’حکومت اپنے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنا دے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکمراں جماعت نے کہا کہ دباؤ کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف استعفی نہیں دیں گے

پاکستان مسلم لیگ ن نے کہا ہے کہ ان کے خلاف سازشیں پہلی بار نہیں ہوئیں لیکن اس بار سازشیں کرنے والے ضرور بےنقاب ہوں گے۔

حکومت کی ترجمان اور اطلاعات ونشریات کی وزیر مملکت مریم اورنگ زیب نے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز کے ساتھ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ تیار نہیں کی بلکہ تخلیق کی ہے۔

’کیلیبری‘ فونٹ کب آیا تھا؟

جے آئی ٹی نے دو ماہ میں کیا کچھ کیا؟

’وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے طرز زندگی اور آمدن میں فرق ہے‘

’گولی کنپٹی چھوتی گزر گئی‘

اُنھوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں جے آئی ٹی کے ارکان نے سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے 13 سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی بجائے اس ٹیم کے سامنے پیش ہونے والے لوگوں کی کردار کشی کی جو کہ کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔

مریم اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنا دے گی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کل وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں ملک میں موجودہ سیاسی صورت حال پر غور کیا جائے گا جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی طلب کیا جائے گا اور ارکان پارلیمان کو اس ضمن میں اعتماد میں لیا جائے گا۔

حکمراں جماعت نے خواجہ حارث ایڈووکیٹ کی سربراہی میں ایک چار رکنی وکلا کا پینل تشکیل دیا ہے جو پاناما لیکس سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی حتمی رپورٹ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر ایک پٹیشن تیار کرے گا جس میں اس رپورٹ پر اعتراضات کا ذکر کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جے آئی ٹی کی رپورٹ میں نواز شریف کے علاوہ ان کے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کے خلاف بھی کافی مواد ہے

حکومتی وکلا کی یہ ٹیم اگلے چند روز میں اس بارے میں درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروائے گی۔

میاں نواز شریف کی سربراہی میں وزیراعظم ہاؤس میں بدھ کو بھی حکمراں جماعت کا مشاورتی اجلاس جاری رہا جس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پر حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے بھرپور انداز میں قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔

دوسری جانب حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سابق صدر جاوید ہاشمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں صرف سیاست دان ہی قربانیاں دیتے ہیں اور کبھی بھی کسی جج یا فوجی جرنیل کا احتساب نہیں ہوا۔ اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں کئی رکن پارلیمان سمیت اعلیٰ عدالتوں کے ججز اور جرنیل آئین کے تحت صادق اور امین کی شرائط پر پورا نہیں اترتے۔

جاوید ہاشمی نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ کی طرف سے حکمرانوں کو گاڈ فادر اور سیسلین مافیا قرار دینے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جب عدالت کی طرف سے ایسے ریمارکس دیے جائیں گے تو پھر جے آئی ٹی عدالت میں بیٹھے ہوئے ججز کی سوچ پڑھتے ہوئے ہی تفتیش کرے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں