پاکستان کے خفیہ ملحد

تصویر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں ملحد ہونا زندگی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، لیکن ایسے بہت سے لادین بھی ہیں جو ایک دوسرے کی حمایت کے لیے بند کمروں میں ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ جس ملک میں توہین مذہب یا کفر اختیار کرنے پر موت کی سزا ہو سکتی ہے وہاں ایسے لوگ کیسے رہتے ہیں؟

عمر انھی میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنے آبا و اجداد کے عقیدے کو مسترد کر دیا ہے۔ پاکستانی ملحدین جس آن لائن گروپ میں ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں اس گروپ کی تشکیل میں عمر کا بھی ہاتھ ہے۔

ایسے لوگوں کو آن لائن بھی محتاط رہنا ہوتا ہے اسی لیے اراکین جعلی شناخت کا استعمال کرتے ہیں۔ عمر کہتے ہیں: 'آپ کو اس بات کا خيال رکھنا ہوتا ہے کہ آپ کس کو فرینڈ بنا رہے ہیں۔'

پاکستان میں الحاد سے متعلق کسی بھی طرح کی پوسٹ خطرناک نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔ حال ہی میں حکومت نے سائبر جرائم سے متعلق جو قانون منظور کیا ہے اس کے مطابق کسی نجی فورم پر بھی توہین مذہب سے متعلق کوئی بھی پوسٹ غیر قانونی تصور کی جائے گی۔

حکومت نے اس کے لیے اخبارات میں اشتہار جاری کیے ہیں جن میں عوام سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ توہین مذہب سے متعلق کوئی بھی مواد دیکھیں تو اس بارے میں میں وہ متعلقہ حکومتی اداروں کو مطلع کریں۔

اس قانون پر عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔ اس برس جون میں اسی طرح کے ایک مقدمے میں تیمور رضا نامی ایک شخص کو فیس بک پر توہین مذہب سے متعلق مواد شائع کرنے پر موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس پس منظر میں ملحدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ خدا کے وجود پر ان کے سوالات خطرے سے خالی نہیں ہیں۔

عمر کا خیال ہے کہ حکومت نے ملحد بلاگروں کے خلاف تو جیسے جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’میرا ایک دوست مذہبی بنیاد پرستی کے خلاف لکھا کرتا تھا۔ ہم ایک ساتھ مل کر آن لائن گروپ چلاتے تھے۔ مجھے پتہ چلا کہ اسے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گيا۔ ایک بار اگر آپ کو اغوا کر لیا گیا تو زیادہ امکانات اس بات کے ہیں کہ آپ کی لاش بوری میں بند ملے گی۔

'حکومت یہ دانستہ طور پر کر رہی ہے تاکہ جو لوگ بچے ہیں ان کو بھی یہ پیغام مل جائے کہ اگر آپ نے حد پار کی تو آپ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔ '

اس برس ملحدین کی حمایت اور حکومت مخالف فورمز پر پوسٹ کرنے کی وجہ سے چھ کارکنان کو گرفتار کیا گيا ہے۔ ان میں سے ایک کارکن نے بی بی سی سے اس بارے میں بات کی لیکن نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر۔

ان کے مطابق حکومت اس خیال کو نافذ کرنا چاہتی ہے کہ اچھے شہری کا ایک اچھا مسلمان ہونا ضروری ہے۔

حالانکہ پاکستان میں تکنیکی سطح پر الحاد غیر قانونی نہیں ہے لیکن بعض فقہا کی نظر میں کفریہ عقیدے کا حامل شخص موت کی سزا کا مستحق ہے۔ اس روشنی میں کھل کر اس پر بات کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

بہت سے ایسے پاکستانی جو ملحد ہیں، چھپ کر ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ لاہور کے ایسے ملحد محفوظ نجی مکانوں میں خفیہ طور پر ہر ماہ ملتے ہیں۔

ان میں سے ایک شخص نے بتایا: 'یہ ایک خفیہ کمیونٹی ہے، جہاں ہم بات کر سکتے ہیں۔ یہاں ہر طرح کی بات ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ آزادانہ طور پر جو کہہ سکتے ہیں وہ کہنا چاہتے ہیں۔'

الحاد پرستوں کی ایسی خفیہ میٹگوں میں حصہ لینے والے ایسے بیشتر افراد کا تعلق شہر سے ہوتا ہے جو انگریزی میں آسانی سے بات کر سکتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد کا تعلق مراعات یافتہ طبقے سے ہے لیکن کچھ لوگوں کا تعلق دیہی علاقوں سے بھی ہے۔

ظفر ایک وقت گاؤں کی ایک مسجد میں موذن تھے۔ وہ پنج وقتہ نمازی تھے اور مذہبی تعلیم دلچسپی لیتے تھے۔ لیکن آئی ٹی جاب اختیار کرنے کے بعد جب وہ اپنے گاؤں سے باہر آئے تو انھیں لگا کہ ان کے خیالات بالکل تبدیل ہو گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'میرے اہل خانہ کو مجھ میں تبدیلی نظر آئی۔ میری ماں کو لگا کہ مجھے کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ مجھے پھر پینے کے لیے دم کیا ہوا پانی اور کھانے کے لیے دم کیا ہوا کھانے دیا جانے لگا۔ ان کو لگا اس سے نظر بد دور ہو جائے گی۔

'آج کل میں جمعے کی نماز، یا عید کی نمازوں کے لیے بطور رسم جاتا ہوں۔ میرے خاندان کو پتہ ہے کہ میں مذہب میں اعتقاد نہیں رکھتا لیکن جب تک میں اس بارے میں بہت زیادہ شور نہیں مچاتا وہ مجھے جگہ دے دیتے ہیں۔'

ظفر کا کہنا ہے: 'اگر آپ بعض چیزیں کرنے کے لیے تیار ہیں، جیسے ادب آداب، والدین کا احترام اور عوام میں مناسب رویہ، تو پھر آپ ملحد رہ کر بھی آرام سے رہ سکتے ہیں۔'

اس سلسلے میں جب وزارت انفارمیشن و ٹیکنالوجی سے بات کرنے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم سے متعلق قوانین کا مقصد لوگوں میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ لیکن انھوں نے اغوا کی وارداتوں کے سلسلے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں