ایک سلیوٹ نے مشکل میں ڈال دیا

مریم نواز اور ارسلہ سلیم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گذشتہ روز پاکستان کے وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز کو سلیوٹ کرنے پر سپیشل برانچ کی خاتون افسر ایس پی ارسلہ سلیم کو خاصی تنقید کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ کسی سرکاری عہدے یا رینک کی حامل نہ ہونے کی وجہ سے مریم نواز کسی رسمی سلیوٹ کی حقدارنہیں ہیں جبکہ ایس پی ارسلہ سلیم اس موقع پر اپنی آفیشل ڈیوٹی پر تعینات تھیں اور سلیوٹ کے وقت ان کی 'اپائٹمنٹ سٹِک' یا چھڑی بغل میں تھی، یہی وجہ ہے کہ ان کے اس سیلوٹ کو رسمی سلیوٹ قرار دے کر تنقید کی جا رہی ہے۔

کسٹم آف سروس بُک کے مطابق سلیوٹ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک رسمی تقریب یا موقعے پر جبکہ دوسرا غیر رسمی تقاریب یا مواقع پر۔

کسی بھی 'رسمی تقریب، موقع یا ڈیوٹی' پر صرف ان افراد، افسران کو سلیوٹ کیا جاتا ہے جو 'سرکاری طور پر اپنے عہدے اور رینک کی وجہ سے اس کے مستحق' ہیں۔

اس کے علاوہ اگر کسی افسر کے پاس اس کی 'اپائٹمنٹ سٹِک' موجود ہو اور وہ ڈیوٹی پر ہو تو چھڑی یا سٹک بغل میں رکھتے ہوئے اوپر کے گریڈ کے افسران کو سلیوٹ کرتے ہیں۔ اسے 'فارمل‘ یا ’رسمی' سلیوٹ کہا جاتا ہے۔

پولیس رولز 1934 کے مطابق افسران کے لیے جن شحصیات کو سلیوٹ کرنا لازم ہے ان میں وزرائے اعظم، صدر مملکت، وزیر داخلہ، سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، مسلح افواج کے سربراہان اور سینیئر رینک کے تمام افسران شامل ہیں۔ کسی بھی پولیس افسر کا مسلح افواج کے خود سے سینئر افسران کو سلیوٹ بھی لازمی ہے۔

اس معاملے پر رائے دیتے ہوئے سابق آئی جی پولیس ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ 'اگرچہ اس معاملے کو زیادہ بڑھایا گیا ہے، تاہم سرکاری ڈیوٹی پر تعینات افسران کو موقعے کی مناسبت سے ردعمل ظاہر کرنا چاہیے'۔

ان کے مطابق مریم نواز ایک تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہو رہی تھیں، اس لیے انھیں سلیوٹ کرنے کا معاملہ زیادہ اٹھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'خاتون افسر پروٹوکول ڈیوٹی پر نہیں تھیں بلکہ سکیورٹی ڈیوٹی پر تھیں، اس لیے انھیں مریم نواز کو ایسکارٹ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ PMLN

ان کے مطابق 'عام طور پر بعض معاشرتی اور ثقافتی اقدار کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے خواتین کو سلیوٹ کی طرز پر سلام کیا جاتا ہے تاہم یہ قواعد و ضوابط کا حصہ نہیں۔‘

ان کے خیال میں 'اول تو یہ سلیوٹ نہیں کرنا چاہیے تھا، دوسرا انھیں زمین سے گرا قلم اٹھانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔‘

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ایس پی ارسلہ سلیم کے اس عمل کو بھی 'یونیفارم کے وقار کے منافی' قرار دیا جا رہا ہے جب انھوں نے دیگر کئی اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود خود زمین پر گرا ہوا قلم اٹھا کر مریم نواز کو دیا۔

دوسری جانب ایس پی ارسلہ سلیم کے حق میں بھی سوشل میڈیا پر کئی پوسٹس سامنے آئی ہیں۔ ایک فیس بک صارف نے ان کی چند تصاویر شیئر کی ہیں جن میں انھیں بزرگوں اور بچوں کے ساتھ وقت گزارتے دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ بعض صارفین نے انھیں ایک 'رحمدل، ملنسار خاتون اور نہایت پیشہ ور افسر' قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ ایس پی ارسلہ سلیم کو جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران مریم نواز شریف کے ہمراہ تعینات کیا گیا تھا۔

ان کے سیلیوٹ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ان کے اس عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں اسے ناقابل یقین قرار دیا اور کہا کہ 'ایک پرائیویٹ شہری مریم کو سرکاری پروٹوکول دیا گیا، پولیس انھیں سلیوٹ کر رہی ہے جب کہ وہ ایک مجرمانہ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پیش ہوئی ہیں۔‘

بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ عمران خان خیبر پختونخوا میں نہ صرف پولیس کا پروٹوکول لیتے ہیں بلکہ انھیں سلیوٹ بھی کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ پولیس کے ضابطہ اخلاق کے مطابق بعض مخصوص وزارتوں اور عہدوں کو چھوڑ کر اراکینِ پارلیمان، سرکاری طور پر سلیوٹ کے حقدار نہیں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں