جے آئی ٹی کی رپورٹ آ گئی، اب آگے کیا ہو گا؟

مریم نواز تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption نواز شریف کی بیٹی مریم نواز بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی تھیں

سپریم کورٹ کے احکامات پر پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے جو اپنی حتمی رپورٹ پیر کو جمع کروائی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور ان کے بچوں کے بیانات اور تحقیقات سے جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے طرزِ زندگی اور معلوم آمدن میں بہت فرق ہے۔

اس رپورٹ کے بعد پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم سے فوراً مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ حکومتی وزرا نے اس رپورٹ کو ردی کا ٹکڑا قرار دیا ہے۔

وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے طرز زندگی اور آمدن میں فرق ہے: جے آئی ٹی رپورٹ

جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ردی کا ٹکڑا قرار دے کر مسترد کرتے ہیں: احسن اقبال

'گولی کنپٹی چھوتی گزر گئی'

جے آئی ٹی میں کس کس کی پیشی

سپریم کورٹ اب اس معاملے کی سماعت 17 جولائی کو کرے گی اور عدالت نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ اس سماعت پر نئے دلائل پیش کریں اور پہلے سے کہی گئی باتیں نہ دہرائی جائیں۔

اس معاملے پر بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے کہا کہ اب جبکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آ چکی ہے تو اگلے مرحلے میں جس فریق کے بھی اس پر اعتراضات ہوں گے وہ انھیں تحریری شکل میں سپریم کورٹ میں داخل کرا دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اعتراضات داخل کروانے کی صورت میں ان پر بحث کی جائے گی اور انھی اعتراضات کی روشنی میں معاملے کو سنا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم سے فوراً مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے دس جولائی کو یہ آبزرویشن دی ہے کہ فریقین کے وکلا دلائل کو دہرائیں نہیں بلکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اس پر بحث کریں۔ یہ بحث سننے کے بعد عدالت اس پر کوئی مناسب آرڈر دے سکتی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کے وکلا اگلے چند دنوں میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اپنے مفصل اعتراضات سپریم کورٹ میں داخل کروائیں گے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اس عمل کے مکمل ہونے اور عدالت کا فیصلہ آنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے تو جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے کہا کہ یہ کہنا فی الوقت مشکل ہے۔

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک وکیل کسی ایک نکتے پر بےربط باتیں کر رہا ہے تو اس صورت میں تو اس روکا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ بھاری بھرکم دلائل دے رہا تو پھر اسے روکنا مشکل ہو سکتا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا تھا ’اگر کوئی فریق یہ کہتا ہے کہ ہمارے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے یا یہ یکطرفہ باتیں ہوئی ہیں تو اس صورت میں عدالت اس کے لیے مزید راستہ نکال سکتی ہے کیونکہ عدالت کے پاس اس کا اختیار ہے اور وہ اس بات کی پابند ہے کہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔‘

’اس لیے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا یہ مختصر بھی ہو سکتا ہے اور طویل بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ عدالت ساری باتیں سننے کے بعد یہ کہے کہ ہم اس معاملے کو نیب میں بھیج دیتے ہیں۔‘

اسی بارے میں