شیمپو والے ہیرو!

شاہد آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چند روز پہلے بھاٹی کی ایک گلی سے گزرتے ہوئے 'محمود و ایاز بیکری' کا بورڈ نظر سے گزرا۔ دل ہی دل میں بہت خوش ہوئی کہ ابھی تک ہمیں اپنے ہیرو یاد ہیں، پھر اس پرانے سبق کی جگہ نئے پڑھائے گئے آموختے یاد آئے کہ یہ غزنوی، محمد بن قاسم، ابنِ زیاد وغیرہ ہمارے ہیرو نہیں۔ یہ تو اپنے ہی کسی کام سے آتے تھے۔

محمود غزنوی کو غالباً پرانے مندر وغیرہ دیکھنے کا شوق تھااور نوادرات میں دلچسپی تھی اس لیے وہ اکثر ان نواحات میں تشریف لاتے تھے اور جی بھر کے دونوں شوق پورے کرتے تھے۔ محمد بن قاسم کے بارے میں بھی نئی تحقیق نے ثابت کیا کہ ہیرو نہیں۔ شہاب الدین غوری کے بارے میں تو سب ہی جاتے ہیں کہ ان کی چچی کے گہلڑ کہیں دہلی کے مضافات میں سلطان پور کے پاس آباد تھے وہ پہلی بار آیا تو یوں ہی سرسری سا مل کر گیا اور آئندہ آنے کا وعدہ کر گیا۔ اگلی بار آیا تو بس پھر یہیں کا ہو رہا۔

اب اگر کوئی شخص اپنی مرحومہ چچی کے گہلڑ بچوں سے اتنی محبت کرتا تھا تو اسے صاف صاف بتا نا چاہیے تھا۔ مگر جو ڈھونگ رچایا اس کی وجہ سے ایسے انسان کو ہم بالکل ہیرو نہیں مانتے۔ خاندانِ غلاماں والے سب ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتے کچھ ان کی رنگین مزاجیوں کے قصے سن سن کر بھی طبیعیت اوب گئی۔

مغلوں کا تو نام ہی مت لیجیے، اکیلا اورنگ زیب ہی بہت کافی ہے سب سے بدظن کرنے کو۔ مرے پہ سو درے یہ ہوئے کہ ہمارے ابا کے چچا کی پہلی بیگم کے پچھلا سسرال مرزا بیگ۔ ایلو! ایسے جلاد لوگ تھے بیچاری کو سہما سہما کے سوکھا دیا۔ قسمت کی مار سے وہ صاحب مرے اور ان کی دوسری شادی ہوئی۔ یعنی مغلوں میں تو کوئی ہیرو ہو ہی نہیں سکتا۔ ان کے بعد تو ہم نے مار ہی کھائی اور کوئی سو سال بعد جا کے کہیں قائدِ اعظم کی شکل نظر آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یوں تو ہماری پوری کوشش ہے کہ قائدِ اعظم کو بھی قومی ہیرو نہ مانیں لیکن مجبوری ہے۔ واہگے کے بارڈر پہ ادھر گاندھی جی کی تصویر لگی ہے ادھر کیا لگائیں؟ میری آپ کی فوٹو تو ٹانگ نہیں سکتے اس لیے فی الحال ہم قائدِ اعظم کو بابائے ملت تسلیم کیے ہوئے ہیں۔ علامہ اقبال کی شاعری ایک تو مشکل بہت ہے پھر اس میں جو مخبریاں انھوں نے کر دی ہیں وہ ہمیں پھنسائیں گی ۔ مثلاَ

ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیے

اور مرتے تھے تیرے نام کی عظمت کے لیے

اور مزید یہ کہ

پر تیرے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے؟

بات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایں؟ مروا گئے۔ وہ تو شکر ہے کہ ان کی زبان اتنی ادق اور علامات اتنی ثقیل ہیں کہ اکثرکو سمجھ نہیں آتی کہ مطلب کیا ہے ورنہ دھرے گئے تھے۔ لیکن سمجھنے والے سمجھ گئے۔ اقبال کو آہستہ آہستہ منظر سے ہٹایا گیا۔ اقبال ڈے کی چھٹی غائب کی گئی، مزارِ اقبال پہ تالا لگ گیا۔ یہ جو ائیر پورٹس، میڈیکل کالج، اور چند آبادیوں کے نام اقبال پہ ہیں یہ بھی ہم بھول بھال جائیں گے۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہیرو پہ اتنی بڑی قوم کب تک گزارا کرے؟ ساٹھ کی دہائی میں فلموں کا آسرا تھا۔ وحید مراد اور محمد علی ہی مل گئے تھے۔ اب تو وہ بھی نہیں رہے۔ اللہ اللہ کر کے عدنان سمیع اور فواد خان پیدا ہوئے تو کمبختوں نے ایک کو کچھ اور دوسرے کو کچھ اور بنا دیا۔ یعنی یہ سہارے بھی گئے۔

کھلاڑیوں کو ہیرو بنایا تو ایک تو عمران خان بن گئے اور باقیوں کو شیمپو والے لے اڑے۔ کوئی واشنگ پاؤڈر بیچنے لگے اور کوئی مضرِ صحت مشروبات پلانے پہ مصر ہوگئے۔

ارے یاد آیا، کچھ اور ہیرو بھی تھے مگر وہ پراپرٹی ڈیلر ہو گئے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کا یہ ہے کہ فزکس میں میرے نمبر کچھ زیادہ اچھے نہیں آئے اس لیے مجھے ان کے کام سے کچھ خاص دلچسپی نہیں۔ بھلے لیتے پھریں نوبل پرائز! شرمین عبید چنائے نے ابھی تک فیس بک پہ میری دوستی کی درخواست قبول نہیں کی ، ہنہہ! اور رہ گئی ملالہ، تو بھئی، پاگل کسی اور کو بنانا، ہم جانتے ہیں اتنے چھوٹے بچوں کو جنھیں گھر میں مہنگا گلاس نہیں اٹھانے دیا جاتا اتنا بڑا ایوارڈ کیوں دیا جا رہا ہے ۔ کچھ نہ کچھ دال میں کالا ہو گا!

حالیہ صورتِ حال یہ ہے کہ سیاست، ادب، سائنس، علم، فنونِ لطیفہ ، کھیل، اداکاری، کسی شعبے میں ہمارے پاس کوئی ہیرو موجود نہیں۔

پچھلے دنوں پاکستان کرکٹ ٹیم نے اچانک چیمپیئنز ٹرافی جیتی تو میں پہلے تو ہنسی اور پھر روئی۔ ہنسی اس لیے کہ یہ غیر متوقع فتح، بالکل پچھلے ہیروز سے ملتی جلتی ہے اور روئی اس لیے کہ ان بے چاروں کی مٹی پلید ہونے کا وقت بھی ہوا چاہتا ہے۔

کہتے ہیں، تاریخ ہمیشہ فاتح لکھواتا ہے اس لیے تاریخ ہمیشہ جھوٹی ہوتی ہے۔ مگر شاید جس وقت ایک گروہ قوم سازی کے دور سے گزر رہا ہو، کچھ ہیروز کو ہیرو رہنے دینا چاہیے، یا نئے ہیرو بننے دینا چاہیے۔ مکمل تو کوئی انسان نہیں لیکن راستے میں اگر سنگِ میل گڑے نظر آتے رہیں تو سفر آسان ہو جاتا ہے ورنہ تاریخ کی بھول بھلیوں میں جو قافلے بھٹک جائیں انہیں منزل کبھی نہیں ملتی۔

متعلقہ عنوانات