’نواز شریف استعفیٰ نہیں دیں گے، عدالت کا حکم مانیں گے‘

رانا ثنا اللہ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے تاہم سپریم کورٹ اس حوالے سے جو بھی فیصلہ سنائے گی اسے تسلیم کرے گی۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ردی کا ٹکڑا قرار دے کر مسترد کرتے ہیں: احسن اقبال

وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے طرز زندگی اور آمدن میں فرق ہے: جے آئی ٹی رپورٹ

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ نفرت انگیز دستاویزات، تعصب اور انتقامی کارروائی پر مشتمل ہے۔

بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ قانون نے کہا کہ ہم اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں تاہم سپریم کورٹ اس حوالے سے جو بھی فیصلہ آیا اس کا احترام کریں گے۔

اس سوال پر کہ کیا وزیراعظم مستعفی ہو رہے ہیں یا ہوں گے؟ اس کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نواز شریف اپوزیشن یا جے آئی ٹی کے کہنے پر ہر گز مستعفی نہیں ہوں گے، ان کے مستعفی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ان کا مزید کہنا تھا 'ہم سپریم کورٹ کے حکم پر اپنے تمام تر اعتراضات کے باوجود جے آئی ٹی اس کے سامنے پیش ہوتے رہے۔ ہم اس رپورٹ کے خلاف اپنے اعتراضات پیر کو عدالت میں جمع کروائیں گے، ہمیں امید ہے کہ ہمیں عدالت سے انصاف ملے گا۔'

کیا پاکستان مسلم لیگ فی الفور اسمبلیاں توڑے گی؟ اس سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ نظام اور جمہوریت اپنا راستہ لے اور انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے گذشتہ روز اپنی حتمی رپورٹ میں کہا کہ وزیراعظم اور ان کے بچوں کے رہن سہن اور معلوم آمدن میں بہت فرق ہے۔

سپریم کورٹ اب اس معاملے کی سماعت 17 جولائی کو کرے گی۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم سے فوراً مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ حکومتی وزرا نے اس رپورٹ کو ردی کا ٹکڑا قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں