اپنے تاثرات میں لکھا ہے کہ اب وقت ہے کہ ممنوعات کو ختم کر کے سرکاری طور پر ان لوگوں کی زندگیوں کا تنقیدی جائزہ لیا جائے جن کے فیصلوں نے قوم کی تقدیر متاثر کی۔ 'چاہے وہ غفار خان ہوں، قائد اعظم یا لیاقت علی خان ان کے فیصلوں پر تازہ نظر ڈالنے کا یہ بہترین وقت ہے۔'

یہ کتاب پاکستان کے قیام کے 70 ویں برس میں سامنے آئی ہے اور شاید اس تازہ جائزے کے لیے اس سے بہترین وقت اور کوئی نہیں ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں