خطرناک مواد سے لدی گاڑیاں ’چلتے پھرتے بم‘ ہیں

ٹینکر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی سے وہاڑی ہزاروں لیٹر تیل لے جانے والا ٹینکر بستی رمضان جوئیہ کے قریب الٹ گیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور کے قریب گذشتہ ہفتے پٹرول لے جانے والے ٹینکر کے حادثے میں 200 سے زیادہ ہلاکتوں نے پاکستان میں خطرناک مواد کی سڑک کے ذریعے ترسیل کے نظام میں بہت سی خامیوں کو اجاگر کر دیا ہے۔

خطرناک مواد کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں، عملہ اور حفاظتی انتظامات کس معیار کے ہوں اس بارے میں تیل و گیس کے شعبے کے ریگولیٹری ادارے اوگرا نے بہت جامع رہنما اصول جاری کر رکھے ہیں لیکن ان پر عمل کروانے کے لیے کسی سطح پر کوئی باضابطہ نظام موجود نہیں ہے۔

ٹینکر حادثہ: ہلاکتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی

ٹینکر حادثہ: 'یہ کہنا مشکل ہے کہ موقع پر کتنے بچے ہلاک ہوئے'

بہاولپور: لواحقین کو اپنے پیاروں کی تلاش

ریگولیٹری ادارے کی حیثیت سے اوگرا تیل بیچنے والے نجی اداروں (آئل مارکیٹنگ کمپنیز) کو لائسنس جاری کرتے وقت اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ تیل کی ترسیل کے لیے جو گاڑیاں استعمال کریں وہ دنیا بھر میں نافذ اقوام متحدہ کے حفاظتی معیار پر پورا اترتی ہوں۔

Image caption پولیس، گاڑیوں کی رجسٹریشن کے اداروں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور بعض دیگر اداروں کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف مقرر کردہ حفاظتی معیار پر پورا اترنے والی گاڑیوں ہی کو سڑک پر آنے کی اجازت دیں: اوگرا ترجمان عمران غزنوی

لیکن اوگرا کے پاس ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے جس کے ذریعے وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ جو گاڑیاں پٹرول اور دیگر خطرناک مواد منتقل کر رہی ہیں وہ مطلوبہ معیار کے مطابق ہیں بھی یا نہیں۔

اس بارے میں اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس، گاڑیوں کی رجسٹریشن کے اداروں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور بعض دیگر اداروں کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف مقرر کردہ حفاظتی معیار پر پورا اترنے والی گاڑیوں ہی کو سڑک پر آنے کی اجازت دیں۔

'بادی النظر میں یہ تیل ترسیل کرنے والی کمپنیوں ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو گاڑیاں وہ استعمال کر رہے ہیں وہ محفوظ ہوں۔ اگر ہمیں شکایت ملتی ہے تو ہم کارروائی ضرور کرتے ہیں لیکن ملک میں چلنے والی ہزاروں گاڑیوں کی جانچ پڑتال ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔'

Image caption اگر اوگرا کی فراہم کردہ شرائط کے مطابق ٹینکر گاڑیاں بنائی جائیں تو ان گاڑیوں کے حادثات کی شرح اسی فیصد تک کم کی جا سکتی ہے: آئیل ٹینکر بنانے والی کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر شارق حسن

دوسری جانب تیل ترسیل کرنے والی کمپنیاں جن میں سے بعض کا منافغ کروڑوں ڈالر سالانہ ہے گاڑیوں کے حفاظتی انتظامات کے سلسلے میں ان نجی ٹھیکیداروں پر انحصار کرتی دکھائی دیتی ہیں جن سے وہ یہ گاڑیاں کرائے پر لیتے ہیں۔

پاکستان میں پٹرول، مٹی کے تیل اور جیٹ فیول کی ترسیل صرف سڑک کے راستے ہی ہوتی ہے۔

اس خطرناک ایندھن کی ترسیل کے لیے بعض اندازوں کے مطابق 15 ہزار گاڑیاں پاکستانی سڑکوں پر ہر وقت دوڑتی پھرتی ہیں لیکن ان میں سے صرف 10 سے 15 فیصد ہی ایسی ہیں جو اقوام متحدہ اور اوگرا کی جاری کردہ حفاظتی معیار پر پورا اترتی ہیں۔

Image caption تیل بیچنے والی بیشتر کمپنیاں تیل کی اندرون ملک ترسیل کے لیے نجی ٹھیکیداروں کی گاڑیاں استعمال کرتی ہیں: برگیڈئیر ریٹائرڈ ذوالفقار علی گورسی

آئل ٹینکر بنانے والی ایک کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر شارق حسن کے مطابق اگر اوگرا کی فراہم کردہ شرائط کے مطابق ٹینکر گاڑیاں بنائی جائیں تو ان گاڑیوں کے حادثات کی شرح 80 فیصد تک کم کی جا سکتی ہے۔

'اگر مطلوبہ معیار کی بریک گاڑی میں ہو اور اس کے ٹینک کی موٹائی معیار کے مطابق ہو تو اول تو گاڑی الٹے گی نہیں اور اگر الٹ بھی جائے تو 80 فیصد حادثات میں اس ٹینک کے اندر موجود پٹرول بہے گا نہیں جو اس طرح کے حادثے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا باعث بنتا ہے۔'

اس بارے میں جب اس تیل کی گاڑی کی مالک کمپنی شیل پاکستان سے رابطہ کیا گیا تو ان کے ترجمان نے بتایا کہ اس حادثے کے بارے میں تین مختلف تحقیقات چل رہی ہیں اور اس دوران وہ اس بارے میں کوئی بیان دینا مناسب نہیں سمجھتے۔

تیل بیچنے والی ایک کمپنی میں جنرل مینیجر سکیورٹی کے عہدے پر فائز رہنے والے برگیڈیئر ریٹائرڈ ذوالفقار علی گورسی خطرناک مواد سے لدی ان گاڑیوں کو 'چلتے پھرتے بم' قرار دیتے ہیں۔

Image caption پاکستان میں پٹرول، مٹی کے تیل اور جیٹ فیول کی ترسیل صرف سڑک کے رستے ہی ہوتی ہے

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ تیل بیچنے والی بیشتر کمپنیاں تیل کی اندرون ملک ترسیل کے لیے نجی ٹھیکیداروں کی گاڑیاں استعمال کرتی ہیں۔

'یہ گاڑیاں چونکہ کمپنیوں کی اپنی ملکیت نہیں ہوتیں اس لیے ان کے معیار کی جانچ کا نظام کاغذوں پر تو موجود ہوتا ہے لیکن اس پر مکمل طور پر عمل کروانا ممکن نہیں رہتا۔ نہ ان کمپنیوں اور نہ ہی اوگرا کے پاس ایسا نظام موجود ہے جو نجی مالکان کی ان گاڑیوں کو معیار کے مطابق رکھنے کے نظام کو عملاً نافذ کر سکیں۔'

اوگرا کے ترجمان اور سینیئر ایگزیکٹو عمران غزنوی اس تاثر سے اتفاق کرتے ہیں۔

'ریگولیٹر کے طور پر ہم تیل بیچنے والی کمپنیوں کو تو براہ راست ریگولیٹ کرتے ہیں لیکن گاڑیاں چلانے والے ٹھیکیدار ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ ان کو ضوابط اور حفاظتی انتظامات کا پابند بنانا انھی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے۔'

اوگرا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ ان کا ادارہ ایسی تجاویز پر غور کر رہا ہے کہ ان نجی ٹھیکیداروں اور ان کی گاڑیوں کو بھی اوگرا کے ساتھ رجسٹریشن کا پابند بنا کر ان کی بھی براہ راست نگرانی کا کام بھی خود سنبھال لے۔

'ایسا کرنے کے لیے اوگرا قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہو گی اور اگر حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز اتفاق کریں تو اوگرا اس بارے میں ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی سے وہاڑی ہزاروں لیٹر تیل لے جانے والا ٹینکر بستی رمضان جوئیہ کے قریب الٹ گیا تھا

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں