جے آئی ٹی میں کس کس کی پیشی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 20 اپریل کو اپنے فیصلے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے قیام کا حکم دیا جسے 13 سوالات کے جوابات حاصل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

اس ٹیم کو 60 دنوں میں تحقیقات مکمل کر نے کے بعد رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا۔

جے آئی ٹی نے دو ماہ میں کیا کچھ کیا؟

’قطری شہزادے کے بغیر جے آئی ٹی نامنظور‘

پاناما لیکس پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں، حسین نواز اور حسن نواز کو جے آئی ٹی کے طلب کرنے کی صورت میں جانے کا حکم بھی دیا تھا۔ اس کے علاوہ جے آئی ٹی کے پاس یہ بھی اختیارات تھے کہ تفتیش کے سلسلے میں وہ کسی بھی متعلقہ شخص کو سوالات کے لیے طلب کر سکتے تھے۔

میاں نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ملک کے وزیراعظم اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں جواب کنندہ نمبر ایک، میاں محمد نواز شریف کو جے آئی ٹی کے سامنے 15 جون کو طلب کیا گیا جہاں ان سے تقریباً تین گھنٹے تک سوالات کیے گئے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے کیے گئے 13 سوالات میں سے بیشتر سوالات میاں نواز شریف کے جائیداد اور ان کی تفصیلات کے بارے تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ جے آئی ٹی نے نواز شریف سے اسی حوالے سے پچھ گچھ کی جس میں قطری شہزادے کے خط کی حقیقت، بیٹے حسین نواز کی جانب سے دیے گئے اربوں روپوں کے تحائف، گلف سٹیل ملز کے قیام کے لیے رقم کی تفصیل اور دیگر سوالات شامل تھے۔

حسین نواز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نواز شریف کے سب سے بڑے صاحبزادے اور جواب کنندہ نمبر سات، حسین نواز کو پہلی بار جے آئی ٹی کے سامنے 29 مئی کو طلب کیا گیا جہاں ان سے تقریباً ڈھائی گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ اس پیشی کے بعد حسین نواز کو مزید پانچ بار اس کمیشن کے سوالات کا سامنا کرنے کے لیے آنا پڑا۔ ان کی چھٹی اور آخری پیشی چار جولائی کو تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حسین نواز سے کمیشن نے مختلف پیشیوں میں ان سے لندن میں ان کی جائیداد اور اس کو خریدنے کے لیے رقم کے ذرائع کے بارے میں پوچھا۔ ساتھ ساتھ حسین نواز سے ان کے ٹی وی انٹرویو کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ 1999 میں لندن میں ایک طالبعلم تھے اور کرائے پر رہ رہے تھے۔ حسین نواز سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جوابات میں تضاد کے بارے بھی معلوم کیا گیا۔

حسن نواز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیراعظم میاں نواز شریف کے چھوٹے بیٹے حسن نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے تین مرتبہ پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا جس میں ان سے کاروبار اور جائیداد کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

جے آئی ٹی نے حسن نواز کو تین جون کو پہلی دفعہ بلایا تھا جہاں ان سے تقریباً سات گھنٹے تک سوالات کیے گئے جس میں لندن کے مے فیئر علاقے میں خریدے جانے والے فلیٹ کے لیے درکار رقم کے ذرائع کا پوچھا گیا۔

اس کے علاوہ حسن نواز سے ان کے لندن میں ان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات، نیلسن اور نیسکول کمپنیوں کی ملکیت اور پاناما پیپرز میں ان کے نام شامل ہونے کے حوالے سے مختلف سوالات کیے گئے۔

مریم نواز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادی مریم شریف کو بھی ان کے بھائیوں اور والد کی طرح جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے احکامات ملے اور وہ پانچ جولائی کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں پیشی کے لیے گئیں۔ مریم نواز شریف خاندن کی آٹھویں فرد تھیں جنھیں تفتیش کے لیے کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لیے بلایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں مریم نواز کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا لیکن جے آئی ٹی نے انھیں ان کے والد کی کفالت میں ہونے کے بارے میں، لندن میں خاندان کی جائیداد کی ملکیت، مختلف کمپنیوں میں ان کی ملکیت اور بھاری رقوم کے تحائف دینے کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

کیپٹن صفدر

تصویر کے کاپی رائٹ PMO Office

مریم نواز شریف کے شوہر کیپٹن صفدر کو بھی جے آئی ٹی کے کمیشن کے سامنے 24 جون کو پیش ہونے کا حکم ملا جہاں ان سے تقریباً پانچ گھٹنے سوالات کیے گئے۔

سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز کے حوالے سے کیے گئے مقدماعت میں کیپٹن صفدر کو جواب کنندہ قرار دیا گیا تھا لیکن حتمی فیصلے میں ان کا ذکر نہیں تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جے آئی ٹی نے ان سے شریف خاندان کے کاروباری معاملات کے بارے میں سوالات کیے۔

اسحاق ڈار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے بلایا گیا جہاں وہ تین جولائی کو پیش ہوئے۔

شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے میں اسحاق ڈار کو سب سے اہم گواہ سمجھا جاتا تھا لیکن جے آئی ٹی کے ارکان نے انھیں زیادہ انتظار بھی نہیں کروایا اور ان سے صرف ایک گھنٹے سے بھی کم پوچھ گچھ کی جبکہ اس کے برعکس وزیراعظم نواز شریف سے تین گھنٹے سے بھی زیادہ وقت تک پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف درج ہونے والے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بنے تھے جہاں انھوں نے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ وہ شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کرتے تھے۔ تاہم جے آئی ٹی کے سامنے انھوں نے کہا کہ یہ اعترافی بیان انھوں نے اپنے ہاتھ سے نہیں لکھا تھا۔

شہباز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نواز شریف کے بھائی اور صوبہ پنجاب کے وزیراعلی میاں شہباز شریف کو بھی 17 جون کو جے آئی ٹی کے سامنے بلایا گیا جہاں انھوں نے چار گھنٹوں تک کیے گئے سوالات کے جوابات دیے۔

شہباز شریف کا نام سپریم کورٹ کے فیصلے میں نہیں تھا لیکن ماضی میں ان پر اپنے بھائی کے ساتھ حدیبیہ پیپر ملز کے معاملے میں نام ملوث تھا۔

طارق شفیع

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

شریف برادران کے کزن اور ان کے کاروباری معاملات میں قریبی ساتھی طارق شفیع کو بھی جے آئی ٹی کے سامنے دو دفعہ بلایا گیا۔ ان کی پہلی پیشی 15 مئی کو تھی جبکہ دوسری دفعہ انھیں دو جولائی کو طلب کیا گیا اور گلف سٹیل ملز کے حوالے سے سوالات کیے گئے۔

طارق شفیع کو اس کیس میں کافی اہمیت حاصل ہے اور انھوں نے سپریم کورٹ میں جاری پاناما پیپرز کے مقدمے میں بھی دو دفعہ حلفیہ بیانات جمع کرائے تھے۔ جے آئی ٹی کے سامنے پہلی پیشی کے بعد طارق شفیع نے تفتیش کمیشن پر ہراساں کرنےکا بھی الزام لگایا تھا۔

حمد بن جاسم الثانی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

قطری شہزادے اور ملک کے سابق وزیر اعظم حمد بن جاسم الثانی کا دیا گیا خط پاناما پیپرز کیس کا اہم محور رہا ہے اور اس حوالے سے ان کی تفتیش کے بارے میں کئی سوالات تھے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نے اپنے بیانات میں مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ قطری شہزادے کے بیان کے بغیر وہ جے آئی ٹی کی رپورٹ تسلیم نہیں کریں گے۔

کمیشن کے دو ممبران اس سلسلے میں قطر گئے اور ان کو خطوط بھی لکھے لیکن حمد بن جاسم الثانی نے جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب دینے سے اس وجہ سے انکار کر دیا کہ پاکستانی تحقیقی کمیشن کی حدود قطری شہزادے پر لاگو نہیں ہوتی۔

نھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے سپریم کورٹ میں وہ اپنے جوابات شامل کرا چکے ہیں اور کمیشن کے ارکان شہزادے کے محل میں ان سے سوالات کر سکتے ہیں۔

رحمان ملک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک کو بھی جے آئی ٹی میں سوالات کے لیے طلب کیا گیا جہاں وہ 23 جون کو پیش ہوئے۔

رحمان ملک جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نوے کی دہائی میں حکومت کے دوران ایف آئی اے کے ڈائرکٹر تھے، ان سے شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کے حوالے سے کی گئی تفتیش کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

یاد رہے کہ بینیظر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں رحمان ملک کے سربراہی میں ایف آئی اے نے نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز اور لندن میں جائیداد کے حوالے سے تفتیش کی تھی۔

محمد امجد

قومی احتساب بیورو (نیب) کے پہلے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد امجد 29 جون کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے جہاں انھوں نے نیب میں اپنے دور قیادت میں میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپرملز، اتفاق فاؤنڈری اور رائے ونڈ میں جائیداد پر نیب کی تفتیش کے بارے میں جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب دیے۔

سعید احمد

نیشنل بینک پاکستان کے صدر سعید احمد بھی 30 مئی کو کمیشن کے سامنے پیش ہوئے جہاں ان سے تقریباً دو گھنٹے تک سوالات کیے گئے۔

واضح رہے کہ سعید احمد پہلے جے آئی ٹی کے بلانے پر نہیں گئے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ کے بینچ نے خبردار کیا کہ دوبارہ حکم عدولی کی صورت میں ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کیے جائیں گے۔

ظفر حجازی

سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے سربراہ ظفر حجازی اور ان کے ادارے کے پانچ افسران نے 30 جون کو جے آئی ٹی کے سامنے پیشی دی جہاں ان سے کمیشن کے اراکین نے کئی گھنٹوں تک شریف خاندان کے کاروباری اور مالی دستاویزات کے بارے میں سوالات کیے۔

قمر زمان چوہدری

نیب کے موجودہ سربراہ قمر زمان چوہدری کو بھی جے آئی ٹی میں طلب کیا گیا جہاں وہ پانچ جولائی کو پیش ہوئے۔ کمیشن کے ارکان نے ان سے حدیبیہ پیپر ملز کے بارے سوالات کیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں