کچرے سے چاندی گھر

چاندی گھر

’مٹی کے گھروں کی جگہ چاندی کا گھر۔‘ نرگس لطیف گذشتہ دو دہائیوں سے یہ سوچ اور خیال لیے چل رہی ہیں لیکن 2005 سے لے کر اب تک صرف وہ 150 ایسے گھر بنا کر دے سکی ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں یومیہ 12 ہزار ٹن گھریلو اور صنعتی کچرا پیدا ہوتا ہے، جن میں سے کئی اشیا ری سائیکلنگ کے بعد دوبارہ استعمال کی جاتی ہیں۔ نرگس لطیف صنعتی کچرے اور پلاسٹک سے چاندی کے گھر بناتی ہیں۔

٭کراچی کا ’قیمتی‘ کچرا

نرگس لطیف بتاتی ہیں کہ ان کا بچپن سے یہ خواب تھا کہ وہ سائنس دان بنیں اور بالآخر انھوں نے چاندی ٹیکنالوجی کو متعارف کرا دیا۔

’آج سے 20،22 سال پہلے میں نے دیکھا کہ شہر میں گندگی کی انتہا ہے اس پر کام کیا جائے، یہ کوئی جن بھوت تو نہیں ہے، اس میں تو بڑی کام کی چیزیں ہیں۔‘

نرگس نے ’گل بھاؤ‘ کے نام سے اپنی تنظیم کا آغاز کیا اور ابتدائی طور پر شہر میں کچرا چننے والے افغانی اور ازبک بچوں کی مدد سے پلاسٹک کی تھیلیاں، فیکٹریوں کی پیکنگ سے بچ جانے والا میٹریل اکٹھا کرنا شروع کیا، جس سے بلاک بنائے گئے۔

چاندی گھر کی تعمیر میں تھرموپول میں پلاسٹک کی تھیلیاں بھرکر بلاک بنائے جاتے ہیں اور اس کے بعد ان بلاکس سے دیواریں بنائی جاتیں ہے اور ان کو پلاسٹک کے رسوں سے باندھا جاتا ہے جبکہ ستون کے لیے لکڑی زمین میں گاڑھ کر اس کے گرد یہ بلاکس باندھ دیے جاتے ہیں۔

نرگس لطیف کا کہنا ہے کہ چاندی نام بھی بھلا ہے اس لیے انھوں نے اسی نام کا انتخاب کیا ہے۔

’لوگ اس کا کاروبار کرنے لگیں تو یہ کچرا آپ کو ڈھونڈے سے نہیں ملے گا، جو اس وقت بدقسمتی سے ناسور بنا ہوا ہے، اسے جلایا جاتا ہے یا ندی نالوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔‘

2005 میں زلزلے کے بعد سیلاب کے متاثرین کے لیے یہ گھر بنائے گئے تھے۔ غریب کچی بستیوں کی زمین سرکاری یا کسی کی نجی ملکیت ہوتی ہے اس لیے وہاں یہ گھر نہیں بنائے جا سکتے۔

نرگس لطیف کا کہنا ہے کہ یہ گھر گرمی میں بھی ٹھنڈا رہتا ہے بارش میں تو لاجواب ہے کیونکہ پلاسٹک کو پانی خراب نہیں کرتا جبکہ کیڑا بھی نہیں لگتا۔ اس لیے دو تین سو سال یہ گھر چلتا رہے گا اس کے علاوہ یہ متحرک گھر ہے آج یہاں تو کل وہاں لگایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مٹی کے گھروں سے یہ گھر زیادہ مفید ہیں کیونکہ مٹی کے گھر تیز بارش میں گر جاتے ہیں، اس کے علاوہ مٹی کے گھر سے بیماریاں ہوتی ہیں کیونکہ مٹی میں کئی جراثیم موجود ہوتے ہیں اور بچے اسے ہاتھ لگاتے ہیں اور یہ جراثیم پیٹ میں جاتے ہیں اور بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔‘

گل بھاؤ اور نرگس لطیف کا کراچی میں کوئی ایک ٹھکانہ نہیں۔ ان کی یہ تجربہ گاہ اور ورکشاپ شہر کے مختلف علاقوں میں گھومتی رہتی ہے۔ کوئی مستقل اور وافر فنڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا مستقل ٹھکانہ نہیں۔

نرگس لطیف کا کہنا ہے کہ 20 سے 25 ہزار میں دو سے تین کمروں کا چاندی گھر بن سکتا ہے، جبکہ اس سے گودام بھی بنائے جاسکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا: ’ہم نے کراچی موٹر وے پولیس کے لیے ایک گودام بنایا ان کی بس ایک شرط تھی کہ یہ دھوپ کی شدت اور گرمی برداشت کر سکے اور ان کے کیمیکل کے ڈرم حفاظت سے رہیں۔ کیونکہ دھوپ اور گرمی کی وجہ سے یہ پھٹ جاتے تھے، ہم نے انھیں گودام بنا کر دیا جو بعد میں کامیاب رہا۔‘

گل بھاؤ نے صحرائے تھر کے ضلعی ہپستال کے قریب بھی ایک چاندی مسافر خانہ بنایا ہے، جس میں مریضوں کے ساتھ آنے والے لوگ کچھ گھنٹے رکتے ہیں۔

کراچی میں صفائی اور ماحول کی بہتری کے لیے پلاسٹک کے شاپنگ بیگز پر پابندی کے مطالبات ہوتے رہے ہیں، لیکن نرگس لطیف اس پابندی کی مخالف ہیں ان کے مطابق پابندی کے بجائے اس کو طریقہ کار سے جمع کریں اور بلاک بناکر گھر بنائیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں