’عورت کو اگر چار دیواری میں بٹھانا ہو تو اسے پارلیمان میں نہ لائیں‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عورت کا کہیں چار دیواری کا بہانہ کرنا اور کہیں پر پبلک فگر بن جانا ٹھیک نہیں ہے

پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو بدھ کو پیشی پر بلایا تو اس پر پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔ اس سلسلے میں جب انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور معروف وکیل عاصمہ جہانگیر سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ 'عورت کو اگر چار دیواری میں بٹھانا ہو تو اسے پارلیمان میں نہ لائیں۔'

بی بی سی سے گفتگو میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ 'پارلیمان میں جانے کے لیے فوراً تیار لیکن دوسری جگہ جانے کے لیے کبھی چار دیواری کا بہانہ کرنا اور کہیں پر پبلک فگر بن جانا۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔'

’ذاتی کاروبار پر نہ سوال کیا جا سکتا ہے،نہ جواب دینا ضروری‘

مریم کی سکیورٹی وزیر اعظم سے بھی زیادہ

مریم نواز اکیلی خاتون نہیں ہیں

پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے مریم شریف کی پیشی کو ایک شریف عورت کی مظلومیت کی حیثیت سے پیش کیا گیا جس کے بارے میں عاصمہ جہانگیر نے تبصرہ کیا کہ یہ بالکل نامناسب تھا۔

'کیا بےنظیر بھٹو شریف عورت نہیں تھیں؟ وہ تو ایسے عدالتوں میں جاتی تھیں کہ ایک دن کراچی اور اگلے دن لاہور اور اس کے بعد پشاور اور پھر کوئٹہ۔ میں سمجھتی ہوں کہ سیاست میں آنے والوں کو سخت جان ہونا چاہیے کیونکہ اگر سیاست کرنی ہے تو یہ سب تو ہو گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپنے والد اور دونوں بھائیوں کے بعد مریم نواز بھی پاناما پیپرز کی تفتیش کے لیے قائم کمیشن کے سامنے جمعرات کو پیش ہوئیں

مریم نواز کی پیشی کے بارے میں عاصمہ جہانگیر نے مزید کہا کہ 'میں نے خود مریم نواز کی ٹویٹس پڑھی ہیں اور انھوں نے تو بہت دلیری سے کہا ہے کہ وہ جے آئی ٹی کے سامنے جائیں گی۔ میرے خیال میں باقی لوگوں کو بھی چاہیے کہ مریم کو نواز شریف کے بیٹوں کی طرح دیکھیں اور بیٹے بیٹی میں فرق نہ کریں۔'

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عورتیں روزانہ عدالتیں جاتی ہیں اور وہ کوئی ایسی بدنام زمانہ جگہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوگ عدالت انصاف لینے اور اپنے حقوق کی جنگ لڑنے جاتے ہیں۔

'میں خود 18 برس کی عمر سے عدالت جاتی رہی ہوں اور میرے خیال میں مرد اور عورت میں تفریق صرف اس صورت میں کی جانی چاہیے جب عورت پردہ نشین ہو اور وہ کسی کے سامنے نہیں آتی تو عدالت اس کے لیے کمیشن کا تعین کر سکتی ہے۔'

عاصمہ جہانگیر نے کہا ہماری جیسی خواتین پبلک فگر ہیں اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی جگہ جا سکتے ہیں اور کسی جگہ نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں