لاہور: گھریلو ملازم کی ہلاکت، ملزمہ کی ضمانت قبل از گرفتاری

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں 16 سالہ گھریلو ملازم اختر علی کی ہلاکت کے کیس میں ملزمہ فوزیہ بی بی نے ضمانت قبلِ از گرفتاری حاصل کر لی ہے۔

پولیس کے مطابق اختر علی کی لاش پنجاب اسمبلی کی خاتون رکن شاہ جہاں کی رہائش سے برآمد کی گئی جن کی بیٹی فوزیہ بی بی پر لڑکے کے قتل کا الزام ہے۔ فوزیہ بی بی نے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بدھ کی صبح عدالت سے 20 جولائی تک ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اکبری گیٹ کے علاقے میں پیش آیا اور ہلاک ہونے والا 16 سالہ اختر علی فوزیہ نامی خاتون کے گھر پر ملازم تھا۔

* پاکستان کے'غیر محفوظ' بچے

* لاہور: دس سالہ ملازمہ کی موت، مالکن کا اعترافِ جرم

ایس پی سٹی عادل میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو اختر علی کی پورسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے جس سے معلوم کیا جا سکے گا کہ ان پر تشدد کیا گیا تھا یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے میں ایک دن کا وقت لگ سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بظاہر اختر علی کے جسم پر کچھ نشانات پائے گئے جو پرانے معلوم ہوتے ہیں تاہم ان کی نوعیت کی حوالے سے میڈیکل رپورٹ آنے سے قبل حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ عادل میمن نے بتایا کہ ایسے ہی نشانات اختر علی کی بہن عطیہ کے جسم پر بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمہ کا بیان نہیں لیا جا سکا کیونکہ انھوں نے ضمانت حاصل کر لی ہے۔ ان سے تفتیش کا موقع ملنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ مبینہ تشدد کے الزامات کے حوالے سے ان کا موقف کیا ہے۔

ایس پی سٹی عادل میمن کا کہنا تھا کہ مرنے والے لڑکے کی بہن عطیہ نے پولیس کو بتایا کہ اختر علی کے طبیعت خراب ہونے کے بعد فوزیہ بی بی اس کو ہسپتال لے کر گئیں تھی جہاں ان کا ایکس رے بھی کیا گیا تھا۔

’تاہم اس حوالے سے مزید معلومات ملزمہ سے تفتیش کا موقع ملنے کے بعد سامنے آئیں گے۔‘

عادل میمن کا کہنا تھا کہ اگر تشدد کی ثبوت میڈیکل رپورٹ میں سامنے نہ آ سکے تو اختر علی کے اندرونی اعضا کا کیمیکل معائنہ بھی کروایا جا سکتا ہے۔ کیمیکل معائنے سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے کہ مقتول نے کوئی زہر آلود چیز تو نہیں نگلی۔

واضح رہے کہ ہلاک ہونے والے نوجوان اختر علی کے والد محمد اسلم نے اکبری گیٹ پولیس کو بتایا کہ ان کا بیٹا اختر اور بیٹی عطیہ اندرون اکبری گیٹ کی رہائشی فوزیہ بی بی کے گھر پر گذشتہ تین چار سال سے ملازم تھے۔

محمد اسلم کے مطابق اختر علی گذشتہ کچھ عرصے سے اپنے ساتھ فوزیہ بی بی کے ناروا رویے اور مبینہ تشدد کی شکایت کرتے رہتے تھے۔

اوکاڑہ کے رہائشی محمد اسلم نے پولیس کو بتایا کہ انھیں منگل کو اختر علی کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاع ملی جس پر وہ اس کی خیریت دریافت کرنے لاہور آئے۔

محمد اسلم کے مطابق ان کی بیٹی عطیہ نے انھیں بتایا کہ دو روز قبل فوزیہ نے مبینہ طور پر لوہے کی سلاخ اور چمچ کے ساتھ اختر علی کو زدوکوب کیا تھا جس سے وہ زخمی ہو گئے تھے۔

اکبری گیٹ تھانے میں درج رپورٹ کے مطابق محمد اسلم نے الزام لگایا ہے کہ فوزیہ بی بی کے مبینہ تشدد سے آنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ان کا بیٹا اختر علی ہلاک ہوا۔

تھانہ اکبری گیٹ میں ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو واقع کی اطلاع شام چھ بجے کے قریب دی گئی جس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قریبی ہسپتال منتقل کیا جہاں اس کا پوسٹ مارٹم بدھ کو کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان میں گھریلو ملازمین پر تشدد کے متعدد واقعات منظرِ عام پر آئے ہیں جن کا ملک کی اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے نوٹس بھی لیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات