اقوام متحدہ: پاکستان سے شہری اور سیاسی حقوق کے معاہدے کی پاسداری کا جائزہ

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جینیوا میں واقع اقوام متحدہ کا دفتر پیلیس ڈی نیشنز

اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق 11 اور 12 جولائی کو جینیوا میں حکومت پاکستان کی جانب سے شہری اور سیاسی حقوق کے معاہدے کی پاسداری کا جائزہ لے گی۔

معاہدے کی پاسداری میں ناکامی کی صورت میں پاکستان کے یورپی ممالک سے ترجیحی تجارتی حیثیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

پاکستان نے 2010 میں انٹرنیشنل کونینٹ آن سِول اینڈ پالیٹیکل رائٹس (آئی سی سی پی آر) کی تصدیق کی تھی جس کے تحت دستخط کرنے والے ممالک پر لازم ہے کہ وہ اپنے ملک میں تمام شہریوں کو ان کے حقوق فراہم کریں۔

دنیا بھر میں سزائے موت میں '37 فیصد کمی'

پاکستان کی قومی سلامتی سب سے مقدم ہے: خواجہ آصف

لیکن دسمبر 2014 میں پاکستان نے اس معاہدے کے ضوابط کے برعکس سزائے موت پر لگائی گئی پابندی ختم کر دی جس کا اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے نوٹس لیا ہے اور یہ پہلا موقع ہوگا جب اس معاہدے کی تصدیق کے بعد پاکستان کا آئی سی سی پی آر کے ضوابط کی پاسداری کے بارے میں جائزہ لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ آئی سی سی پی آر کی تصدیق کرنے سے پاکستان کو یورپی ممالک سے تجارت کرنے کے لیے ترجیحی درجہ جی ایس پی پلس مل گیا تھا جس کے بعد سے پاکستان کا یورپی ممالک سے تجارت کا حجم مسلسل بڑھتا رہا اور پاکستان کی کل برآمدات کا اکیس فیصد حصہ یورپ کو جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) کی سربراہ سارہ بلال نے جینیوا سے بی بی سی کو بتایا کہ کیونکہ 'پاکستان نے اس معاہدے پر دستخط اور اس کی تصدیق کی ہے، اس لیے کمیٹی کے حتمی فیصلے کو ماننا ان پر لازم ہے۔'

سارہ بلال نے مزید کہا کہ 'اگر پاکستان اس معاہدے کی پاسداری ثابت کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو اس کی جی ایس پی پلس کی ترجیحی حیثیت کافی خطرے میں پڑ سکتی ہے جس سے برآمدات کی مد میں حاصل ہونے والی چھ ارب یورو کی کمائی متاثر ہوگی۔'

انھوں نے کہا کہ فیصلے کو نہ ماننے سے اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ 'عالمی برادری کو یہ اشارہ جائے گا کہ پاکستان بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تین سال میں 465 افراد کو پھانسی

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2014 سے لے کر مئی 2017 تک پاکستان نے اب تک 465 افراد کو پھانسی کی سزا دی ہے۔

ان اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں دی جانے والی سزائے موت میں سے 83 فیصد صوبہ پنجاب میں دی گئیں لیکن ان 382 افراد کی سزائے موت کے باوجود صوبے میں قتل کے کیسیز کے تناسب میں صرف 9.7 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ان اعداد و شمار کی مدد سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اب تک دی جانے والی سزائے موت میں سے صرف 16 فیصد افراد کو یہ سزائیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے دی گئی ہیں۔

جے پی پی کے مطابق دسمبر 2014 سے مئی 2017 تک دی جانے والی 465 میں سے بیشتر موت کی سزائیں ڈسٹرکٹ یا سیشن عدالتوں سے دی گئیں اور دہشت گردی کے کیسز ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔

یاد رہے کہ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول میں ہونے والے سانحے کے بعد پاکستان نے ملٹری کورٹ کے قیام کا فیصلہ اور سزائے موت پر لگی پابندی ختم کرنے کا اعلان اس وجہ سے کیا کہ ان سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

لیکن جے پی پی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف خیبر پختون خواہ اور سندھ میں ملٹری کورٹ اور انسداد دہشت گردی کی عدالتیں سزائے موت سنا رہی ہیں جن کی تعداد پنجاب کے مقابلے میں نہایت کم ہیں۔

ان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب کی صرف ان جیلوں میں سزائے موت دی گئی جہاں قیدی گنجائش سے کہیں زیادہ تعداد میں قید ہیں۔

اسی بارے میں