’ریاستیں اداروں سے چلتی ہیں شخصیات سے نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پارلیمنٹ میں موجود حزب مخالف کی دو بڑی جماعتوں نے پاناما لیکس سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے بعد وزیراعظم نواز شریف سے جمہوریت کے تسلسل کے لیے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور حزب مخالف کی دوسری جماعت پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی کی طرف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا گیا ہے۔

٭ جے آئی ٹی کی رپورٹ آ گئی، اب آگے کیا ہو گا؟

٭ پاناما کیس مسلم لیگ ن کے لیے چیلنج

٭ ’وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے طرز زندگی اور آمدن میں فرق ہے‘

سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو میاں نواز شریف سے خطرہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ریاستیں اداروں سے چلتی ہیں شخصیات سے نہیں۔

اُنھوں نے مختلف وزرا کی طرف سے ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح سے دنیا بھر میں ملک کی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اُن کے کانوں میں آج بھی میاں نواز شریف کے وہ الفاظ گونج رہے ہیں جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ اگر اس معاملے کی تحقیقات میں اُن پر الزام ثابت ہوا تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دوسری جانب شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اُن کی جماعت کے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے بعد میاں نواز شریف وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے کا اپنا اخلاقی اور سیاسی حق کھو چکے ہیں لہذا اُنھیں فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی کے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد میاں نواز شریف کی نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف حزب مخالف کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت کو ’ٹف ٹائم‘ دے گی۔

اُدھر پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے سینیٹ کا اجلاس طلب کرنے کے بعد درخواست سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کروادی ہے جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لیے جلد ہی درخواست قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروائی جائے گی۔

اسی بارے میں