چمن میں دھماکے کے نتیجے میں ایس ایس پی ہلاک، 11 زخمی

ایس ایس پی ساجد خان
Image caption دھماکے میں ایس ایس پی ساجد مہمند ہلاک ہو گئے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں پولیس کے ایک سینیئر افسر ہلاک اور 11 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار کاکڑ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بم دھماکے کا یہ واقعہ چمن میں بوغرہ روڈ پر پیش آیا۔

کوئٹہ:آئی جی آفس کے قریب خودکش دھماکے میں 13 ہلاک

گوادر: پاکستانی بحریہ کی گاڑی پر فائرنگ، دو اہلکار ہلاک

چمن اور ڈیرہ بگٹی میں حملے، اہلکار سمیت دو ہلاک

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ترجمان کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے بوغرہ روڈ پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جو اس وقت پھٹ گیا جب قلعہ عبداللہ کے ایس ایس پی ساجد مہمند کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔

ایس ایس پی کی گاڑی دھماکے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک اور ان کے محافظوں سمیت 11 افراد زخمی ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں آٹھ عام شہری شامل ہیں جنھیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چمن منتقل کیا گیا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
چمن میں دھماکے کے نتیجے میں قلعہ عبداللہ کے ایس ایس پی ہلاک ہوئے ہیں

ہسپتال حکام کے مطابق زخمیوں سے سات کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

افغانستان کی سرحد سے متصل چمن شہر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے شمال میں اندازاً 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

چمن افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار اور دیگر جنوب مغربی علاقوں کے علاوہ وسط ایشیائی ریاستوں کے درمیان آمدورفت کی ایک اہم گزرگاہ ہے۔

چمن میں پہلے بھی بم دھماکوں اور بدامنی کے دیگر واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں