آئل ٹینکر حادثہ: سزا کا حقدار کون، اوگرا یا شیل؟

حادثہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ریگولیٹری ادارے اوگرا نے شیل پاکستان پر ایک کروڑ روپے جرمانہ اور اس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دس لاکھ فی کس ہرجانہ دینے کی سزا تجویز کی ہے

سالانہ تین سے چار ارب روپے منافع کمانے والی کمپنی پر 200 سے زائد افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے حادثے میں غفلت ثابت ہونے پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے پر حکومت اور اس کے اداروں کو ماہرین کی تنقید کا سامنا ہے۔

پاکستان میں تیل کے شعبے کے ریگولیٹری ادارے اوگرا نے شیل پاکستان نامی کمپنی پر تیل کی ترسیل کے دوران حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ایک کروڑ روپے جرمانہ اور اس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دس لاکھ فی کس اور زخمیوں کے لیے پانچ لاکھ روپے فی کس ہرجانہ دینے کی سزا تجویز کی ہے۔

ڈی این اے مل گیا تو بلائیں گے ورنہ۔۔۔

خطرناک مواد سے لدی گاڑیاں ’چلتے پھرتے بم‘ ہیں

اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی کے مطابق اوگرا قواعد کے مطابق اس ادارے کے مقرر کردہ حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی پر کسی بھی کمپنی پر زیادہ سے زیادہ سزا ایک کروڑ روپے جرمانہ ہے۔

'غیر معمولی صورتحال میں اوگرا کسی بھی کمپنی کا لائسنس بھی منسوخ کر سکتا ہے لیکن یہ سزا ملک میں سرمایہ کاری اور معاشی صورتحال کے پیش نظر نامناسب ہے۔'

چار دہائیوں سے تیل کے شعبے سے منسلک رہنے والے پاک ریفائنری کے سابق چیئرمین فاروق رحمت اللہ کہتے ہیں کہ اصل میں تو اس حادثے پر سزا کا حقدار اوگرا ہے۔

'ایسے ادارے کو بند کر دینا چاہیے جس کے پاس نہ ہی مناسب قانون ہیں اور نہ ہی ان پر عمل کروانے کا موثر نظام۔ ان لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے جنھوں نے ایسے غیر معیاری قوانین بنا رکھے ہیں کو کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہیں۔'

فاروق رحمت اللہ کہتے ہیں کہ یہ کمپنی خود احستابی کے عمل سے بھی گزر رہی ہے۔

'میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ شیل گلوبل اپنی تحقیقات کر رہی ہو گی کیونکہ اس طرح کا حادثہ اس کمپنی کی عالمی شہرت اور عالمی بازار حصص میں اس کے شیئرز کی قیمت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ کئی سال قبل جب شیل کی گاڑیوں کو اس طرح کے حادثات میں اضافہ ہوا تھا تو شیل پاکستان کو تنبیہ کی گئی تھی کہ اگر سڑک پر ہونے والے حادثات میں کمی نہ آئی تو اس کمپنی کو پاکستان میں کام کرنے سے روک دیا جائے گا۔

'کئی سال پہلے سری لنکا میں شیل کا کاروبار صرف اس وجہ سے بند کردیا گیا تھا کہ وہاں شیل کی گاڑیوں کو پیش آنے والے حادثوں میں مرنے والوں کی تعداد ایک حد سے بڑھ گئی تھی۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس میں کمزور پہلو اوگرا کے قوانین اور ان پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔

پاکستان میں تیل کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم آئل مارکیٹنگ ایڈوائزری کونسل کے سربراہ ڈاکٹر الیاس فاضل نے اوگرا کی تفیش کے طریقہ کار پر نکتہ چینی کرتے کہا کہ اوگرا نے جس انداز سے اس حادثے کی تحقیقات کی ہیں وہ قابل اعتماد نہیں ہے۔

'شیل کو وضاحت کا موقع دیا گیا نہ ہی یہ بتایا گیا کہ جن لوگوں نے یہ تحقیقات کی ہیں ان کی اس کام میں مہارت اور تجربہ کیا ہے۔'

الیاس فاضل نے کہا کہ وہ جرمانے کی مقدار پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سارے معاملے مییں اوگرا کے اپنے کردار پر بھی بات ہونی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

فاروق رحمت اللہ نے کہا کہ جرمانے کی رقم نامناسب ہے اور نہ ہی اوگرا میں ایک ادارے کے طور پر اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اپنے اس قانون پر بھی عمل کروا سکے۔

'امریکہ کے قریب سمندر میں چند برس قبل ایک بحری جہاز کو حادثے میں اس کا تیل سمندر میں بہہ گیا تھا۔ اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا اس کے باوجود اس تیل کمپنی کو تین سے چار ارب ڈالر جرمانہ کیا گیا تھا۔'

انھوں نے کہا کہ امریکی قوانین ہمارے خطے میں لاگو تو نہیں ہو سکتے لیکن انسانی جان کی کچھ تو قدر ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں