ٹوئٹر پر کھوٹے کو کھرا کر کے بیچنے والے

سوشلستان میں اس ہفتے جے آئی ٹی میں مریم نواز شریف کی پیشی ایک بڑا موضوع رہی مگر اس سے بھی بڑا موضوع ایک پین تھا جو مریم نواز کے ہاتھوں سے گاڑی سے نکلتے وقت گرا۔

اور ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ دو بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک اہم موقع ہو اور دونوں کے رہنما اور کارکن ایک دوسروں کی ماں بہن کے بارے میں تہذیب سے عاری جملے نہ لکھیں۔ آخر سیاست اب سوشل میڈیا پر اسی کا نام رہ گیا ہے کہ آپ کسے ڈاکو کہہ سکتے ہیں اور کسے نہیں۔ تو اسی بارے میں ہے آج کا سوشلستان۔

کھوٹے کو کھرا کر کے بیچنے والے

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption نیٹ ہینڈرکس کے نام سے ٹویٹ کرنے والا یہ اکاؤنٹ پہلے اس تصویر کے ساتھ اکاؤنٹ چلا رہا تھا مگر ان کی جانب سے شیئر کی جانے والی تصاویر پی ٹی آئی کے ایک کارکن کی جانب سے شیئر کی جانے والی ٹویٹس تھیں۔ اس کے بعد اس اکاؤنٹ کی پروفائل تصویر بدل دی گئی۔

پاکستان میں جہاں سوشل میڈیا بہت مقبول ہے وہیں اسے سمجھنے اور کھرے کھوٹے کی تمیز کرنے والوں کی کمی ہے اور جعلساز بہت آسانی سے لوگوں کو بے وقوف بنا کر جو چاہے لکھ سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی اے کے ایک سینیئر رہنما کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک صاحب عرصے تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام سے ٹویٹ کرتے رہے اور جب فالوورز ہزاروں میں ہو گئے تو اچانک سے راتوں رات وہ اصلی روپ میں نمودار ہو گئے۔

مگر یہ معاملہ اب آگے بڑھ گیا ہے اور ایڈونچر کے دلدادہ اور اپنی سیاسی جماعت کی محب میں حد سے گزر جانے والوں نے جھوٹ کو سچ بنانے کے لیے جعلی پروفائلز بنانے کا کام زوروشور سے شروع کیا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption آئی شامی کے ہینڈل سے ٹویٹ کرنے والا یہ اکاؤنٹ ایک وقت میں ونیزا وورمر کی پروفائل کا کلون بنایا ہوا تھا

گذشتہ دنوں ایک صاحب نے پاناما پیپرز پر کام کرنے والی جرمن صحافی ونیزہ وورمر کے اکاؤنٹ کو کلون کر کے انہی کی ٹویٹ کو آگے بڑھایا اور لوگوں نے بغیر دیکھے اور تصدیق کیے اسے ری ٹویٹ کیا۔

اور یہی اکاؤنٹ اس سے قبل ایک اور جرمن صحافی جو پاناما پیپرز پر کام کر چکے ہیں ان کی نقل کر کے اکاؤنٹ بنا چکے ہیں اور لوگوں کو بے وقوف بنا چکے ہیں۔

دوسری جانب ایک روسی اخبار کے صحافی کو اچانک سے پاکستان سے ویسی ہی محبت اور عشق ہو گیا ہے جیسا رانی مکرجی کو کچھ عرصہ قبل اسلام سے ہوا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ روسی صحافی کی پہلے ایک تصویر لگائی گئی جب ایک اور ٹوئٹر صارف نے اس کی نشاندہی کر کے بھانڈا پھوڑ دیا تو تصویر بدل دی گئی اور نجانے اب کن صاحب کی تصویر استعمال کی گئی ہے۔ اور اسے ٹوئٹر نے تصدیق شدہ اکاؤنٹ قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سوشل میڈیا پر شور شرابے کے بعد اب اکاؤنٹ کی تصویر بدل کر یہ ہو گئی ہے۔

اور حسبِ توقع رانی مکرجی کے اکاؤنٹ کی طرح یہ اکاؤنٹ بھی جعلی نکلا اور اس کے پیچھے بھی ٹوئٹر کے جعلی ایٹمی سائنسدان کارفرما نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی ٹویٹس میں مماثلت بہت ہے۔

اگلے انتخابات میں سوشل میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہو گا اور وہ اس لحاظ سے نہیں کہ لوگوں کو آپ کیسے سوشل میڈیا پر رام کر سکتے ہیں بلکہ کیسے آپ جھوٹ اور بے بنیاد خبروں کو روک سکتے ہیں اور ان سے نمٹ سکتے ہیں جنہیں فیک نیوز کہا جاتا ہے۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر تمام سیاسی جماعتوں کے جتھے ہیں جن میں سے بعض اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کرنے پر اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے مگر تشویش زبان سے زیادہ جھوٹی اور بے بنیاد خبروں پر ہونی چاہیے جن سے کسی دن کوئی بھی سانحہ ہو سکتا ہے۔

صحافیوں میں پی ٹی ایس ڈی

بی بی سی کے صحافی کوئنٹن سومرویل نے ٹوئٹر پر جنگ اور تنازعات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے پی ٹی ایس ڈی کے مسائل کے بارے میں لکھا کہ کیسے ان کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔

انھوں نے لکھا کہ 'چوبیس گھنٹے کے دوران تین تجربہ کار صحافیوں نے بغیر کسی تمہید کے اپنے پی ٹی ایس ڈی کے مسائل کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ وہ سو نہیں سکتے، بغیر وجہ غصے میں آ جاتے ہیں اور کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔'

انھوں نے مزید لکھا کہ 'ہم سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اداروں کو اس قسم کے مسائل کو نمٹنے کے لیے کوششیں باقاعدگی سے کرنی چاہیے اور جلدی کرنی چاہیے۔'

ایما بِیل نے لکھا 'فری لانسرز کے لیے اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ وہ کام رد نہیں کرنا چاہتے یا یہ اعتراف نہیں کرنا چاہتے کہ وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں کیونکہ اگر وہ ایسا کریں گے تو انھیں ڈر ہوتا ہے کہ انھیں مزید کام نہیں ملے گا۔'

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کراچی کے ایک شہری پانی کی بوتلیں لاد کر لیجا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے گذشتہ روز کہا کہ انہیں معلوم تھا کہ تھر میں پانی کا مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے شمسی توانائی سے چلنے وال پمپ لگائے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کراچی کے پانی کے مسئلے کے بارے میں کب پتا چلے گا؟
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption گذشتہ دنوں مریم نواز شریف کو ایک خاتون پولیس افسر کے سیلوٹ کرنے کے جواب میں مریم نواز نے یہ تصویر ٹویٹ کی جس کے ساتھ لکھا ’ہر سیلوٹ پروٹوکال نہیں ہوتا‘

اسی بارے میں