آئل ٹینکر حادثہ: شیل پاکستان پر ایک کروڑ جرمانہ اور متاثرین کو ہرجانے کی ادائیگی کا حکم

بہاولپور تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 50 ہزار لیٹر تیل کی نقل و حرکت کیلیے 5 ایکسل کا ٹینکر ہونا چاہیے جبکہ حادثے کا باعث بننے والا ٹینکر 4 ایکسل کا تھا

پاکستان میں تیل و گیس کے شعبے کے منتظم ادارے اوگرا نے تیل کی ترسیل کرنے والی کمپنی ’شیل پاکستان‘ پر صوبہ پنجاب کے شہر احمد پور شرقیہ کے قریب آئل ٹینکر کے حادثے کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے اس پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔

اس حادثے میں اب تک دو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں زخمی اب بھی صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

* خطرناک مواد سے لدی گاڑیاں ’چلتے پھرتے بم‘ ہیں

* ڈی این اے مل گیا تو بلائیں گے ورنہ۔۔۔

* سانحہ احمد پور سے ایک اچھی چیز

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق مذکورہ کمپنی کو اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس دس لاکھ اور زخمیوں کو فی کس پانچ لاکھ روپے کے حساب سے ہرجانہ بھی ادا کرنا ہو گا۔

اوگرا کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حادثے کی تحقیقات غیرجانبدار انسپکٹرز کو سونپی گئی تھی جنھوں نے اپنی رپورٹ جمعرات کو اوگرا کے سپرد کی۔

اس رپورٹ میں حادثے کی ذمہ داری شیل پر عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ حادثے کا شکار ہونے والا ٹینکر اوگرا یا کسی بھی سرکاری یا نجی حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔

اس کے علاوہ آئل ٹینکر کا فٹنس سرٹیفکیٹ بھی جعلی تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شیل پاکستان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جرمانے اور ہرجانے کی ادائیگی کے فیصلے پر فوری عمل کرے بصورت دیگر اس کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ کے مطابق آئل ٹینکر کا فٹنس سرٹیفکیٹ بھی جعلی تھا

اوگرا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 50 ہزار لیٹر تیل کی نقل و حرکت کیلیے پانچ ایکسل کا ٹینکر ہونا چاہیے جبکہ حادثے کا باعث بننے والا ٹینکر چار ایکسل کا تھا۔

رپورٹ میں مقامی انتظامیہ کو بھی غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ٹینکر الٹنے کے بعد پٹرول سڑک پر بہا لیکن عوام کو حادثے کے مقام سے دور رکھنے کے لیے مقامی انتظامیہ فوری حرکت میں نہیں آئی۔

اس کے علاوہ موٹروے پولیس نے بھی فوری طور پر جائے حادثہ کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے ضلع بہاولپور کے علاقے احمد پور شرقیہ میں یہ حادثہ 25 جون کو اس وقت پیش آیا تھا جب کراچی سے وہاڑی ہزاروں لیٹر تیل لے جانے والا ٹینکر بستی رمضان جوئیہ کے قریب الٹ گیا تھا جس کے بعد مقامی افراد اس سے رسنے والا تیل جمع کرنے کے لیے اکٹھے ہوگئے تھے۔

اسی دوران نامعلوم وجہ سے وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی جس نے ہجوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

اس آتشزدگی کے نتیجے میں 125 افراد تو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ شدید زخمیوں کی ہلاکت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں