جھلسے ہوئے افراد کے لیے سہولیات کی کمی کیوں؟

احمد پور شرقیہ سانحے میں زخمی ہونے والا ایک شخص

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تمام جنوبی حصے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے واحد برن سنٹر یا جھلسے ہوئے مریضوں کے علاج کا مرکز ملتان میں موجود ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق تقریباً 55 بستروں پر مشتمل یہ مرکز صوبے کے اس وسیع اورگنجان علاقے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

کسی حادثے یا آفت کی صورت میں اس کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ حال ہی میں جنوبی پنجاب میں ملتان سے سو کلومیٹر کے فاصلے پر بہاولپور کے قریب احمد پور شرقیہ میں پیش آنے والے آئل ٹینکر میں آگ لگنے کے حادثے میں 200 سے زائد افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

تقریباً 59 زخمیوں کو ملتان منتقل کیا گیا جبکہ 23 کو لاہور کے جناح ہسپتال بھیجنا پڑا تھا۔ حکومتِ پنجاب صوبے میں دو مزید برن سنٹر تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں سے ایک جنوبی پنجاب میں تعمیر کیا جانا ہے۔

اس حوالے سے پی سی ون یا پروجیکٹ رپورٹ دو سال قبل تیار کی گئی تھی جبکہ ان مرکزوں کی تعمیر پر کم از کم مزید دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاہور میں جناح برن اینڈ ری کنسٹرکٹیو سرجری سنٹر کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر معظم تارڑ نے بتایا کہ ایک برن سنٹر راولپنڈی اور دوسرا بہاولپور میں تعمیر کیا جائے گا، جبکہ مزید برن یونٹس بنانے کا بھی منصوبہ ہے جو لاہور میں تعمیر کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر معظم تارڑ حکومتِ پنجاب کے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری کی جانب سے قائم کی جانے والی اس کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں جس کو صوبے میں ان طبی سہولیات کی تعمیر کے لیے منصوبہ بندی اور کوارڈینیشن کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

'ان برن سنٹروں کے قیام کی منصوبہ بندی سانحہ احمد پور شرقیہ سے پہلے کی گئی تھی جس کے حوالے سے پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے اور اس پر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات کی روشنی میں ضروری ترامیم کی جا رہی ہیں۔'

ڈاکٹر معظم تارڑ کے مطابق دونوں سنٹروں کو ملتان میں بننے والے برن سنٹر کی طرز پر تعمیر کیا جائے گا اور ان میں سے ایک سنٹر کی تعمیر پر ڈیڑھ سے دو ارب روپے لاگت آ سکتی ہے۔ لوگوں کی جھلسنے کی دیگر وجوہات کے علاوہ جنوبی پنجاب کے نسبتاً پسماندہ علاقوں سے تیزاب پھینکنے کے کافی واقعات سامنے آتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تیزاب کے حملوں سے متاثر ہونے والی خواتین کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ڈیپیلیکس سمائل اگین فاؤنڈیشن کی پبلک ریلیشنز مینیجر یاسمین ظہور کے مطابق 2005 سے اب تک پاکستان سے 756 تیزاب کے کیسز ریکارڈ ہوئے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق صوبے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نسبتاً پسماندہ علاقوں سے تھا۔

ایک واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دو ماہ قبل رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو تیزاب پھینک کر جلایا گیا جنھیں رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا مگر ایک ہفتے بعد وہ ہلاک ہو گئیں۔

ڈاکٹر معظم تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تیزاب پھینکنے کی واقعات میں کمی آئی ہے تاہم انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کے جھلسے ہوئے افراد کے علاج کے لیے ان علاقوں میں سہولیات ناکافی ہیں۔

ڈاکٹر معظم تارڑ نے بتایا کہ ان کے ترتیب دیے گئے روڈ میپ یا منصوبے کے تحت جناح برن اینڈ ری کنسٹرکٹیو سرجری سنٹر لاہور کو مرکز بنا کر صوبہ پنجاب کے بڑے شہروں میں برن سنٹر قائم کیے جائیں گے جبکہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں برن یونٹ اور ضلع کی سطح پر برن فیسیلٹی یا سہولت قائم کرنے کی تجویز ہے۔

بہاولپور میں بننے والا سنٹر تعمیر ہونے کے بعد قریب واقع ضلع لودھراں اور ملتان کے بھی کچھ علاقوں کی ضروریات کو پورا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب میں ملتان اور بہاولپور ہی دو موزوں جگہیں تھیں جہاں برن سنٹر قائم کیا جا سکتا ہے۔

جب تک بہاولپور کا سنٹر مکمل نہیں ہو جاتا جنوبی پنجاب کی ضروریات کو کیسے پورا کیا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر معظم تارڑ کا کہنا تھا کہ بہاولپور کے ہسپتال کے علاوہ رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال میں برن یونٹس کے لیے انسانی وسائل میسر ہیں۔ 'ہماری کوشش ہو گی کہ ان کو مزید ڈویلپ کیا جائے تا کہ یہ ملتان کا بوجھ تقسیم کر سکیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں