ٹین ڈبے والے کا نواز شریف سے شکوہ

Image caption ان کباڑی ریڑھی والوں کے علاقے تقسیم ہوتے ہیں جہاں اور کوئی پھیری نہیں لگا سکتا

’ٹین ڈبے والا، بھوسی ٹکڑے والا‘ پاکستان کا شاید ہی کوئی چھوٹا بڑا شہر ہو جس کی گلیوں میں یہ آواز نہ آتی ہو۔ ہزاروں ریڑھی والے اسی طرح صبح سویرے اپنی آمد کا اعلان کرتے ہوئے گلیوں میں گشت کرتے ہیں اور اپنی روزی کماتے ہیں۔

عبدالغفور بلوچ ابراہیم حیدری کراچی کے رہائشی ہیں اور محمود آباد میں کباڑ کا کام کرتے ہیں وہ صبح 8 بجے گھر سے نکلتے ہیں اور شام 6 بجے تک محمود آباد کی مخصوص گلیوں میں چکر لگاتے ہیں۔ ان کباڑی ریڑھی والوں کے علاقے تقسیم ہوتے ہیں جہاں اور کوئی پھیری نہیں لگا سکتا۔

سندھ سالِڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا اندازہ ہے کہ 2 کروڑ سے زائد آبادی کے اس شہر میں 12 ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، لیکن یہ وہ کچرا ہے جو بورڈ اور میونسپل کارپوریشن کی گاڑیاں اٹھاتی ہیں جبکہ ان گاڑیوں کے اٹھانے سے قبل گھروں کا کباڑ، گتا، ردی، پلاسٹک کی اشیا یہ پھیری والے لے جاتے ہیں۔

Image caption ردی اور کباڑ سے ملنے والے چیزوں کے بھاؤ الگ الگ ہیں

عبدالغفور بلوچ تقریباً 18 سال سے یہ کام کر رہے ہیں، اس سے قبل وہ ماہی گیری کیا کرتے تھے اسی دوران وہ بھارتی نیوی کے ہاتھوں پکڑے بھی گئے اور 6 ماہ کی قید کاٹنا پڑی۔

’بڑی کشتیاں بہت دور نکل جاتی ہیں، کبھی انڈیا کی طرف چلی جاتی ہیں اس میں بڑا وقت لگتا ہے اور دس ہزار روپے تک ملتے ہیں جس سے گذارہ بھی نہیں ہوتا۔ یہاں شکر ہے کہ کبھی تین سو تو کبھی چار سو یا پانچ سو بن ہی جاتے ہیں۔

عبدالغفور بلوچ بتاتے ہیں کہ گھروں سے وہ ردی، لوھا، پلاسٹک اور باسی روٹیاں ملتی ہیں، پلاسٹک وہ 15 روپے کلو، لوہا 20 روپے کلو، باسی روٹیاں 12 روپے کلو جبکہ اردو اخبار، کاپیاں اور کتاب 10 روپے کلو اور انگریزی اخبار 15 روپے کلو میں خرید لیتے ہیں، تاہم انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ انگریزی اخبار کی ردی مہنگی کیوں خریدی کی جاتی ہے۔

Image caption سندھ سالِڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا اندازہ ہے کہ 2 کروڑ سے زائد آبادی کے اس شہر میں 12 ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے

محمود آباد کی گلیوں میں کئی ریڑھی والے کباڑیے نظر آئے، عبدالغفور بلوچ کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کی وجہ سے کباڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جس وجہ سے ان کا دھندا کم ہورہا ہے۔

گرمی ہو سردی، بارش یا طوفان یہ کباڑیوں کی ریڑھی چلے گی تو ان کے گھر کا چولھا جلے گا۔ عبدالغفور بلوچ کا کہنا ہے کہ اگر شہر کے حالات خراب ہوں تو پھر گھر میں بیٹھ جاتے ہیں، ان برے حالات کے لیے وہ روزانہ 10 روپے نکال کر الگ رکھتے ہیں اور اس میں سے بچوں کی دال روٹی حاصل کرتے ہیں۔

محمود آباد نمبر تین میں عبدالغفور بلوچ ہول سیل کباڑیے کو دن بھر کا جمع کباڑ، ردی اور پلاسٹک فروخت کرتے ہیں، سیٹھ اسلم کے پاس 9 ریڑھیاں ہیں وہ عبدالغفور بلوچ جیسے پھیری والوں کو یہ ریڑھی اور ساتھ میں ایک ہزار روپے نقد دیتے ہیں۔ جو سامان ملتا ہے، اس کا حساب کا کاٹ کر باقی رقم اسلم سیٹھ کو واپس کی جاتی ہے۔

بدھ کو سارا دن گلیوں کے چکر لگانے کے بعد بھی عبدالغفور کو زیادہ تر باسی روٹیاں، کچھ پلاسٹک کی بوتلیں، ردی اور گھی کے چند ڈبے ملے۔ جو سب کچھ چار سو روپے میں سیٹھ کو فروخت کیے ساتھ میں 600 روپے واپس کردیے جو اس نے ایڈوانس لیا تھا۔

Image caption عبدالغفور بلوچ تقریبا 18 سال سے یہ کام کر رہے ہیں

’یو سمجھیں کہ ہم جو اٹھارہ روپے کلو چیز لیتے ہیں وہ بیس روپے میں فروخت ہوتی ہے اور جو 18 روپے میں ملتی ہے وہ پندرہ میں فروخت کرتے ہیں۔ عام طور پر سب سے زیادہ ردی اور باسی روٹیاں ملتی ہیں لوہا بہت ملتا ہے۔‘

عبدالغفور بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ بہت مشکل کام ہے روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے پیدل چلنا پڑتا ہے اور ساتھ میں آوازیں بھی لگانی ہوتی ہیں۔ ان کاگذارہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ 70 روپے بس کا کرایہ لگ جاتا ہے اگر وہ کھانا کھائیں تو خرچہ 150 رپے تک پہنچ جاتا ہے جو باقی رقم بچتی ہے وہ گھر لے جاتے ہیں۔

ریڑھی والوں سے کباڑ وغیرہ کی خریداری کے صرف محمود آباد میں ہی 3 مراکز ہیں، جہاں اس کباڑ، دھات اور دیگر اشیا کی چھانٹی کرکے الگ کیا جاتا ہے۔ پلاسٹک اور دھات زیادہ تر پنجاب جاتی ہے جہاں فیکٹریاں ری سائیکل کرکے استعمال میں لاتی ہیں جبکہ باسی روٹیاں مال مویشی کے چارے میں استعمال ہوتی ہیں۔

Image caption پلاسٹک اور دھات زیادہ تر پنجاب جاتی ہے جہاں فیکٹریاں ری سائیکل کرکے استعمال میں لاتی ہیں

عبدالغفور بلوچ کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کی جے آئی ٹی کے فیصلے پر خوش نظر آئے، جس میں میں شریف خاندان پر آمدن سے زائد زندگی گذرانے اور خفیہ ذارئع سے آمدنی بنانے کے الزامات تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف جب بھی حکومت میں آتے ہیں ان کا دھندا متاثر ہوتا ہے، کیونکہ اسکریپ کی قیمتیں گر جاتی ہیں اور انہیں کھانے کے لالے پڑجاتے ہیں۔ واضح رہے کہ شریف خاندان کئی اسٹیل ملز کا مالک بھی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں