جماعت الحرار پر عالمی پابندیاں، پاکستان کا خیر مقدم

تصویر کے کاپی رائٹ Hassan Abdullah
Image caption اگست میں امریکہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ جماعت الاحرار کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے شدت پسند تنظیم جماعت الحرار پر پابندیوں کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

جمعے کو پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہی نے اس کالعدم تنظیم پر پابندیوں کی سفارش کی تھی۔

ایسا کیا ہوا کہ یہ تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوئیں؟

جماعت الاحرار، لشکر جھنگوی العالمی کالعدم تنظیموں میں شامل

خیال رہے کہ گذشتہ روز سلامتی کونسل نے جماعت الحرار پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔

ماضی میں جماعت الاحرار خود کو تحریک طالبان پاکستان کی ذیلی جماعت کے طور پر بطی بیان کر چکی ہے۔ جماعت الحرار کا پاکستان کے قبائلی علاقوں خصوصاً مہند ایجنسی سے آغاز ہوا تھا۔

اقوام متحدہ کی پابندیوں کے بعد اسے ایسے افراد اور تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن کے اثاثے منجمد کیے جاتے ہیں اور اس کے اراکین کے سفر اور اسلحے کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہوتی ہے۔

تاہم پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ جماعت الحرار افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار سے کارروائیاں کرتی ہے اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کے کئی حملوں میں ملوث ہے۔ پاکستان نے اس تنظیم پر 2016 میں پابندی عائد کی تھی۔

جماعت الحرار نے اس سال فروری میں ملک میں کارروائیوں کے ایک نئے سلسلے 'غازی آپریشن' کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

لال مسجد اسلام آباد میں 2007 میں فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والے عبدالرشید غازی کا نام اس کارروائی کے لیے استعمال کیا تھا جس پر بعد میں لال مسجد نے اعتراض بھی کیا تھا۔

آپریشن غازی کے دوران تنظیم نے فروری میں لاہور میں مال روڈ پر خودکش حملہ اور کوئٹہ سمیت ملک بھر میں کئی جان لیوا کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

جماعت الحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے گذشتہ دنوں شدت پسند کارروائیاں ترک کرتے ہوئے اپنے آپ کو فوج کے حوالے کر دیا تھا۔

اسی بارے میں