پاڑہ چنار کے حاجی شیر حسن کے تینوں بیٹے دہشت گردی نے چھین لیے

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں رواں سال مختلف اوقات میں دہشت گردی کے چار بڑے واقعات ہوئے جن میں سو سے زیادہ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

ان حملوں میں طوری اور بنگش قبائل کے کئی چشم و چراغ اپنی زندگیوں کھو چکے ہیں۔

ان میں پاڑہ چنار کے ایک رہائشی حاجی شیر حسن بھی ہیں جن کے تین جوان بیٹے مختلف حملوں میں مارے گئے ہیں۔

پاڑہ چنار: دو دھماکوں میں 50 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

پاڑہ چنار: ہلاکتیں 24، پولیٹیکل انتظامیہ کے خلاف مظاہرے

چوہدری نثار نے الرٹ خود بھی پڑھے تھے کیا؟

حاجی شیر حسن کے ایک نوجوان صاحبزادے سجاد حسن تقریباً ایک دہائی قبل پاڑہ چنار میں ایک دھماکے میں ہلاک ہوئے جبکہ ان کے دوسرے دو بیٹے ممتاز حسن اور مہدی حسن پشاور اور پاڑہ چنار میں ہونے والے دھماکوں میں ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والے تینوں بیٹوں کی عمریں 18 سال سے 22 سال کے درمیان تھیں۔ ان کے دو بیٹے شادی شدہ تھے جبکہ ایک غیر شادی شدہ تھا۔ حاصجی شیر حسن کے بیٹے مہدی حسن کی ایک دو سالہ بیٹی بھی ہے۔

74 سالہ حاجی شیر حسن نے اپنے بیٹوں کی تصویریں ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا کہ ان کا غم جتنا بڑا ہے اس کا کوئی تصور نہیں کرسکتا۔ 'مجھے کم از کم اس بات پر اطمینان ضرور ہے کہ میرے بیٹے کسی ڈاکے، چوری یا ذاتی دشمنی میں نہیں مارے گئے بلکہ دہشت گرد کارروائیوں میں ہلاک ہوئے۔'

انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹوں کا کوئی قصور نہیں تھا اور اس دن وہ اپنی محنت مزدوری کے لیے نکلے تھے لیکن دہشت گردوں نے ان کی ٹکڑوں کی صورت میں لاشیں گھر بھیج دیں۔

'پاڑہ چنار میں کوئی شیعہ سنی معاملہ کبھی پہلے تھا اور نہ اب ہے۔ پہلے یہاں جتنے بھی شیعہ سنی فسادات ہوئے وہ دراصل میں جائیداد یا ذاتی تنازعے کی پیداوار تھے لیکن بدقسمتی سے اسے فرقہ واریت کا رنگ دیا جاتا رہا۔'

ان کے مطابق ان ذاتی تنازعات کے آڑ میں اب یہاں دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں نے اپنا اثر و رسوخ قائم کرلیا ہے اور اب یہ معاملہ بہت گھمبیر ہوچکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں ہونے والے فسادات میں حکومت بھی برابر ملوث رہی ہے لہٰذا اس میں ارباب اختیار بھی شریک جرم رہے ہیں۔

'پاڑہ چنار میں جو لوگ دھماکے کررہے ہیں وہ سب کو پتہ ہے کیونکہ وہ لوگ باقاعدہ دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔'

حاجی شیر حسن نے مزید کہا کہ پاڑہ چنار میں حالیہ دہشت گردی کے لہر سے فرقہ واریت کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں کیونکہ دہشت گرد تنظمیں نہ صرف اہل تشیع کو ہدف بنا رہی ہیں بلکہ وہ سنیوں پر بھی اس طرح حملے کر رہے ہیں۔

غمزدہ والد کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے کا کوئی قابل عمل حل تلاش نہیں کیا گیا تو آنے والے دنوں میں بھی مائیں اس طرح اپنے لخت جگر کھوتی رہیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں حاجی شیر حسن نے کہا کہ جو لوگ دین اور مذہب کے نام پر دھماکے کر رہے ہیں دراصل وہی لوگ سب سے زیادہ اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ایسے لوگ کسی مذہب کے پیروکار نہیں ہوسکتے۔

'جو لوگوں سے ان کے بیٹے چھین رہے ہیں کیا وہ کسی دین کے ماننے والے ہوسکتے ہیں۔ یہ تو دہشت گرد ہیں جن کا کام ہی معصوم لوگوں کو مارنا، دہشت اور خوف پھیلانا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں