پاکستانی اپنےرہنماؤں سے ان کے بدلتے بیانات پر سوال کریں: ریمنڈ ڈیوس

جاسوس
Image caption ریمنڈ ڈیوس کی آپ بیتی کا عکس

امریکی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے حال ہی میں شائع ہونے والی سنسنی خیز آپ بیتی 'دا کنٹریکٹر' کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان میں بیشتر لوگ ان کو جھوٹا گردانتے ہیں لیکن درحقیقیت ان کے اپنے رہنماؤں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے لیکن ان سے کوئی سوال نہیں کیا جاتا۔

ریمنڈ ڈیوس بی بی سی کے پروگرام ویک اینڈ سے گفتگو کر رہے تھے جہاں انھوں نے اپنی آپ بیتی کے حوالے سے کیے گئے سوالات کے جواب دیے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستانی اپنےرہنماؤں سے ان کے بدلتے بیانات پر سوال کریں

ریمنڈ ڈیوس کی آخری پیشی

جب امریکہ اور پاکستان آمنے سامنے آ گئے

فساد کی جڑ کا کچھ انتظام ہونا چاہیے

'میں یہ سمجھ سکتا ہوں کہ واقعہ پاکستان کی سرزمین پر پیش آیا اور وہاں کے لوگ اس معاملے پر جذباتی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ایک بہت بڑی تعداد مجھے جھوٹا سمجھتی ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ میری کتاب ہے اور میری کہانی ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس پوری سلسلے کو میری نظر سے بھی دیکھنے کی کوشش کریں اور ملک کے رہنماؤں سے ان کے بدلتے ہوئی بیانات کے بارے میں سوالات کریں۔'

اس بارے میں مزید بات کرتے ہوئے ریمنڈ ڈیوس نےکہا کہ کتاب میں جن جن لوگوں کا انھوں نے نام لکھا ہے وہ اب منظر عام پر آ کر انھیں جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔

'مجھے بڑا دکھ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھوٹا قرار دینے کے لیے، اور میرا نام بدنام کرنے کے لیے اس حد تک جا سکتے ہیں۔'

ریمنڈ ڈیوس نے کہا کہ پاکستان میں یہ بڑا آسان ہے کہ اگر کسی معاملے میں خود سے الزام ہٹانا ہو تو انڈیا پر تہمت لگا دو اور اس سے عام عوام طیش میں آجاتی ہے اور جس کی غلطی ہوتی ہے اس سے کوئی سوال نہیں ہوتا۔

Image caption ریمنڈ ڈیوس کی آپ بیتی کا عکس

انٹرویو میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ریمنڈ ڈیوس نے کہا ہے انھیں ابھی تک اس بات کا علم نہیں ہے کہ جن دو افراد کو انھوں نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا وہ دونوں کون تھے۔

'پاکستان کے میڈیا میں خبر چل رہی تھی کہ وہ دونوں پاکستان کے خفیہ ادارے کے بھیجے ہوئے کارندے تھے۔ عدالت میں جمع کی گئی دستاویزات کے مطابق ان دونوں کو چوری کے الزامات میں 67 بار حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ خبریں تھیں کہ لشکر طیبہ نے بلیک واٹر کے اہلکاروں کو قتل یا اغوا کرنے کے لیے انعام رکھا ہوا تھا اور ہو سکتا ہے کہ ان دونوں نے اس انعام کے لالچ میں مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔'

ریمنڈ ڈیوس نے کہا کہ امریکہ واپس جانے کے بعد ان سے حکومتی اداروں نے اس واقعے کے بارے میں تفتیش بھی کی تھی۔

یاد رہے کہ جنوری 2011 میں ریمنڈ ڈیوس کو لاہور میں دو نوجوانوں کے قتل میں گرفتار کر لیا گیا تھا جس کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا تھا لیکن دو ماہ بعد مارچ میں دیت کے تحت معاملہ نپٹ گیا جس کے بعد ان کی رہائی ممکن ہوئی اور وہ امریکہ روانہ ہو گئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں