پاناما کیس شریف خاندان کے لیے کٹھن مرحلہ اور مسلم لیگ نواز کے لیے چیلنج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاناما مقدمہ جہاں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے لیے کٹھن مرحلہ ہے وہیں پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ (نواز) کے لیے بھی سیاسی طور پر نہ صرف ایک بحران بلکہ چیلنج بھی ہے۔

نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے اپنی ایک حالیہ ٹویٹ میں لکھا کہ ’اگر آپ نے اسے ایک سیاسی جنگ بنا دیا ہے، تو مسلم لیگ (ن) سے بہتر اسے کوئی نہیں لڑسکتا ہے۔‘

پاکستان کی بحران سے اٹی تاریخ میں اس پر کسی کو حیرت نہیں کہ اس قانونی اور انتظامی معاملے کو بشکریہ میڈیا ملک کا سب سے بڑا سیاسی مقدمہ بنا دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ قانونی اور ثبوتوں کی بنیاد پر عدالت کے اندر بات کرنے کی بجائے اسے سیاسی نعروں اور بیانات کی بنیاد پر عوامی سطح پر لڑنا شاید زیادہ آسان ہونا ہے۔

٭جے آئی ٹی نے دو ماہ میں کیا کچھ کیا؟

٭ جے آئی ٹی میں کس کس کی پیشی

٭ ’قطری شہزادے کے بغیر جے آئی ٹی نامنظور‘

ان حالات میں حکمراں جماعت کے اندر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے 60 روز مسلسل مشاورتوں کا ایک بظاہر نہ ختم ہونے والا سلسلہ کئی سطحوں پر جاری ہے۔ ہر قسم کے میڈیا پر کڑی نظر بھی رکھی جا رہی ہے۔ جماعت کے اندر مختلف رہنما اور دھڑے مختلف مشورے اور تجاویز دے رہے ہیں لیکن کلیدی فیصلے پارٹی قائد نواز شریف چند قریبی ساتھیوں کی مدد سے ہی کر رہے ہیں۔

جماعت کے رہنماؤں سے گفتگو سے اندازہ ہوا کہ دو اہم نکات پر طویل مشاورت ہوئی ہے لیکن کوئی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

ایک دھڑا جماعت کو کسی اچھی ساکھ کے وکیل کے ذریعے مشترکہ ٹیم کے اب تک کے ان قابل اعتراض اور بقول ان کے قابل گرفت اقدامات کو چیلنج کرنے کی تجویز دے رہا ہے۔

اس پر جماعت کے اندر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔ اس مرتبہ حیرانی کی بات کسی کی بھی جانب سے پاناما کی جاری تحقیقات کے خلاف ایک بھی عوامی مفاد میں پٹیشن کا سامنے نہ آنا ہے۔ فی الحال پٹیشن کی تجویز کو نظر انداز کرتے ہوئے جماعت نے جے آئی ٹی پر زبانی حملے جاری رکھنے پر اکتفا کیا ہے۔

دوسری قابل غور بات یہ کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی صورت میں عام انتخابات کے بارے میں کیا حکمت عملی ہوگی۔ جماعت کے اندر ابھی بعض حلقے اسے قبل از وقت بحث قرار دے رہے ہیں لیکن عدالتی فیصلہ جو بھی سامنے آئے مسلم لیگ کو ایک بڑا فیصلہ کرنا ہوگا جس پر اس کے اتخابی مستقبل کا دارومدار ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جماعت کے اندر یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا عدالتی فیصلہ نواز شریف کے حق میں یا مخالفت میں ہونے کی صورت میں کیا فوری عام انتخابات جماعت کے حق میں ہوں گے یا نہیں۔ بعض لوگوں کے خیال میں یہ جماعت کے فائدے میں ہوگا کہ اگر وہ دونوں صورتوں میں جلد انتخابات کا بندوبست کرلیں۔

ایک پارٹی رہنما کا خیال تھا کہ اس طرح چلنے سے بہتر ہے عوام سے نیا مینڈیٹ لے لیا جائے۔ ’ایک سال بعد کیا حالات ہوں گے کسے معلوم۔ موجودہ حالات میں تو ہم ترقیاتی کاموں پر توجہ ہی نہیں دے رہے ہیں۔‘

جماعت کے خیال میں آئندہ برس مارچ میں سینیٹ کے انتخابات کا انتظار بھی بہتر نہیں ہوگا۔ ’اگر عام انتخابات میں اچھے نتائج سامنے آتے ہیں تو سینیٹ کے الیکشن زیادہ اچھے انداز میں اور زیادہ اعتماد کے ساتھ کرواسکیں گے۔‘

جماعت کا خیال اور اندازے ہیں کہ پارٹی ورکر اس وقت شریف خاندان کے ساتھ ہونے والے ’کڑے احتساب پر نالاں اور غصے میں‘ ہے۔

ایک رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کسی بھی جماعت کے لیے سب سے بڑا اثاثہ یہی ورکر ہوتے ہیں۔ ہم نے پنجاب میں ان ورکروں کی نبض جانچی ہے اور انہیں پرعزم پایا ہے۔ یہ کارکن ہی انتخاب میں کامیاب بنا سکتا ہے۔‘

مسلم لیگ (ن) کے اندر میڈیا پر روزانہ بلکہ ہر گھنٹے آ کر شور شرابے کی پالیسی پر بھی مختلف رائے پائی جاتی ہے خصوصاً وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی مشترکہ کمیٹی کے سامنے پیشی کے بعد غصے سے بھرپور ردعمل پر پارٹی کے اندر خیال ہے کہ اس سے انہیں کم اور مخالف رہنما عمران خان کو زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پارٹی کی انتہائی کوشش ہے کہ میڈیا میں جو بھی کہا جائے انتہائی سوچ بچار کے بعد کہا جائے۔ اس کی مثال مریم نواز کی پیشی سے قبل کی بحث ہے۔ پیشی کے وقت انہیں گھڑی تک نہیں پہننے دی گئی کہ میڈیا قیمتی گھڑی پر تنقید شروع کر دے گا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی واحد پیشی کے وقت مشترکہ کمیٹی کو وہ موقف دیا ہے جس پر جماعت کو اعتماد ہے کہ ’دنیا میں کوئی بھی مجرم قرار نہیں دے سکتا۔‘

پارٹی کا کہنا ہے کہ نہ تو وزیر اعظم کے اثاثوں اور نہ ہی انکم ٹیکس کے گوشواروں میں کوئی ایسی چیز ہے جس پر انہیں سزا ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہی گوشواروں کی سرکاری اداروں نے تصدیق کی ہوئی ہے۔ قطر کے سابق وزیر اعظم حمد بن جاسم کے بیان کے بارے میں بھی مسلم لیگ کا موقف ہے کہ ماضی میں حسین حقانی کے مقدمے میں منصور اعجاز کا بیان اور بےنظیر قتل کیس میں ویڈیو پر بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں تو اب کیوں نہیں؟

کارکنوں کی جانب سے کسی فل بدعی ردعمل کا امکان موجود رہے گا۔ جماعت کی جانب سے جو بھی دھمکیاں اب تک سامنے آئی ہیں ان میں مخالفین کو اسی قسم کے مقدمات کے سامنے کی بات تو حسین نواز نے ایک عاد مرتبہ کی ہے لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

مسلم لیگ (نواز) ایک اہم دوراہے پر کھڑی ہے۔ اس کے مخالفین تو اس کے خلاف کچھ نہ کچھ نکالنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں جسے جماعت اس کے خلاف ’سازش‘ قرار دے رہی ہے، لیکن اسے ہر صورت اپنی بلوغیت کا ثبوت دینا ہوگا۔

اسی بارے میں