پاناما پیپرز تحقیقات: ’قطری شہزادے کے بغیر جے آئی ٹی نامنظور‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Press Information Department
Image caption پاکستان مسلم لیگ کے سینیئر وزراء اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے

پاکستان مسلم لیگ نون کے وزیر دفاع اور پانی اور بجلی، خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سپریم کورٹ کے جانب سے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرے گی جب تک قطر کے سابق وزیر اعظم، شہزادہ حمد بن جاسم الثانی کو تفتیش کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق سنیچر کو اسلام آباد میں خواجہ آصف کے علاوہ وزیر برائے پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی، وزیر ریلوے سعد رفیق اور وزیر برائے پلاننگ احسن اقبال مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پاناما پیپرز کی تحقیقات پر تخفظات کا اظہار کیا۔

جے آئی ٹی شہزادے سے پوچھ گچھ کے لیے قطر پہنچ گئی

واضح رہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان قطری شہزادے حمد بن جاسم سے پوچھ گچھ کے لیے قطر پہنچ چکے ہیں۔

حکمران جماعت کے وزرا نے جے آئی ٹی کے طرز عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کی تفتیش کی صحت پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر ٹھوس شواہد کی موجودگی میں احتساب اور تفتیش کی جائے تو ان کی جماعت اس سے ڈر کے نہیں بھاگے گی۔ دوسری جانب سعد رفیق نے کہا کہ جے آئی ٹی میں شامل دو ممبران کا جھکاؤ واضح طور پر پاکستان مسلم لیگ کے خلاف تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قطر کے شہزادے حمد بن جاسم

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے میں جے آئی ٹی کو وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز سے تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا اور عدالت نے جے آئی ٹی کو دس جولائی کو اپنی تحقیقات مکمل کر کے حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہوا ہے۔

جے آئی ٹی نے اس سے پہلے حمد بن جاسم کو پیش ہونے کے لیے دوبار خصوصی ایلچی کے ذریعے پیغام بھجوایا تھا لیکن انھوں نے پاکستان آ کر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

جے آئی ٹی نے حمد بن جاسم کو قطر میں پاکستانی سفارت خانے میں آ کر بیان ریکارڈ کروانے کی بھی پیش کش کی تھی لیکن انھوں نے اس سے بھی انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ٹیم کے ارکان قطر آئیں تو وہ تمام ثبوت فراہم کردیں گے۔

پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروانے کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس نیا بینچ تشکیل دینے یا پاناما کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے والے بینچ کو ہی اس حتمی رپورٹ کا جائزہ لینے کا حکم دے سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں