تمہارے خط میں نیا وہ فونٹ کس کا تھا؟

مریم نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاناما جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اگر سب سے زیادہ کچھ موضوعِ بحث رہا تو وہ بلاشبہ کیلیبری فونٹ تھا

سوشلستان میں پاناما اور جے آئی ٹی کی دھماکے دار انٹری جس کے بعد سے جعلی ٹوئٹر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس آج کل ڈبل شفٹ پر کام کر رہے ہیں۔

دن کو جرمن صحافی رات کو پاکستانی تجزیہ کار کے روپ میں رائے عامہ ہموار کرنے کی سر توڑ جنگ جاری ہے۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ کے ٹوئٹر اکاؤنٹس سے تعریفی ٹویٹس کی جا رہی ہیں۔

مگر ہم اس ہفتے کے سوشلستان میں کچھ نمونے پیش کریں گے کہ ہمارے سوشلستان کے باسیوں نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو کس طرح لیا۔

جے آئی ٹی ٹارگٹ

محمد وقاص اقرار نے لکھا 'اگر رینجرز سے کراچی میں امن اور سی ٹی ڈی مقابلوں، فوجی عدالتوں سے دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے تو جے آئی ٹی سے کرپشن بھی پکڑی جا سکتی ہے۔'

جے آئی ٹی پر 'میڈیا کے لیے تماشا لگانے' کے الزامات بھی لگائے گئے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافی سید طلعت حسین نے لکھا 'تو جے آئی ٹی ڈبے لے کر سپریم کورٹ پہنچی ہے جن پر سرخ الفاظ میں 'ثبوت' کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں تاکہ سارے کیمرے انہیں فلم کر سکیں۔ میڈیا کے لیے زبردست شو۔'

اور اسی میڈیا شو کا حصہ وہ تمام تصاویر تھیں جن میں حیرت انگیز طور پر جے آئی ٹی کے سویلین اراکین کی تصاویر لگا لگا کر انھیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔

معروف وکیل عاصمہ جہانگیر نے لکھا 'جی آئی ٹی کی ٹیم کے بارے میں سوشل میڈیا پر اتفاق رائے ہے کہ وہ ہیروز ہیں تو انھیں تمام اداروں کے سربراہ بنا دیں اور ہم ہنسی خوشی زندگی بھر جئیں گے۔ اور کون ہے جو جے آئی ٹی کی ماہرانہ پھرتیوں سے غیر متفق ہو۔ ہمیں ان کو لوڈ شیڈنگ کے خاتمے، دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے ڈھونڈنے اور انصاف کی یقینی فراہمی کے کام پر لگانا چاہیے۔'

عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بشریٰ گوہر نے لکھا 'سُپر ڈریم جے آئی ٹی کو مفرور جنرل مشرف کی منی ٹریل کی تحقیقات پر لگایا جانا چاہیے۔ نیب اور متعلقہ ادارے بند کردیں۔'

سلمان علی خان نے ٹویٹ کی 'مسلم لیگ کو توقع تھی کہ جے آئی ٹی نواز شریف کی پاک سیرت کے بارے میں تھیسس تیار کرے گی مگر جے آئی ٹی نے شان میں گستاخی کردی۔'

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر لوگ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں پائے جانے والے سقم بھی سامنے لا رہے ہیں جیسا کہ رپورٹ میں ایک سے زیادہ جگہ لکھا ہوا ہے 'اگر یہ سوال پوچھ لیا گیا ہے تو ٹھیک ورنہ ڈیلیٹ کر دیں۔'

سارہ جاوید نے پوچھا 'جے آئی ٹی کی رپورٹ کی اصلیت سامنے آ گئی ہے۔ کس نے لکھی ہے یہ رپورٹ'؟

اور رانا ثنا اللہ کے بیان کو بھی متعدد بار شیئر کیا گیا جس میں انھوں نے رپورٹ بنانے والوں کو نشانہ بنایا 'جس طرح رپورٹ بنائی گئی ہے اس سے لگتا ہے یہ جن آئی ٹی تھی۔'

سوشل میڈیا پر صرف سیاستدانوں کے احتساب پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جیسا کہ عاصمہ جہانگیر نے لکھا 'شاباش پاکستان میں احتساب کا زبردست نظام ہے۔ یہ منتخب وزارئے اعظم سے شروع ہوتا ہے اور سیاستدانوں تک اور یہیں ختم ہوتا ہے۔'

عمار مسعود نے ٹویٹ کی 'ہر شخص کوپکڑا جا سکتا ہے ہر ادارےکےخلاف کاروائی ہو سکتی ہے ہرکسی کو مجرم ثابت کیا جاسکتا ہے بس تصویر لیک کرنے والے شخص کا نام کوئی نہ پوچھے۔'

محسن حجازی نے لکھا 'متمنّی انقلاب نونہالانِ ملّت کے لیے بس یہی اشارہ ہے کہ جو لے دے کر ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑ سکتے ہیں وہ نوازشریف کو بھی چھوڑ دیں گے۔'

اور فونٹ پر بہت بحث ہو چکی مگر اس کے ساتھ جو کچھ سوشل میڈیا پر لکھا جا چکا ہے وہ اپنے ذات میں ایک علیحدہ مضمون مانگتا ہے جیسے محسن ہی نے لکھا 'تمہارے خط میں وہ نیا فونٹ کس کا تھا؟۔'

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ @Mirsana05
Image caption پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان ثنا میر کو سو میچز مکمل کرنے پر سابق آسٹریلوی کپتان لیسا سٹھالیکر نے کیپ پیش کی
تصویر کے کاپی رائٹ Iran Air
Image caption ایران کی قومی فضائی کمپنی ایران ایئر نے فرزانہ شرف بافی کو کمپنی کی نئی سربراہ کے طور پر تعینات کیا ہے جو کمپنی کی پہلی خاتون سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ پہلی ایرانی خاتون ہیں جنہوں نے ایروسپیس انجنیئرنگ میں پی ایچ ڈی کی