کوئٹہ:پولیس کی گاڑی پر حملہ، ایس پی سمیت چار اہلکار ہلاک

سید مبارک شاہ تصویر کے کاپی رائٹ KHAIR MUHAMMAD

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایس پی قائد آباد سمیت پولیس کے چار اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

کوئٹہ پولیس کے ترجمان نے بی بی سی اردو کے محمد کاظم کو بتایا کہ ایس پی قائد آباد سید مبارک شاہ کی گاڑی کو جمعرات کی صبح کلی دیبہ نامی علاقے میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ گھر سے دفتر کی جانب جارہے تھے۔

چمن میں دھماکے کے نتیجے میں ایس ایس پی ہلاک، 11 زخمی

پولیس ترجمان کے مطابق مسلح حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے جو کہ فائرنگ کرنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں ایس پی مبارک شاہ اور ان کے تین محافظ ہلاک اور ڈرائیور زخمی ہوا ہے۔

اس واقعے کے بعد پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

یہ گذشتہ چار روز کے دوران دوسرا واقعہ ہے جس میں بلوچستان کی پولیس کے افسران کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ KHAIR MUHAMMAD

اس سے قبل دس جولائی کو چمن میں پولیس اہلکاروں پر ایک خودکش حملے میں ایس پی قلعہ عبد اللہ ساجد مہمند سمیت دو اہلکار ہلاک اور 12 زخمی ہوئے تھے ۔

رواں سال کے دوران کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں پولیس اہلکاروں مجموعی طور پر آٹھ حملے ہو چکے ہیں جن میں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

گذشتہ سال بھی بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے دیگر واقعات میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں 150 سے زائد پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں