میں مستعفی نہیں ہوں گا: وزیر اعظم نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے بعد پہلے کابینہ اجلاس میں مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے وفاقی کابینہ کو پاناما اور جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ الزامات، بہتان اور مفروضوں کا مجموعہ ہے۔

نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی

کیلیبری فونٹ کا صفحہ 18 جولائی تک ناقابل تدوین

’اس بار سازشیں کرنے والے ضرور بےنقاب ہوں گے‘

’ریاستیں اداروں سے چلتی ہیں شخصیات سے نہیں‘

انھوں نے استعفے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نواز نے انتخابات میں ان تمام جماعتوں کے مجموعی ووٹوں سے زیادہ ووٹ لیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دیں گے کیونکہ انھیں پاکستان کی عوام نے منتخب کیا ہے اور عوام ہی انھیں عہدے سے ہٹا سکتی ہے۔

کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ وہ کسی کے کہنے پر مستعفی نہیں ہوں گے۔ کابینہ نے ان کے مستعفی نہ ہونے کے فیصلے کی توثیق کی۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں جتنے بھی الزامات لگائے گئے ہیں وہ ان کے خاندانی کاروبار سے متعلق ہیں اور ان کے خاندان نے سیاست میں آنے کے بعد کچھ نہیں کمایا بلکہ کھویا بہت کچھ ہے۔

انہوں نے دہرایا کہ ملک میں اربوں اور کھربوں کے منصوبے چلا رہے ہیں مگر کسی میں بھی کرپشن سامنے نہیں آئی۔

اسی بارے میں