فاٹا اصلاحات کے حامی رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی کو دھمکیاں

الحاج شاہ جی گل آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ National Assembly of Pakistan

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لیے سرگرم رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی کو مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی ہیں جس میں انھیں کہا جا رہا ہے کہ وہ اصلاحات کے ایجنڈے سے دور رہیں۔

خیبر ایجنسی سے منتخب ہونے والے شاہ جی گل آفریدی نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ٹیلیفون پر دھمکیاں دی گئی ہیں کہ معاملے سے دور رہو۔

فاٹا اصلاحات پر اتنڑ اور بھنگڑے

فاٹا اصلاحات: 'استعماری قوتوں کی سازش یا آزادی کا راستہ'

فاٹا اصلاحات کی کہانی: قبائلی کتنے آگاہ ہیں؟

فاٹا اصلاحات کی منظوری پر قبائلیوں کا جشن

انھوں نے دھمکیاں دینے والی تنظیم کا نام تو نہیں لیا لیکن یہ کہا کہ انھیں فون کالز بین الاقوامی نمبر سے کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کے پیچھے کون سی تنظیم یا ایجنسی ہے؟

ایسی اطلاعات ہیں کہ انھیں فون کالز مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم کی جانب سے کی گئی ہیں لیکن شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے یہ کس تنظیم نے کی ہیں؟

انھوں نے کہا کہ انھیں فون کرنے والا شخص پشتو زبان میں بول رہا تھا اور وہ کسی بھی تنظیم سے ہو سکتا ہے۔

رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ انھوں نے اس حوالے سے وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کو اطلاع دی ہے جس کے بعد انھیں مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

شاہ جی گل آفریدی فاٹا اصلاحات کے حوالے سے سرگرم رکن ہیں اور انھوں نے قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضممام کے حق میں تحریک بھی شروع کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ انھیں دھمکی دینے والے شخص کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوششوں سے دور رہو تو بہتر ہے ۔

خیال رہے کہ فاٹا اصلاحات کا بل اس سال مئی میں پارلیمان میں پیش کیا جانا تھا لیکن مولانا فضل آلرحمان اور محمود خان اچکزئی کی مخالفت کی وجہ سے بل پارلیمان میں پیش نہیں کیا جا سکا۔

شاہ جی گل آفریدی کے مطابق وہ ڈرنے والے نہیں ہیں اور ان کی قبائلی علاقوں کی خوشحالی اور اصلاحات کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔

اسی بارے میں